سيرت آل محمد (عليهم السلام)
مؤلف : آیۃ اللہ شهید مرتضيٰ مطہرى
مترجم : عابد عسكری
ناشر : اداره منهاج الصالحین
·مقدمہ
·حضرت علي عليہ السلام كي مشكلات
·شھادت علي عليہ السلام
·صلح امام حسن عليہ السلام (1)
·صلح امام حسن عليہ السلام (2)
·حضرت امام زين العابدين عليہ السلام
·امام جعفر صادق (ع) اور مسئلہ خلافت (1)
·امام موسيٰ كاظم (ع) كي شھادت اور اس كے محركات
·مسئلہ ولي عھدي امام رضا (ع) (۱)
·مسئلہ ولي عھدي امام رضا (ع) (۲)
·امام حسن عسكري (ع) كے بارے ميں چند باتيں
·حضرت امام مھدي عليہ السلام
مقدمہ
حرف ناشر
كتاب "سيرت آل محمد (ص) " پيش خدمت ھے يہ كتاب ايك مقدمہ اور آٹھ فصول پر مشتمل ھے ۔اس كا فارسي نام"سيري در سيرہ آئمہ اطھار (ع) "تھا اور يہ ايران كے معروف نشرياتي ادارے انتشارات صدرا"كي شائع كردہ ھے ۔ھم نے اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے قارئين كي آساني اور تشفئي ذوق كے لئے اس كا نام سيرت آل محمد (ص) ركھا ھے ۔يہ كتاب ايران ميں اب تك بيس مرتبہ شائع ھو چكي ھے۔ يوں تو شھيد مطھري (رح) كي تمام كتب وقيع اور گرانقدر ھيں ليكن اس كتاب كي اپني ايك الگ خوشبوھے ۔اس كا مطالعہ كرنے سے نئے نئے مطالب سامنے آتے ھيں ۔آپ جس امام (ع) كي بھي سيرت كا مطالعہ كريں گے آل محمد (ص) كي پاكيزگي كردار كو ديكھ كر حيران رہ جائيں گے ۔يہ كتاب جھاں علمي كتب كے مطالعہ كے شائقين كے ليئے تاريخي معلومات كا سبب بنتي ھے وھاں آل محمد (ص) سے عقيدت و محبت ميں اضافہ اور تازگي ايمان كا باعث بنتي ھے ۔يہ خوبصورت اور معلوماتي كتاب آيتہ اللہ شھيد مطھري (رح) كي فكر انگيز تقارير كا مجموعہ ھے آپ نے مختلف مقامات پر مختلف خطابات كئے تھے۔ انتشارات صدرا كي محترم انتظاميہ نے ان تقارير كو اكٹھا كر كے ايك كتاب كي صورت ميں شائع كرديا اور يوں ايك بہت بڑا علمي ذخيرہ ھميشہ كے ليئے محفوظ كرديا گيا ۔پہلي فصل ميں حضرت علي عليہ اسلام كي مشكلات پر روشني ڈالي گئي ۔جناب امير المومنين (ع) كي سيرت طيبہ اور آپ كا صبر واستقامت اور ديگر بے شمار خوبيوں كو پڑھ كر انسان دم بخود رہ جاتا ھے اور بيساختہ زبان سے جو جملہ نكلتا ھے وہ يہ ھے كہ"علي (ع) سازمانہ ميں كوئي نھيں ھے"۔
چوتھي فصل ميں امام جعفر صادق عليہ اسلام كے بارے ميں بحث كي گئي ھے كہ فقہ جعفريہ كے اس جليل القدر تاجدار نے علمي وديني اور تحقيقي فكري حوالے سے ايسے ايسے كارنامے انجام ديئے كہ روح محمد (ص) پكار اٹھي كہ جعفر صادق (ع) جيتے رھو ۔شھيد مطھري (رح) نے امام رضاعليہ السلام كي سرزمين خراسان ميں تشريف آوري اور ولي عھدي كے مسئلہ كو جس خوبصورت انداز ميں پيش كيا ھے وہ اپني مثال آپ ھے ۔پھر آپ نے امام موسيٰ كاظم عليہ اسلام كي مجاھدت اور طويل اسيرانہ زندگي كو اس طرح بيان كيا ھے كہ راہ حق كي خاطر قيد ھونے والے شرم كي بجائے فخر محسوس كرنے لگيں ۔ھم سلام پيش كرتے ھيں ان مجاھد اسيروں كو جو مذھب آل محمد (ص) كي خاطر ايك طويل عرصہ سے پابند سلاسل ھيں۔ اس كے بعد ديگر ائمہ طاھرين عليھم السلام كي سيرت طيبہ كو دوسرے مورخين اور تجزيہ نگاروں سے ھٹ كر پيش كيا ھے ۔دشمنان اھلبيت (ع) نے غلط پرو پيگنڈہ كر كے تاريخي فضا كو مسموم كرديا تھا ۔شھيد مطھري (رح) كي يہ فكر انگيز تقارير پڑھنے سے تعلق ركھتي ھيں "اگر چہ سيرت اھلبيت (ع) كو بيان كرنا اور اس كو كما حقّہ، حيطئہ تحرير ميں لانا بشري طاقت سے باھر ھے تاھم ھم نے سمندر ميں سے ايك قطرے كو سامنے لاكر مذھب حقہ كي خدمت كرنے كي ايك ناچيز سي كوشش كي ھے۔ آخر ميں ھم ممتاز دانشور علامہ عابد عسكرى فاضل قم دامہ ظلہ كے شكر گزار ھيں كہ جنھوں نے سيرت آل محمد (ص) كا آسان اور سليس ترجمہ كركے ملت جعفريہ كي علمي خدمت كا حق ادا كرديا ھے ۔موصوف ايك صاب طرز اور نئے اسلوب كے مالك باصلاحيت لكھاري ھيں۔اميد كي جاتي ھے كہ آل محمد (ص) كي (ص) كي محبت كے اسير اور علي (محمد محمد كي محبت كے اسير اور علي (ع) علي (ع) كا دم بھرنے والے مومنين كرام اس كتاب كو پسند فرمائيں گے جھاں تك علوم محمد و مومنين كرام اس كتاب كو پسند فرمائيں گے جھاں تك علوم محمد وآل محمد (ص) كا پيغام پھيلاناتھا اس كے لئے ھم نے حتي الامكان اپنا فرض پورا كرديا ھے اب موجودہ اور آنے والي نسلوں كي ذمہ داري ھے كہ وہ اس سے كس طرح استفادہ كرتے ھيں اور كس طرح اس پر عمل پيرا ھوتے ھيں ۔اللہ تعالي ھماري اس كاوش كو قبول فرمائے۔ شہيد مطہري (رہ) كے درجات بلند فرمائے "اور ہميں توفيق دے كي ہم اس سلسے ميں مزيد كام كرتے رھيں (آمين)
دعا گو: رياض حسين جعفرى، لاھور
حضرت علي عليہ السلام كي مشكلات
و من كلام لہ عليہ السلام دعوني والتمسو غيري فانّا مستقبلون امرا لہ وجوہ الوان لا تقوم لہ القلوب ولا تثبت عليہ العقول و انّ الافاق قد اغامت المحجۃ قد تنكرت و اعلمو انّي ان اجبتكم ركبت بكم ما اعلم 1
"يعني مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت كے لئے) ميرے علاوہ كوئي اور ڈھونڈ لو، ھمارے سامنے اب معاملہ ھے جس كے كئي رخ اور كئي رنگ ھيں جسے نہ دل برداشت كر سكتے ھيں اور نہ عقليں اسے مان سكتي ھيں " ديكھو افق عالم پر گھٹائيں چھائي ھوئي ھيں " راستہ پہچاننے ميں نھيں آتا، تمھيں معلوم ھونا چاھئے كہ اگر تمھاري خواھش كو مان لوں تو تمھيں اس راستے پر لے چلوں جو ميرے علم ميں ھے ۔"
