index next

سبھي كے جاننے كي باتيں

مؤلف :  آیۃ اللہ ابراھيم امينى
مترجم:محمد اصغر صادقی
  • ديباچہ
  • پهلي فصل؛ خدا كي پہچان
  • خدا كے صفات
  • دوسري فصل؛ نبوت
  • تيسري فصل؛ امامت
  • چوتھي فصل؛ قيامت
  • پانچويں فصل؛ اخلاق
  • چھٹي فصل؛ فروع دين
  • ديباچہ

    بسم اللہ الرحمن الرحيم؛

    ھم آپ سے سوال كريں گے كہ كيا اس دنيا كا پيدا كرنے والا كوئي ھے؟ يا يہ دنيا خود بخود وجود ميں آ گئي ھے اگر خدا ھے تو اس كے صفات اور اس كے يہ كام كيسے ھيں؟ كيا خدا نے ھمارے لئے دنيا ميں رھنے كے طريقے اور قانون و احكام وضع كئے ھيں كہ ھم اس كے مطابق عمل كريں يا نھيں؟ كيا خدا كے بھيجے ھوئے انبياء اپنے وعدے اور دعوے ميں سچے تھے يا نھيں؟ كيا اس دنيا كے بعد كوئي دنيا موجود ھے يا نھيں؟ يعني كيا انسان اپنے كئے ھوئے كاموں كي جزايا سزا پائے گا؟

    انسان كي عقل ھميشہ اور ھر وقت ان سوالات كے جواب كي تلاش ميں رھتي ھے،اگر يہ سوالات واضح اور حل ھوجائيں تو اس كے ضمن ميں سيكڑوں سوالات سے خود بخود نجات مل جائے گى، انسان كي عقل اچھے اور برے، غلط اور صحيح، حق اور باطل كے درميان فيصلہ كرنے پر قادر ھے اور جب تك ان سوالات كو حل نہ كرلے، اس وقت تك اپني جگہ پر آرام و اطمينان سے نھيں بيٹھ سكتى، لہٰذا ان كا حل دل و دماغ كے لئے سكون كا باعث ھے ۔

    اس طرح كے موضوعات اور سوالات كو اصول دين كھتے ھيں، اصول دين ان چيزوں كو كھاجاتا ھے جس كا تعلق انسان كي روح اورعقل و فكر سے ھوتا ھے، اور اس ميں عقلي دليلوں ھي كافقط گذر ھوتا ھے، اور تا حد نظر ثابت ھونے كے بعد اس كے اثرات اور اعمال انسان كے اعضا و جوارح سے رونما ھونا شروع ھوجاتے ھيں۔ اصول دين ميں تقليد كرنا صحيح نھيں ھے بلكہ ھر بالغ وعاقل كے لئے ضروري ھے كہ ان چيزوں كو دليلوں كے ذريعہ حاصل كرے، اگر انسان نے اپنے عقائد كو اساسي اور بنيادي دليلوں كے ذريعہ حاصل كيا ھے تو اس كا دل اور اس كي عقل مطمئن ھوجائے گي اور اندروني حيراني و سرگرداني اور پريشاني سے نجات پاجائے گا، اس وقت انسان اپني من پسند زندگي بسر كرسكتاھے ۔

    بچے اور نوجوان صغر سني اور نوجواني كے ايام ھي تہذيب و تربيت كے لئے بھترين دن ھوتے ھيں، ان دنوں ميں بچوں اور نوجوانوں كے دل و دماغ اور غلط افكارسے پاك و صاف رھتے ھيں يعني ان كي ذھنيت كثافتوں سے محفوظ مثل كيمرہ كي فلم كے ھوتي ھے كہ جيسي چاھيں تصويريں اتار ليں ۔

    اگر ان بچوں كي تعليم و تربيت صحيح ڈھنگ اور عقائد كو دليل و برہان كے ذريعہ بتائي جائيں تو ان كي عقل و روح ميں وہ بات راسخ ھو جائے گى، اور ان كے بدن كا جزء لا ينفك ھو جائے گا، پس ايسے افراد جہاں كھيں بھي رھيں اور جيسے افراد كے ساتھ رھيں اٹھيں بيٹھيں معاشرت كريں، ھرگز گمراہ نھيں ھو نگے لہذا اگر ايسے افراد غير مہذب معاشرہ اور سوسائٹي ميں پروان چڑھيں تو بھي اس ماحول ميں ڈھل نھيں سكتے، بلكہ يہ چاھيں تو پورے سماج و معاشرہ كو اپنے رنگ ميں ڈھال ديں ۔