اس ميں كوئي شك نھيں كہ حضرت علي عليہ السلام دوسرے خلفاء كي موجودگي اور ان كے بعد بھت زيادہ مشكلات ميں تھے آپ كو كسي لحاظ سے بھي چين سے رھنے نہ ديا گيا " طرح طرح كي شورشيں اور سازشيں آپ كے ارد گرد خطرہ بن كر منڈ لاتي رھيں۔ عثمان كے قتل كے بعد لوگوں كا ايك انبوہ آپ كے دردولت پر حاضر ھوا اور اصرار كيا كہ وہ امام (ع) وقت كے طور پر زمام حكومت اپنے ھاتھ ميں ليں ليكن امام عليہ السلام خاموش رھے اور انتھائي دكھي انداز ميں فرمايا۔
"دعوني والتمسوا غيرى"
"مجھے چھوڑ دو خلافت كےلئے ميرے علاوہ كوئي اور ڈھونڈھ لو"
اس سے يہ مقصد نھيں ھے كہ معاذاللہ حضرت اپنے آپ كو خلافت رسول (ص) كا اھل نھيں سمجھتے تھے بلكہ آپ تو مسند رسول (ص) پر بيٹھنيے كے لئے سب سے زيادہ مستحق وسزاوار تھے، پھر فرمايا :
"فانا مستقبلون امر الہ وجوہ والوان"
"يعني ھمارے سامنے ايك اور معاملہ ھے جس كے كئي رخ اور كئي رنگ ھيں ۔"
اس جملے كي وضاحت كرتے ھوئے امام عليہ السلام فرماتے ھيں:
"وان الافاق قد اغامت"
كہ ديكھو افق عالم پر گھٹا ئيں چھائي ھوئي ھيں"
والمحجۃ قد تنكرت"
كہ راستے پہچانے نھيں جاتے"
آپ اسي خطبہ ميں مزيد فرماتے ھيں:
"واعلموا اني ان اجبتكم ركبت بكم ما اعلم"
تمھيں معلوم ھونا چاھيے كہ اگر ميں تمھاري اس خواھش كو مان لوں تو تمھيں اس راستے پہ لے چلوں گا جو ميرے علم ميں ھے۔"
اور اس كے متعلق كسي كھنے والے كي بات اور كسي ملامت كرنے والي كي سرزنش پہ كان نھيں دھروں گا اور اگر تم ميرا پيچھا چھوڑ دو تو پھر جيسے تم ھو ويسے ميں ھوں"اور ھو سكتا ھے كہ جسے تم اپنا امير بناؤ اس كي ميں تم سے زيادہ سنوں اور مانوں اور ميرا (تمھارے دينوي مفاد كے لئے) امير ھونے سے وزير ھونا بھتر ھے ۔
امام عليہ السلام كے اس قول سے بخوبي اندازہ ھوتا ھے كہ آپ كس قدر مشكل حالات ميں گھرے ھوئے تھے ۔ميں ايك نشست ميں ان تمام مشكلات كے بارے ميں تفصيل سے گفتگو نھيں كرسكتا ۔في الحال حضرت علي عليہ اسلام كي ايك "مشكل "بتاتا ھوں كہ جو آپ كے لئے پوري سوسائٹي كے لئے اور مسلمانوں كے لئے بہت زيادہ مشكل تھي ۔
عثمان كا قتل
مولائے كائنات حضرت علي عليہ السلام كے لئے سب سے پہلي مشكل عثمان كا قتل تھا ۔اس لئے تو امام عليہ السلام نے فرمايا تھاكہ ابھي بہت سي مشكلات نے آنا ھے ۔طرح طرح كي مصيبتيں اور پريشانياں عفريت كي مانند اپنا اپنا منہ كھولے ھوئے ھيں ۔حضر علي (ع) اس حالت ميں مسند خلافت پر تشريف لاتے ھيں كہ ان سے پيشرو خليفہ كو چند نامعلوم افراد نے اس لئے قتل كرديا كہ اس كي تمام تر ذمہ داري حضرت علي (ع) پر پڑے۔ عثمان كے قاتلوں نے ان كي تدفين كے وقت بيشمار اعتراضات كيے اب وھي گروہ حضرت علي (ع) كے ارد گرد جمع تھے "ايك طرف قاتلين عثمان دوسري طرف عثمان كي محبت كا دم بھرنے والے لوگ جو حجاز "مدينہ"بصرہ" كوفہ اور مصر سے آئے ھوئے تھے ۔اور ان كے جذبات واحساسات ميں ايك طرح كا طوفان برپا تھا ۔
حضرت علي عليہ السلام دو گروھوں كے درميان انتھائي حيرانگي كے عالم ميں سوچ رھے تھے كہ وہ كريں تو كيا كريں "اگر كسي خاص گروہ كي حمايت كرتے تو بھي ٹھيك نھيں تھا كسي كي مخالفت كرتے تب بھي موقعہ محل كے خلاف تھا ۔ ھو سكتا ھے كہ حضرت علي عليہ السلام عثمان كي كچھ پاليسيوں كے مخالف ھوں۔اختلاف رائے ايك طرف ليكن يہ اختلاف ايسا نہ تھا كہ حضرت علي عليہ السلام عثمان كے قتل كي خواھش كريں يا ان كے قتل ميں كسي قسم كي مداخلت كريں آپ صلح جو" امن پسند شخصيت تھے ۔آپ نے اپني شھرہ آفاق كتاب نھج البلاغہ ميں عثمان كے قتل كا چودہ مرتبہ تذكرہ كيا ھے ۔دراصل يھي تذكرہ اس بات كا ثبوت ھے كہ آپ امن وآشتي كے كس قدر حامي اور طرف دار تھے ۔عثمان كے قتل سے قبل اور قتل كے بعد آپ كا رويہ انتھائي صلح جو يانہ رھا ۔آپ صبر واستقامت كي زندہ مثال بن كر بھپرے ھوئے حالات اور بكھرئے ھوئے لوگوں كو ايك جگہ پر اكٹھا كرنے اور متحد كرنے كي كوشش كر رھے تھے ۔
عثمان كے قتل كے بعد لوگ طرح طرح كي باتيں كر رھے تھےكو ئي اس قتل كے خلاف سراپا احتجاج نظر آرہا تھا، كوئي ان كي مخالفت كي وجہ سے تبديلي خلافت پر اطمينان كا سانس لے رہا تھا، كہ آپ نے خليفئہ وقت اور حاكم اسلامي ھونے كے ناطے سے كسي خاص گروہ كي حمايت نھيں كي بلكہ آپ كي كاوشوں اور كوششوں كا مركز صرف ايك تھا كہ جيسے ھي بن پڑے اختلاف وتفرقہ كي فضا ختم ھو كر خوشگوار اور پرامن ماحول ميں تبديل ھو ۔حضرت علي عليہ السلام بخوبي جانتے تھے كہ عثمان كے قتل سے بے شمار مسائل كھڑے ھوں گے ۔اور يھي قتل اسلام اور مسلمانوں كے اختلاف كي سب سے بڑي وجہ اور سبب بنے گا۔ آخر وھي ھوا جس كا آپ نے نھج البلاغہ ميں خدشہ ظاھر كيا تھا۔ آج جب ھم تاريخ اسلام كا مطالعہ كرتے ھيں تو يھي حقيقت روز روشن كي طرح ھمارے سامنے آتي ھے كہ عثمان كو ان كے حاشيہ نشينوں نے قتل كرايا تھا ۔ان شر پسندوں كي شروع سے كوشش يہ تھي كہ جس طرح بھي ھو مسلمانوں كي مركزيت كو ختم كيا جائے، ان كے اسلامي اتحاد كو پارہ پارہ كيا جائے ۔
چناچہ يہ شر پسند اس تاڑ ميں تھے كہ جناب امير عليہ السلام كو عثمان كے قتل ميں ملوّث كر كے وسيع پيمانے پر فتنہ وفساد كھڑا كريں ۔تاريخ كا متفقہ فيصلہ ھے كہ معاويہ قتل عثمان ميں ھر لحاظ سے ملوث تھا وہ اندروني طور پر مسلمانوں كو آپس ميں لڑانے ميں مصروف تھا ۔وہ شروع ھي سے عثمان كے قتل كي سازشيں بنارھا تھا ۔اسے يہ بھي يقين تھا كہ دو گروھوں كي باھمي آويزيش اور لڑائي كے باعث قتل عثمان كي مذموم سازش ايك تو كامياب رھے گى، دوسرا اصل قاتل كا پتہ نھيں چل سكے گا، تيسرا اس كا اصلي مشن كا مياب ھوجائے گا اور مسلمان ايك دوسرے سے دست بہ گريبان ھو كر اپني مركزيت كھو بيٹھيں گے ۔ان حالات ومشكلات كي وجہ سے جناب امير عليہ السلام كو گونا گوں ومسائل سے دو چار ھونا پڑا ۔يہ موڑ تھا كہ جھاں منافقين مادي طور پر اپنے مكارانہ وعيارانہ حربوں ميں كامياب ھوگئے ۔
پيغمبر اسلام (ص) بھي اس طرح اور اسي نوعيت كي مشكلات سے دوچار تھے، ليكن پيغمبر اسلام (ص) اور حضرت علي (ع) كي مشكلات ميں بہت بڑا فرق ھے۔سركار رسالتماب (ص) كے دشمن بت پرست توحيد كے منكر تھے اور علانيہ طور پر اللہ تعاليٰ كي ربوبيت سے انكار كرتے تھے اور ان كي مخالفت كي سب سے بڑي وجہ ھي يھي تھي كہ حضور توحيد كا اعلان نہ كريں، اور بتوں كے خلاف كچھ نہ كہيں ليكن حضرت علي عليہ السلام كا مقابلہ ايك ايسے گروہ سے تھا كہ جو علانيہ طور پر خود كو مسلمان تو كہلواتے تھے ليكن حقيقت ميں وہ مسلمان نہ تھے۔ ان كا نعرہ اسلامي تھا ليكن ان كا اصلي مقصد كفر ونفاق كي ترويج كرنا تھا ۔معاويہ كا باپ ابو سفيان كافر تھا وہ كافرانہ روپ ھي ميں پيغمبر اسلام (ص) سے لڑنے كے لئے ميدان جنگ ميں آيا حضرت كے لئے اس سے لڑنا آسان تھا ۔ليكن اسي ابوسفيان كا بيٹا معاويہ سفياني وشيطاني مقاصد لے كر حضرت علي عليہ السلام سے آكر لڑا ۔اور اس نے آپ كي بھر پور مخالفت كى، طرح طرح كي اذيتيں ديں ۔ليكن جب عثمان قتل ھوئے تو اس نے اس آيت كو:
"من قُتِل مظلوما فقد جعلنا لوليہ سلطانا" 2
"اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ھم نے اس كے وارث كو (قاتل پر قصاص كا) قابوديا ھے ۔"
عنوان بناكر خون عثمان كا مطالبہ كيا ۔وہ لوگوں كے احساسات وجذبات سے كھيل كر خون خرابہ كرنا چاھتا تھا ۔اس وقت اصل وارث كون ھے؟ تو كون ھے عثمان كو اپنا كہنے والا ۔تيرا تو ان سے دور كا بھي واسطہ نھيں ۔سب سے پہلے تو عثمان كا بيٹا موجود ھے ۔ان كے ديگر رشتہ دار بھي موجود ھيں ۔دوسرا تيرا ان كے ساتھ كسي قسم كا تعلق نھيں ھے؟دراصل وہ ايك چالاك اور عيار شخص تھا وہ اس مقتول صحابي رسول كے خون كو ذريعہ احتجاج بنانا چاھتا تھا ۔اس كا اصل مقصد حضرت علي عليہ السلام كي راہ ميں ركاوٹيں اور مشكلات كھڑي كرنا تھا ۔دوسرے وہ چاھتا تھا كہ جب بھي اور جيسا بھي ھوسكے مسلمانوں كي وحدت كو ختم كركے ان ميں ھر طرح كي تفريق ڈالي جائے ۔عثمان زندہ تھے تو معاويہ نے جناب كو قتل كرنے كے لئے اپنے كرائے كے قاتل اور جاسوس مقرر كرركھے تھے ۔اور اس نے اپنے گماشتوں سے كہہ ركھا تھا كہ جس وقت عثمان قتل ھو جائيں ان كا خون آلود كرتہ فوري طور پر ميري طرف شام روانہ كيا جائے ۔خبر دار كہيں ۔يہ خون خشك نہ ھونے پائے۔
چنانچہ عثمان كا خون آلود كرتہ اور عثمان كي زوجہ محترمہ كي انگلي كاٹ كريہ دونوں چيزيں امير شام معاويہ كي طرف روانہ كي گئيں ۔اندر سے اس كا كليجہ تو ٹھنڑا ھو گيا ليكن ظاھر ميں وہ سراپا احتجاج نظر آيا ۔اس نے اپنے كارندوں كو حكم ديا كہ عثمان كي اھليہ كي كٹي ھوئي انگلياں اس كے منبر كے پاس لٹكا دي جائيں۔چنانچہ ايسا ھي ھوا ۔اس نے بلند آواز سے كہا اے لوگو!ديكھو تو سھي كتنا ظلم ھو گياھے كہ خليفہ وقت كي بيوي كي انگلياں بھي كاٹ دي گئي ھيں ۔اس نے حكم ديا كہ عثمان كا خون آلود پيراھن نوك نيزہ پر لٹكا كر مسجد كے قريب كسي جگہ پر نصب كيا جائے ۔جب ايسا كيا گيا تو معاويہ وھاں پر پہنچ گيا ۔اور عثمان كي مظلوميت پر زار وقطار رونے لگا۔ وہ گريہ كرتا رھا۔اور وہ اس قتل كے بہانے سے لوگوں كو احتجاج كرنے پر مجبور كرتا رھا۔ اس كا عوام سے بار بار يھي مطالبہ تھا كہ لوگو اٹھو بہت بڑا ظلم ھوگيا ھے۔ خليفہ رسول (ص) بڑي بے دردي سے قتل كيے گئے ھيں۔ آپ لوگوں پر فرض عائد ھوتا كہ عثمان كے خون ناحق كا بدلہ ليں۔ يہ قتل علي (ع) ھي نے كيا ھے۔ لھذا ان سے انتقام لينا ھم سب كا ديني و مذھبي فريضہ ھے۔ ديكھو تو سھي كہ انقلابي طبقہ سب كا سب علي (ع) كے ارد گرد جمع ھے۔ اور انھي لوگوں نے عثمان كو شھيد كيا ھے۔ غرض يہ كہ معاويہ طرح طرح كے حيلے بہانے بناتا رھا اس كي سازش ھي كہ وجہ سے جنگ جمل جنگ صفين كے نام سے دو جنگيں وجود ميں آئيں ۔
(استاد محترم علامہ مفتي جعفر حسين مرحوم نھج البلاغہ كے اس خطبہ كي تشريح كرتے ھوئے فرماتے ھيں كہ عثمان كے قتل ھو جانے سے مسند حكومت خالي ھوئي تو مسلمانوں كي نظريں امير المومنين كي طرف اٹھنے لگيں، جن كي سلامت روى، اصول پرستي اور سياسي بصيرت كا اس طويل مدت ميں انھيں بڑي حد تك تجربہ ھو چكا تھا، چنانچہ متفقہ طور پر آپ كے دست حق پرست پہ بيعت كے لئے اس طرح ٹوٹ پڑے جس طرح بھولے بھٹكے مسافر دور سے منزل كي جھلك ديكھ كر اس كي سمت لپك پڑتے ھيں، جب كہ مؤرخ طبري نے لكھا ھے:" لوگ امير المومنين (ع) پر ھجوم كركے ٹوٹ پڑے اور كہنے لگے كہ ھم آپ كي بيعت كرنا چاھتے ھيں اور آپ ديكھ رھے ھيں كہ اسلام پر كيا كيا مصيبتيں ٹوٹ رھي ھيں۔ اور پيغمبر (ص) كے قريبيوں كے بارے ميں ھماري كيسي آزمائش ھورھي ھے ۔" مگر امير المومنين (ع) نے ان كي خواھش كو قبول كرنے سے انكار كرديا۔ جس پر ان لوگوں نے شور مچايا؟اور چيخ چيخ كر كہنے لگے اے ابو الحسن (ع) !
آپ اسلام كي تباھي كو نھيں ديكھ رھے فتنہ و شر كے بڑھتے ھوئے سيلاب كو نھيں ديكھتے، كيا آپ خدا كا خوف بھي نھيں كرتے پھر بھي حضرت نے آمادگي كا اظھار نہ فرمايا، كيونكہ آپ ديكھ رھے تھے كہ پيغمبر (ص) كے بعد جو ماحول بن گيا تھا اس كے اثرات دل و دماغ پر چھائے ھوئے ھيں ۔ طبيعتوں ميں خود غرضي و جاہ پسندي جڑ پكڑ چكي ھے، ذھنوں پر ماديت كے غلاف چڑھ چكے ھيں اور حكومت كو مقصد برآريوں كا ذريعہ قرار دينے كي عادت پڑ چكي ھے ۔ اب خلافت اللہ كو بھي ماديت كا رنگ دے كر اس سے كھيلنا چاھيں گے ۔ ان حالات ميں ذھنيتوں كو بدلنے اور طبيعتوں كے رخ موڑنے ميں لوھے لگ جائيں گے ۔ ان اثرات كے علاوہ يہ مصلحت بھي كار فرما تھي كہ ان لوگوں كو سوچ سمجھ لينے كا موقعہ دے ديا جائے تاكہ كل اپني مادي توقعات كو ناكام ھوتے ديكھ كر يہ نہ كہنے لگيں كہ يہ بيعت وقتي ضرورت اور ھنگامي جذبہ كے زير اثر ھوگئي۔ اس ميں سوچ بچار سے كام نھيں ليا گيا تھا غرض جب اصرار حد سے بڑھا تو اس موقعہ پر يہ خطبہ ارشاد فرمايا جس ميں اس امر كو واضح كيا گيا كہ اگر تم مجھے مقاصد كے لئے چاھتے ھو تو ميں تمھارا آلہ كار بننے كے لئے تيار نھيں، مجھے چھوڑ دو۔
اور اس مقصد كے لئے كسي اور كو منتخب كرلو جو تمھاري توقعات كو پوري كرسكے ۔ تم ميري سابقہ سيرت كو ديكھ چكے ھو ميں قرآن و سنت كے علاوہ كسي كي سيرت پر عمل پيرا ھونے كے لئے تيار نھيں اور نہ حكومت كے لئے اپنے اصول سے ھاتھ اٹھاؤں گا۔اگر تم كسي اور كو منتخب كرو گے تو ميں ملكي قوانين و آئين حكومت كا اتنا ھي خيال كروں گا جتنا ايك پرامن شھري كو كرنا چاھيئے ۔ ميں نے كسي مرحلہ پر بھي شورش برپا كركے مسلمانوں كي ھيئت اجتماعيہ كو پراگندہ و منتشر كرنے كي كوشش نھيں كي ۔
چنانچہ اب بھي ايسا ھي ھوگا بلكہ جس طرح مصالح عامہ كا لحاظ كرتے ھوئے ھميشہ صحيح مشورے ديتا ھوں ۔ اب بھي دريغ نہ كروں گا اور اگر تم مجھے اسي سطح پر رھنے دو تو يہ چيز تمھارے دنيوي مفاد كے لئے بھتر ھوگي كيونكہ اس صورت ميں ميرے ھاتھوں ميں اقتدار نھيں ھوگا كہ تمھارے دنيوي مفادات كے لئے سدّ راہ بن سكوں، اور تمھاري من ماني خواھشوں ميں روڑے اٹكاؤں، اور اگر يہ ٹھان چكے ھو كے ميرے ھاتھوں پر بيعت كيے بغير نہ رھوگے تو پھر ياد ركھو چاھے تمھاري پيشانيوں پر بل آئيں اور چاھے تمھاري زبانيں ميرے خلاف كھليں ميں حق كي راہ پر لے چلنے پر مجبور كردوں گا، اور حق كے معاملہ ميں كسي كي رو رعايت نھيں كروں گا اس پر بھي اگر بيعت كرنا چاھتے ھو تو اپنا شوق پورا كرلو ۔ امير المومنين (ع) نے ان لوگوں كے بارے ميں جو نظريہ قائم كيا تھا بعد كے واقعات اس كي پوري پوري تصديق كرتے ھيں ۔ چنانچہ جن لوگوں نے ذاتي اغراض و مقاصد كے پيش نظر بيعت كي تھي جب انھيں كاميابي حاصل نہ ھوئي تو بيعت توڑ كر الگ ھوگئے اور بے بنياد الزامات تراش كر حكومت كے خلاف اٹھ كھڑے ھوئے) ۔
عدالت كے بغير ھرگز نھيں
حضرت علي عليہ السلام كے لئے ايك مشكل يہ تھي كہ اس وقت كا معاشرہ ايك طرح كي بے مقصديت ميں كھو چكا تھا، لوگ ناجائز كاموں اور غلط رويوں كے عادي بن چكے تھے ۔پيغمبر اسلام (ص) كي رحلت كے بعد اسلامي معاشرہ ميں سفارش عروج پر تھى، خانداني معيار فضيلت كو سامنے ركھا جاتا تھا ۔دوسري طرف حضرت علي عليہ السلام تھے كہ عدالت كے بغير نھيں رہ سكتے تھے، آپ فرمايا كرتے تھے كہ ميں وہ نھيں ھوں كہ عدالت سے ايك بال برابر بھي انحراف كروں يہاں تك كہ آپ كے ايك صحابي كو كہنا پڑا كہ قبلہ عالم آپ اپنے انداز ميں كچھ نرمي لے آيئے ۔آپ نے اس كي بات كو سن كر احساس ناگواري كے ساتھ فرمايا:
"اتامروني ان اطلب النصر بالجور واللہ ما اطور بہ ماسمر سمير" 3
سياست ھو تو ايسى
حضرت علي عليہ اسلام كي تيسري مشكل يہ تھي كہ آپ كي سياست سچائى، صداقت، اور شرافت پر مبني تھي ۔آپ كي ھر بات حقيقت ھوا كرتي تھي ۔آپ لگي لپٹي بات كرنے كے عادي نہ تھے ۔اور نہ ھي كسي كو اندھيرے ميں ركھتے تھے۔آپ كے اس انداز كو آپ كے كچھ دوست پسند نہ كرتے تھے ۔وہ كہا كرتے تھے كہ مولا (ع) كچھ تو ظاھري ركھ ركھاؤ كر ليا كريں ۔آپ فرمايا كرتے تھے كہ سياست يہ نھيں ھے كہ اس ميں جھوٹ بولا جائے، يا منافقت اختيار كي جائے يا جھوٹ بول كر مطلب نكال ليا جائے، بلكہ سچى، كھرى، حقيقي سياست يہ ھے، كہ سچ كہو اس كے سوا كچھ نہ كہو۔ آپ كي حقيقت پسندي اور صاف گوئي كو ديكھ كر كچھ لوگ كھو كرتے تھے كہ علي (ع) تو سياست نھيں جانتے، معاويہ كو ديكھئے وہ كتنا بڑا سياسدان ھے آپ نے فرمايا:۔
"واللہ مامعاويۃ بادھي مني ولكنہ يغدر ويفجر، ولولا كراھيۃ الغدر لكنت من ادھي الناس ولكن كل غدرۃ فجرۃ وكل فجرۃ كفرۃ ولكل غادر لواء يعرف بہ يوم القيامۃ!"
"يعني خدا كي قسم معاويہ مجھ سے زيادہ چلتا پرزہ اور ھوشيار نھيں مگر فرق يہ ھے كہ وہ غداريوں سے چوكتا اور بدكرداريوں سے باز نھيں آتا، اگر مجھے عياري وغداري سے نفرت نہ ھوتي تو ميں سب لوگوں سے زائد ھوشيار وزيرك ھوتا ۔ليكن ھر غداري گناہ اور ھر گناہ حكم الٰہي كي نافرماني ھے ۔چنانچہ قيامت كے دن ھر غداري كے ھاتھوں ميں ايك جھنڈا ھو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔" 4
(استاد محترم علامہ مفتي جعفر حسين مرحوم نے لكھا ھے كہ وہ افراد جو مذھب و اخلاق سے بيگانہ "شرعي قيد وبند سے آزاد اور جزاء وسزا كے تصور سے ناآشنا ھوتے ہيں ان كے لئے مطلب براري كے لئے حيل وذرائع كي كمي نھيں ھوتي "وہ ھر منزل پر كاميابي وكامراني كي تدبيريں نكال ليتے ہيں ۔جھاں انساني واسلامي تقاضے اور اخلاقي وشرعي حديں روگ بن كر كھڑي ھو جاتي ہيں وھاں حيلہ وتدبير كا ميدان تنگ اور جولانگاہ عمل كي وصعت محدود ھوجاتي ھے۔ چنانچہ معاويہ كا نفوذ وتسلط انھي تدابير وحيل كا نتيجہ تھا ۔جن پر عمل پيرا ھونے ميں اسے كوئي روك ٹوك نہ تھى، نہ حلال وحرام كا سوال اس كے لئے سدراہ ھوتا تھا، اور نہ پاداش آخرت كا خوف، اسے ان مطلق العنانيوں اور بے باكيوں سے روكتا تھا، جيسا كہ جناب راغب اصفھاني اس كي سيرت وكردار كا جائزہ ليتے ھوئے لكھتے ہيں "اس كا مطمع نظر يہي ھوتا تھا كہ جس طرح بن پڑے اپنا مطلب پورا كرو نہ حلال وحرام سے اسے كوئي واسطہ تھا نہ دين كي اسے كوئي پرواہ تھي اور نہ خدا كے غضب كي كوئي فكر تھي ۔
چناچہ اس نے اپنے اقتدار كو برقرار ركھنے كے لئے غلط بياني وافزاء پردازي كے سھارے ڈھونڈھے ۔طرح طرح كے مكر وفريب كے حربے استعمال كيے اور جب يہ ديكھا كہ امير المؤمنين (ع) كو جنگ ميں الجھائے بغير كاميابي نھيں ھو سكتي تو طلحہ وزبير كو آپ كے خلاف ابھار كر كھڑا كرديا اور جب اس صورت سے كاميابي نہ ھوئى، تو شاميوں كو بھڑكا كر جنگ صفين كا فتنہ برپا كرديا اور پھر حضرت عمار كي شھادت سے جب اس كا ظلم و عدوان بے نقاب ھونے لگا تو عوام فريبي كے لئے كبھي يہ كہہ ديا كہ عمار كے قاتل علي (ع) ہيں، كيونكہ وھي انھيں ھمراہ لانے والے ہيں ۔اور كبھي حديث پيغمبر (ص) ميں لفظ فئتہ باغيتہ كي يہ تاويل كي كہ اس كے معني باغي گروہ كے نھيں بلكہ اس كے معني طلب كرنے والي جماعت كے ہيں ۔يعني عمار اس گروہ كے ھاتھوں سے قتل ھوں گے جو خون عثمان كے قصاص كا طالب ھوگا، حالانكہ اس حديث كا دوسرا ٹكڑا (كہ عمار ان كو بہشت كي دعوت ديں گے اور وہ انھيں جہنم كي طرف بلائيں گے) اس تاويل كي كوئي گنجائش پيدا نھيں كرتا، جب ايسے اوچھے ھتھياروں سے فتح وكامراني كے آثار نظرنہ آئے تو قرآن كو نيزوں پر بلند كرنے كا پر فريب حربہ استعمال كيا حالانكہ اس كي نظروں ميں نہ قرآن كا كوئي وزن اور نہ اس كے فيصلہ كي كوئي اھميت تھي۔
اگر اسے قرآن كا فيصلہ ھي مطلوب ھوتا تو يہ مطالبہ جنگ كے چھڑنے سے پہلے كرتا اور پھر جب اس پر حقيقت كھل گئي كہ عمرو ابن عاص نے ابو موسيٰ كو فريب دے كر اس كے حق ميں فيصلہ كيا ھے اور اس كے فيصلہ كو قرآن سے دور كا بھي لگاؤ نھيں ھے تو وہ اس پر فريب تحكيم كے فيصلہ پر رضا مند نہ ھوتا ۔اور عمروابن عاص كو اس فريب كاري كي سزاديتا يا كم از كم تنبيہ وسرزنش كرتا مگر يھاں تو اس كےكارناموں پر اس كي تحسين آفرين كي جاتي ھے۔ اور كار گردگي كے صلہ ميں اسے مصر كا گورنر بناديا جاتا ھے ۔اس كے برعكس امير المؤمنين (ع) كي سيرت شريعت واخلاق كے اعليٰ معيار كا نمونہ تھى، وہ ناموافق حالات ميں بھي حق صداقت كے تقاضوں كو نظر ميں ركھتے تھے اور اپني پاكيزہ زندگي كو حيلہ ومكر كي آلودگيوں سے آلودہ نہ ھونے ديتے تھے، وہ چاھتے تو حيلوں كا توڑ حيلوں سے كرسكتے تھے، اور اس كي ركاكت آميز حركتوں كا جواب ايسي ھي حركتوں سے ديا جاسكتا تھا، جيسے اس نے فرآت پر پہرہ بٹھا كر پاني روك ديا تھا ۔تو اس كو اس امر كے جواز ميں پيش كيا جاسكتا تھا كہ جب عراقيوں نے فرآت پر قبضہ كرليا تو ان پر بھي پاني بند كرديا جاتا، اور اس ذريعہ سے ان كي قوت حرب وضرب كو مضمحل كر كے انھيں مغلوب بناليا جاتا مگر امير المؤمنين (ع) ايسے ننگ انسانيت اقدام سے كہ جس كي كوئي آئين واخلاق اجازت نھيں ديتا كبھي اپنے دامن كو آلودہ نہ ھونے ديتے تھے ۔اگر چہ دنيا والے ايسے حربوں كو دشمن كے مقابلہ ميں جائز سمجھتے ھيں اور اپني كامراني كے لئے ظاھر و باطن كي دورنگي كو سياست وحسن تدبير سے تعبير كرتے ھيں ۔
مگر امير المؤمنين (ع) كسي موقعہ پر فريب كاري ودورنگي سے اپنے اقتدار كے استحكام كا تصور بھي نہ كرتے۔ چنانچہ جب لوگوں نے آپ كو يہ مشورہ ديا كہ عثماني دور كے عمال كو ان كے عھد بر قرار رھنے ديا جائے اور طلحہ وزبير كو كوفہ وبصرہ كي امارت دے كر ھمنوا بنا ليا جائے اور معاويہ كو شام كا اقتدار سونپ كر اس كے دنيوي تدبير سے فائدہ اٹھايا جائے، تو آپ نے دنيوي مصلحتوں پر شرعي تقاضوں كو ترجيح ديتے ھوئے اسے ماننے سے انكار كرديا اور معاويہ كے متعلق صاف لفظوں ميں فرمايا۔
"اگر ميں معاويہ كو اس كے علاقہ پر برقرار رھنے دوں تو اس كے معني يہ ھيں كہ ميں گمراہ كرنے والوں كو اپنا قوت بازو بنارھاھوں۔" 5
ظاھر بين لوگ صرف ظاھر كاميابي كو ديكھنے ھيں اور يہ ديكھنے كي ضرورت محسوس نھيں كرتے كہ يہ كاميابي كن ذرائع سے حاصل ھوئى؟ يہ شاطرانہ چالوں اور عيارانہ گھاتوں سے جسے كامياب وكامران ھوتے ديكھتے ھيں اس كے ساتھ ھوجاتے ھيں۔ اور اسے مدبر، بافہم اور سياستدان وبيدار مغز اور خدا جانے كيا كيا سمجھنے لگتے ھيں، اور جو الٰہي تعليمات اور اسلامي ھدايات كي پابندي كي وجہ سے چالوں اور ہتھكنڑوں كو كام ميں نہ لائے اور غلط طريق كار سے حاصل كي ھوئي كاميابي پر محرومي كو ترجيح دے وہ ان كي نظروں ميں سياست سے ناآشنا اور سوجھ بوجھ كے لحاظ سے كمزور سمجھا جاتا ھے ۔انھيں اس پر غور كرنے كي ضرورت ھي نھيں ھوتي كہ وہ يہ سوچيں كہ ايك پابند اصول وشرع كي راہ ميں كتني مشكليں اور ركاوٹيں حائل ھوتي ھيں كہ جو منزل كامراني كے قريب پہنچنے كے باوجود اسے قدم آگے بڑھانے سے روك ديتي ھيں۔
خوارج حضرت علي (ع) كيلئے ايك بنيادي مشكل
مولائے كائنات كي ايك بنيادي مشكل ميں عرض كرنا چاھتا ھوں، ليكن اس سے قبل ايك ضروري بات وہ يہ ھے كہ پيغمبر اكرم (ص) كے دور ميں ايك گروہ پيدا ھوا يہ لوگ حضور كے پرچم تلے جمع ھوگئے ۔آپ نے اس طبقہ كو تعليم وتربيت دى، اسلامي تعليمات سے روشناس كرايا ۔قدم قدم پر ان لوگوں كي رھنمائي كي ۔رفتہ رفتہ اسلامي تعليمات اس كے قلب وذھن ميں گھر كر گئيں ۔ادھر پيغمبر اكرم (ص) نے سر زمين مكہ ميں قريش سے طرح طرح كي صعوبتيں برداشت كيں، آپ نے حد سے زيادہ مظالم سہے، ليكن آپ نے قدم قدم پر صبر وتحمل سے كام ليا ۔آپ كے اصحاب عرض كرتے ھيں كہ حضور (ص) آپ ھميں جنگ لڑنے اور دفاع كرنے كي اجازت عنايت فرماھي ديں، آخر ھم كب تك ان لوگوں كے مظالم برداشت كرتے رھيں گے؟ آخر ھم كب تك ان لوگوں كے مظالم برداشت كرتے رھيں گے؟آخر كب تك يہ افراد ھم پر پتھروں كي بارش كرتے رھيں گے؟ كب تك ھم ان كے كوڑے سہتے رھيں گے؟ ظالموں كا ظلم حد سے بڑھ گيا۔ آپ نے جھاد كي اجازت نہ دى، جب اصرار بڑھا تو آپ نے فرمايا آپ لوگ ھجرت كر سكتے ھيں ۔
ان ميں سے كچھ لوگ حبشہ چلے آئے ۔يہ ھجرت مسلمانوں كے لئے سودمند ثابت ھوئي ۔اس سوال كے جواب ميں ھم كہہ سكتے ھيں كہ حضور (ص) تيرہ سال كي مدت ميں كيا كرتے رھے؟ حضور (ص) لوگوں كي تربيت كرتے رھے، ان كو تعليم كي روشنيوں سے روشناس كراتے رھے ۔ھجرت كے وقت ان لوگوں كي تعداد ايك ھزار كے لگ بھگ تھي ۔يہ لوگ اسلام كي حقيقتوں كو پوري طرح سے جانتے تھے ۔ان كي تربيت خالصتاً اسلامي طريقے پر ھوئي۔ درحقيقت يہ ايك تحريك تھي ايسے افراد كي جو تعليم وتربيت، علم وعمل كے اسلح سے ليس تھے ۔
راہ حق كےجانبازوں نے قريہ قريہ، گلي گلي جاكر اسلام كا پرچار كيا، جس طرح ان كي تبليغ ميں تاثير تھي اسي طرح لوگوں نے اتني ھي تيزي سے اسلام كو قبول كيا۔نتيجہ چھار سوا اسلام كي كرنيں پھيل گئيں ۔ماحول منور ھوگيا، فضا معطر ھوگئى، بس كيا تھا ھر طرف اسلام ھي اسلام كي باتيں ھو رھي تھيں، پرچم اسلام بڑي زرق و برق اور شان وشوكت كے ساتھ لھرارھا تھا ۔
يھاں پر ميں اتنا عرض كروں گا كہ پيغمبر اسلام (ص) اور حضرت علي عليہ اسلام كے زمانوں اور حالات ميں بھت فرق تھا۔ جناب رسلتماب (ص) كے مقابلے ميں كافر تھے ۔ايسے لوگ كہ جن كا عقيدہ صريحاً كافرانہ ومنكرانہ تھا ۔وہ علانيہ طور پر كھا كرتے تھے كہ ھم كافر ھيں اور كفر ھي كي حفاظت كے لئے پيغمبر اسلام (ص) سے لڑرھے ھيں، ليكن جناب علي (ع) كا مقابلہ منافقوں سے تھا ايسے منافق كہ جن كي زبان پر تو اسلام تھا ليكن ان كے دل كفر كا دم بھرتے تھے ۔اسلام وقرآن كا نام تو ليتے تھے ليكن اندر سے وہ اسلام كے سخت مخالف اور قرآن كے دشمن تھے ۔عثمان كے دور خلافت ميں ان لوگوں نے بے پناہ فتوحات حاصل كيں ليكن انھوں نے حضور (ص) پاك كي تمام تر تعليمات كو پس پشت ڈال ديا ۔
آپ نے تيرہ (۱۳) سال تك لوگوں كو دفاع وجھاد كي اجازت اس لئے نہ دي كہ يہ لوگ بہت كم ظرف تھے ۔حضور (ص) كي تمام كوششوں كا محور يہ تھا كہ اسلامي تھذيب پھلے پھولے، ايماني تمدن ميں وسعت پيدا ھو، لوگ پرچم اسلام تلے جمع ھوں، بدقسمتي سے اس وقت كے لوگ اپنے اس راستے سے ھٹ گئے جو كہ رسول اكرم (ص) نے متعين كيا تھا وہ ظاھر ميں اسلام اسلام كي رٹ لگاتے ھوئے نظر آتے تھے ليكن حقيقت ميں وہ حقيقي اسلام اور اسلام محمدي كي اصلي روح سے ناآشانا تھے ۔يہ لوگ نماز پڑھتے، روزہ ركھتے تھے ليكن ان كے قلوب معرفت اور ان كے اذھان بصيرت سے بلكل ناواقف تھے ۔يوں سمجھ ليجئے كہ يہ لوگ خالي خولي اور خشك مقدس تھے ۔لمبي لمبي داڑھياں اور پيشانيوں پر سجے ھوئے سجدہ كے علامتي نشانات، صوفيانہ وضع قطع، مولويانہ انداز زندگى، زاھدانہ رھن سھن رندانہ طرز تبليغ ۔يہ تقدس مآب لوگ لمبے لمبے سجدے كرتے تھے ۔جب حضرت علي عليہ السلام نے جناب ابن عباس كو ان كے پاس بھيجا تو يہ سب مولائے كائنات كے خلاف اٹھ كھڑے ھوئے۔ ابن عباس نے مولا كي خدمت ميں عرض كي كہ :۔
"لھم جباہ قرحۃ لطول السجود"
مولاان كي پيشانيا كثرت سجود سے زخمي ھو گئي ھيں "
وايد كثفنات الابل"
ان كے ھاتھ اونٹ كے زانو كي مانند سخت ھو چكے ھيں "
عليھم قمص مرحضۃ"
انھوں نے پرانے لباس پھن كر خود كو زاھد ظاھر كرركھا ھے "
وھم مشمرون "
تاويل كي كوئي گنجائش پيدا نھ "يہ سب كے سب ايك ھي طرز كي زندگي گزار رھے ھيں "
يہ طبقہ اور يہ گروہ جھاں جاھل اور نادان تھا وھاں خشك مقدس بھي تھا ۔ ان كا زاھدانہ انداز زندگي بھي حقيقي نيكي اور اخلاص ومعرفت سے خالي تھا ۔انھوں نے اسلام اسلام كي رٹ لگا ركھي تھي ۔ان كو يہ خبر نہ تھي كہ اصل اسلام كيا ھے، اسلامي تعليمات كا مقصد حقيقي كيا ھے؟اسلام كن كے لئے اور كس كس مقصد كے لئے لايا گيا ھے؟ مولا امير المؤمنين عليہ السلام نے فرمايا رك جاؤ ۔ٹھرجاؤ ميري طرف توجہ كرو، ميري بات سنو ميں آپ كو بتاتاھوں يہ كون لوگ ھيں؟
"جفاۃ طغام عبيد اقزام، جمعوا من كل اوب وتلقطوا من كل شوب ممن ينبغي ان يفقہ ويودب ويعلم ويدرب ۔۔۔۔۔۔ ليسو من المھاجرين والا نصار ولا من الذين تبؤ الدار وايمان !" 6
"يعني وہ تندخواوباش اور كمينے بدقماش ھيں كہ ھر طرف اكھٹے كر لئے گئے ھيں۔اور مخلوط النسب لوگوں ميں سے چن لئے گے ھيں ۔وہ ان لوگوں ميں سے ھيں جو جھالت كي بناء پر اس قابل ھيں كہ انھيں ابھي اسلام كے متعلق كچھ بتايا جائے، اور شايستگي سكھائي جائے اچھائي اور برائي كي تعليم دي جائے، اور عمل كي مشق كرائي جائے، اور ان پر كسي نگران كو چھوڑا جائے، اور ان كے ھاتھ پكڑ كر چلايا جائے، نہ تو وہ مھاجر ھيں نہ انصار اور نہ ان لوگوں ميں سے ھيں جو مدينہ ميں فروكش تھے"۔
حضرت علي عليہ السلام جب مسند خلافت پر بيٹھے تو عجيب وغريب صورت حال تھى، اور اس نوع كے مسلمان موجود تھے يھاں تك كہ آپ كے سپاھيوں اور فوجيوں ميں بھي اس طرح كے لوگ موجود تھے ۔آپ جنگ صفين ميں معاويہ اور عمر وعاص كي شاطرانہ چالوں كے بارے ميں بار بار پڑھ چكے ھيں، اور متعدد بار سن چكے ھيں جب ان لوگوں نے ديكھا كہ وہ شكست كے قريب ھيں تو انھوں نے ايك بھانہ اور ايك اسكيم تيار كي اور ايك حيلہ تراشا تاكہ جنگ بند ھوجائے ۔چنانچہ ان لوگوں نے قرآن مجيد كو نيزوں پر بلند كرتے ھوئے اعلان كيا كہ اے لوگو!ھم سب قرآن مجيد كو ماننے والے ھيں، ھمارا قبلہ پر بھي مكمل ايمان ھے ۔پھر كيا وجہ ھے كہ ھم ايك دوسرے سے لڑرھے ھيں؟اگر آپ لڑنا بھي چاھتے ھيں تو آيئے سب سے پھلے قرآن پر حملہ كيجئے ۔يہ سننا تھا سبھي تلواريں نيام ميں كر ليں، اور جنگ بندي كا اعلان كرديا اور ايك زبان ھو كر كھا بھلا كس طرح قرآن مجيد سے لڑائي كي جاسكتي ھے؟
يہ لوگ فوراًمولا علي عليہ السلام كي خدمت ميں حاضر ھوئے اور عرض كي كہ مولا مسئلہ حل ھوگيا ھے، قرآن مجيد كي وجہ سے لڑائي ختم ھوچكي ھے ۔جب ھمارے درميان قرآن مجيد آگيا تو پھر جھگڑا كس بات كا، لڑائي كس چيز كے لئے" جنگ وجدال كا كيا مقصد؟ يہ سن كر امام عليہ السلام نے فرمايا كيا ھم نے پھلے ھي دن سے يہ نھيں كھا تھا كہ ھميں قرآن مجيد اور اسلام كي بنياد پر فيصلہ كرنا چاہئے، ديكھيں تو سھي كہ ھم ميں حق پر كون ھے؟ يہ جھوٹ بكتے ھيں "يہ قرآن مجيد نھيں لے آئے بلكہ قرآن مجيد كي جلد اور كاغذ كو ڈھال قرار ديا ھے تاكہ بعد ميں قرآن مجيد كے خلاف قيام كريں ۔آپ اس كي طرف دھيان نہ ديں ۔ميں تمھارا امام ھوں"ميں ھي قرآن ناطق ھوں ۔ آپ لڑيں اور خوب لڑيں يھاں تك كہ ٹڈي دل دشمن ميدان سے بھاگ جائے ۔يہ سن كر يہ لوگ كھنے لگے يا علي (ع) آپ كيسي باتيں كررھے ھيں ۔اب تك تو ھم آپ كو اچھا انسان خيال كرتے رھے ھيں ۔ليكن ھميں اب پتہ چلا كہ آپ جاہ طلب انسان ھيں "بھلايہ كيسے ھوسكتا ھے كہ ھم قرآن مجيد كے خلاف جنگ كريں؟ يہ كبھي نھيں ھو سكتا لڑنا ھے تو آپ خود جاكر لڑيں ھم اتنے بڑے گناہ كا ارتكاب نھيں كرسكتے؟
مالك اشتر ميدان جنگ ميں نبرد و پيكار تھے ۔ان لوگوں نے امام سے بار بار اصرار كيا كہ مولا مالك سے كھيں كہ وہ واپس آجائيں اور قرآن مجيد كے خلاف جنگ ميں حصہ نہ ليں ۔امام نے پيغام بھيجا مالك واپس لوٹ آيئے ۔مالك نے عرض كي كہ قبلہ عالم ايك دو گھنٹہ كي مھلت ديجئے يہ ٹڈي دل لشكر جنگ ھارنے والا ھے ۔يہ واپس آگئے اور عرض كي مولا مالك جنگ كرنے سے باز نھيں آرھے ۔آيا يا مالك كو روكيں ورنہ بيس ھزار تلوار آپ پر حملہ آور ھوجائے گي ۔مولا نے پيغام ديا كہ مالك اگر تم علي (ع) كو زندہ ديكھنا چاھتے ھو تو واپس لوٹ آؤ ۔وہ لوگ حضرت كے پاس آئے اور عرض كي ھم دو شخص بطور منصف تجويز كرتے ھيں ۔اب جبكہ قرآن مجيد كي بات نكلي ھے تو ھم بھترين منصف مقرر كرتے ھيں۔ اس سلسلے ميں انھوں نے عمر وعاص كا نام تجويز كيا اور جناب امير عليہ السلام نے ابن عباس كا نام پيش كيا، اس پر راضي نہ ھوئے اور كہا يا علي (ع) چونكہ وہ آپ كے چچازاد بھائي ھيں اور آپ كے رشتہ دار ھيں ھم تو اس شخص كے نام كي منظوري ديں گے جو كہ رشہ ميں كچھ نہ لگتا ھو ۔آپ نے فرمايا ابن عباس نہ سھي "مالك اشتر كا نام لكھ ليں"وہ بولے مالك بھي ھميں منظور نھيں ھيں ۔امام نے چند نام اور ديئے انھوں نے منظور نہ كيے ۔آپس ميں صلاح مشورہ كركے بولے كہ ھم تو صرف ابو موسيٰ اشعري كو تسليم كرتے ھيں ۔ابو موسيٰ وہ شخص ھے جو اس سے بيشتر كوفہ كا گورنر تھا اور مولا ئے كائنات نے اس كو عھدہ سے معزول كرديا تھا ۔
ابو موسيٰ كا دل حضرت علي عليہ السلام كے لئے صاف نھيں تھا بلكہ وہ امام عليہ السلام كے خلا ف شديد قسم كا كينہ وبغض ركھتا تھا ۔وہ لوگ ابو موسيٰ كو لے آئے، ليكن عمر وعاص نے ابو موسيٰ كو بھي دھوكہ دے ديا ۔جب ان لوگوں نے سمجھا كہ وہ فيصلہ كے وقت دھوكہ كھا چكے ھيں تو امام (ع) كے پاس آئے اور كھا كہ ھميں تو فريب ديا گيا، دراصل ان كا يہ اعتراف جرم ايك طرح كي دوسري غلطي تھي ۔اس وقت ھم جنگ سے ھاتھ نہ اٹھاتے اور معاويہ سے لڑتے رھتے، وہ جنگ ايك عام جنگ تھى، اس ميں قرآن مجيد كا كوئي تعلق اور واسطہ نہ تھا، ھم نے ابو موسيٰ كو منصف مان لر بھي شديد غلطي كي ھے، ھم اگر ابن عباس يا مالك اشتر كو مان ليتے تو بھتر تھا، واقعتاًجو شخص خدا كے فيصلے سے ھٹ كر كسي انسان كا فيصلہ مان ليتا ھے وہ حقيقت ميں كفر كرتا ھے:
"ان الحكم الا للہ"
حكومت تو بس صرف خدا ھي كے لئے ھے" 7
جب قرآن مجيد نے كھا كہ فيصلہ صرف اللہ تعاليٰ كا ھونا چاھئے كوئي انسان اس كے بغير فيصلہ كرنے كا حق نھيں ركھتا۔ چنانچہ ھم سب كافر ومشرك ھو گئے اس لئے ھم سب كو بارگاہ الٰہي ميں توبہ كرني چاھيے ۔ "استغفراللہ ربي واتوب اليہ" كھنے لگے يا علي (ع) آپ بھي ھماري طرح منكر خدا ھوگئے ھيں، اس لئے توبہ كريں ۔اب آپ اندازہ فرمائيں كہ علي (ع) كس قدر مشكلات ميں ھيں۔ يھاں پر ايك طرف معاويہ۔۔۔۔۔۔علي (ع) كے لئے دردسر اور مسئلہ بناھوا ھے، دوسري طرف عمرو عاص نے مولا كو پريشان كر ركھا ھے"تيسرا ان عقل كے اندھوں اور جاھل ترين افراد نے امام (ع) وقت كے لئے مسئلہ كھڑا كر ركھا ھے ۔آپ نے فرمايا، نھيں نھيں تم لوگ غلطي پر ھو فيصلہ كرنا كفر نھيں ھے"دراصل تم لوگوں كو اس آيت "ان الحكم الا للہ "كا معني ھي نھيں آتا ۔اس كا مقصد يہ ھے كہ جو قانون اللہ تعاليٰ كا معين كردہ ھو"اور اس نے اپنے بندوں كو اس پر عمل كرنے كي اجازت دے دي ھو كيا تم بھول گئے ھو جب ھم نے كھا تھا"كہ دو آدمي لے آؤ جو قرآن مجيد كے مطابق فيصلہ كريں ۔آپ نے فرمايا كہ ميں نے كسي قسم كي غلطي نھيں كي جو چيز شريعت كے خلاف نھيں ھے ۔ميں اس كو كيسے غلط كہہ سكتا ھوں۔يہ نہ كفر ھے اور نہ شرك يہ تو ھے۔ ميرا فيصلہ۔ آگے آپ لوگوں كي اپني مرضي ۔
خوارج كے ساتھ علي (ع) كا رويہ
ان لوگوں نے حضرت علي عليہ السلام سے اپنا راستہ جدا كر ليا، خوارج كے نام سے ايك فرقہ بناليا ۔ان كا مقصد صرف اور صرف علي عليہ السلام كي مخالفت كرنا تھا جب تك ان لوگوں نے امام عليہ السلام كے خلاف مسلح جنگ نہ كي اتنے تك امام عليہ السلام ان كے ساتھ اچھا برتاؤ كرتے رھے، يھاں تك كہ بيت المال ميں سے ان كے مستحق لوگوں كو حصہ ديا جاتا تھا، ان پر كسي قسم كي پابندي عائد نہ كي ۔
وہ اپني خونہ چھوڑيں گے ھم اپني وضع كيوں بدليں
خارجي لوگ دوسروں كے سامنے حضرت علي عليہ السلام كي اہانت كرتے، ليكن امام عليہ السلام خاموش رھتے اور صبر وتحمل سے كام ليتے ۔آپ جب منبر پر تقرير كررھے ھوتے تو كچھ خارجي آپ كي تقرير كے دوران سيٹياں بجاتے اور آوازيں كستے۔ ايك روز آپ تقرير فرمارھے تھے ايك شخص نے امام عليہ السلام سے ايك مشكل ترين سوال كيا، آپ نے اسي وقت اس انداز ميں اس قدر آسان جواب ديا كہ تمام مجمع عش عش كر اٹھا، تكبير كي آوازيں بلند ھوئيں ۔وھاں پر ايك خارجي بيٹھا ھوا تھا اور بولا :
"قاتلہ اللہ ماافقھہ"
كہ خدا ان كو مار ڈالے كس قدر علامہ ھے يہ شخص"
آپ كے اصحاب نے اس شخص كو پكڑ كر مارنا چاہا ليكن امام عليہ السلام نے فرمايا اسے چھو ڑدو اس نے بدتميزي تو مجھ سے كي ھے زيادہ سے زيادہ تو آپ اس كو توبيخ ھي كرسكتے ھيں۔ اس كو اپنے حال پر رھنے دو، جو كھتا ھے كھتا پھرے جن كي فطرت ميں ھو ڈسنا وہ ڈسا كرتے ھيں ۔
علي عليہ السلام حاكم وقت تھے، مسجد ميں نماز، باجماعت پڑھارھے تھے آپ اندازہ فرمايئے كيسا حليم وبردبار ھے ھمارا امام (ع) ان خارجيوں نے آپ كي اقتداء ميں نماز نھيں پڑھى، كھنے لگے علي (ع) تو (نعوذباللہ) مسلمان ھي نھيں ھيں، يہ كافر ومشرك ھيں، حالانكہ حضرت سورہ حمد اور دوسري سورہ كي تلاوت كررھے تھے۔وھاں پر ابن الكواب نامي شخص موجود تھا، اس نے طنزيہ طور پر يہ آيت بلند آواز سے پڑھي :۔
"ولقد اوحي اليك والي الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك" 8
"وہ يہ آيت پڑھ كے يہ باور كرانا چاھتا تھا كہ يا علي (ع) يہ درست ھے كہ آپ سب سے زيادہ پكے مسلمان ھيں، آپ كي عبادات اور ديني خدمات قابل قدر ھيں، چونكہ آپ نے نعوذباللہ شرك كيا ھے "علي عليہ السلام اس آيت كے مطابق :
"واذا قري القرآن فاستمعوالہ وانصتوا" 9
" (لوگو) جب قرآن پڑھا جائے تو كان لگا كر سنو اور چپ چاپ رھو"
آپ خاموش ھو كر نماز پڑھتے رھے اس نے تين چار مرتبہ اسي طرح كا طنز كيا، آپ نے يہ آيت تلاوت فرمائى:
"فاصبر ان وعداللہ حق لا يستخفنك الذين لا يوقنون"
اے رسول !تم صبر كرو "بيشك خدا كا وعدہ سچاھے اور كھيں ايسا نہ ھو كہ جو لوگ (تمہاري) تصديق نھيں كرتے تمھيں (بہكا كر) خفيف كرديں ۔" 10
خوارج كا عقيدہ
كيا خارجيوں نے اس حد تك اكتفاء كيا ھے؟ اگر اتنا ھي كرتے تو حضرت علي عليہ السلام كے لئے كوئي مسئلہ نہ تھا اور نہ ھي اتني پريشاني كي بات تھي ۔انھوں نے آھستہ آھستہ فرقے اور گروہ كي صورت اختيار كر لى، جس طرح ھم نے عرض كيا ھے كہ وہ ظاھري صورت ميں تو مسلمان تھے ليكن وہ پس پردہ كافر ومشرك تھے، كيونكہ انھوں نے اپني طرف سے ايك نظريہ بلكہ عجيب قسم كے نظريات قائم كر لئے تھے ۔ان كا عقيدہ تھا كہ چونكہ حضرت علي (ع) عثمان اور امير معاويہ كے حكم (منصف) كو قبول كيا ھے، اس لئے وہ اپنے اسلامي عقيدہ سے منحرف ھوگئے ھيں ۔ان كے نزديك وہ بھي كافر ھوگئے تھے ۔چونكہ بقول ان كے ھم نے توبہ كرلي ھے اس لئے ھمارا عقيدہ صحيح ھو گيا ھے ان كے نزديك امر بالمعروف اور نھي عن المنكر كي كوئي حيثيت نہ تھي ۔
يہ ظالم حكمران ان كے خلاف قيام كرنے كو جائز نہ سمجھتے تھے۔يہ لوگ دراصل انتھا پسند اور متعصب قسم كے تھے كہ جو خود كو اچھا سمجھتے تھے اور دوسروں پر كيچڑ اچھالتے رھتے تھے ان كاعقيدہ تھا كہ عمل ايمان كا جز ھے وہ كھتے تھے كہ جو
"اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمداً رسول اللہ "
كھے اور دل سے نہ مانے، تو كھنے سے انسان مسلمان نھيں ھوجاتا ۔اگر وہ نماز پڑھتا ھے، روزہ ركھتا ھے، شراب نہ پيئے، جوا نہ كھلئے، فعل بد كا مرتكب نہ ھو، جھوٹ نہ كھے اگر وہ تمام گناہ نہ كرے تو تب مسلمان ھے ۔اگر ايك مسلمان جھوٹ بول ليتا ھے وہ كافر ھوجائے گا، وہ نجس ھے، اور مسلمان نھيں ھے ۔اگر ايك مرتبہ غيبت كرے يا شراب پي لے تو دين اسلام سے خارج ھے۔ غرض كہ انھوں نے گناھان كبيرہ كے مرتكب كو دائرہ اسلام سے خارج كرديا ھے ۔ يہ لوگ دوسروں كو ناپاك، كافر، مشرك اور نجس سمجھتے تھے ۔ صرف اپنے آپ كو ھر لحاظ سے نيك اور پاك خيال كرتے تھے ۔ گويا يہ زبان حال سے كھہ رھے تھے كہ آسمان كے نيچے اور زمين كے اوپر كوئي بھي ان كے سوا مسلمان وجود نھيں ركھتا ۔ ان كے نزديك امر بالمعروف اور نھي عن المنكر واجب ھے ۔ ليكن اس كي كوئي شرط و غيرہ نھيں ھے ۔ يہ لوگ مولا علي عليہ السلام كو نعوذ باللہ مسلمان نھيں سمجھتے تھے ۔ ان كا كھنا تھا كي علي (ع) كے خلاف قيام كرنا اور ان سے جنگ نہ فقط كار ثواب ھے بلكہ بہت بڑي عبادت ھے ۔ ان جاھلوں اور تنگ نظر لوگوں نے شھر كے باھر خيمہ نصب كيا ۔ اور باغي ھونے كا اعلان كرديا ۔ ان كے عقائد اور نظريات ميں انتھا پسندى، تنگ نظري كے سوا كچھ نہ تھا يہ خارجي چونكہ دوسرے لوگوں كو مسلمان نھيں سمجھتے تھے، اس لئے ان كا عقيدہ تھا كہ ان لوگوں كو رشتہ دينا چاھيے نہ لينا چاھيے ۔ ان كا ذبح شدہ گوشت حلال نھيں ھے، بلكہ ان كي عورتوں اور ان كے بال بچوں كا قتل جائز اور باعث ثواب ھے ۔