    ليكن افسوس اس بات كا ھے كہ ھمارا معاشرہ صحيح تربيت و تعليم سے محروم ھے كيونكہ انھوں نے اپنے والدين سے بھي عقائد كو اسي طريقے سے حاصل كيا ھے لہذا اس كے مطابق اپنے بچوں كو بغير دليل و برہان كے عقائد كي تعليم ديتے ھيں، لہذا ان كا عقيدہ محكم و مستحكم نھيں ھوپاتا، دوسرے ايسے بعض خرافاتي اور بے بنياد مسائل كو دين اسلام كا جز اور عقائد كي مھم كڑي كے عنوان سے فكر كرتے ھيں اور انھيں باطل عقيدوں كے ساتھ پرائمري پھر ہائي اسكول اور انٹر كالج اور اس كے بعد يونيورسٹي ميں تعليم كے لئے جاتے ھيں اور يہاں پروہ مختلف افراد، متفرق عقائد كے لوگوں سے سروكار ركھتے ھيں، چونكہ ان كے عقيدہ كي بنياد مضبوط نھيں ھوتي اور خرافاتي چيزوں كو مذھب كا ركن سمجھتے ھيں اس لئے مختصر سے ھي اعتراضات اور شبہات ميں پريشان و متحير ھوجاتے ھيں، علمي معيار و عقائدي معلومات كي كمي كي وجہ سے حق و باطل، اچھے اور برے، غلط و صحيح ميں تميز دے نھيں پاتے جس كے نتيجہ ميں اصل دين اور روح اسلام سے بد ظن ھو جاتے ھيں، حيران و سرگردان زندگي بسر كرتے ھيں، يا كلي طور پر اسلام سے منھ موڑ ليتے ھيں، يا كم از كم ان كے اخلاق و رفتار اور اعمال پر اتنا گھرا اثر پڑتا ھے كہ اب ان كے اعمال كي پھلي كيفيت باقي نھيں رھتي ھے اور احكام و عقائد سے لاپروا ھو جاتے ھيں ۔

    اس طرح كي غلط تربيت اور اس كے اثر كو آپ معاشرے ميں بخوبي مشاھدہ كر سكتے ھيں اور كوئي ايسا نظر نھيں آتا جو ان بے چاروں كو ذلت و گمراھي كے اندھيرے سے نكالنے كي فكر كرے ۔

    ھماري ذمہ دارى

    عقيدہ كي كمزورى، اور بے دينى، آنے والي نسلوں كو ايك بڑے خطرے سے دوچار ھونے كي دھمكي دي ھي ھے، سماج كا ھر فرد اور خصوصا دين كے ليڈران، مولوى، ذاكرين، والدين، مربى، استاد، مصنفين و موٴلفين اور مالدار يہاں تك كہ سبھي حضرات اس عظيم فاجعہ اور بڑي مصيبت كے ذمہ دار ھيں ۔

    ھميں چاھيے كہ ايك منظم اور صحيح پروگرام كے تحت عقائد و اخلاق كي تعليم، دليلوں كے ذريعہ سيدھے سادے افراد اور بچوں كے ذھن نشين كرائيں اور بے بنياد، غلط ماحول اور رسم و رسومات كے خرافاتي عقائد كي بيخ كني اور جڑ سے اكھاڑ پھينكنے كے لئے ھر ممكن كوشش كريں، ان كے لئے آسان اور علمي كتابيں فراھم كريں، لائبريري بنائيں اور كم قيمت يا بغير قيمت كے كتابيں ان كے اختيار ميں قرار ديں، ھر ممكن طريقہ سے پڑھنے لكھنے كي طرف شوق و رغبت دلائيں ۔

    سر دست يہ كتاب حاضر جوانوں اور نوجوانوں كي ديني معلومات ميں اضافہ كےلئے ترتيب دي گئي ھے، اور اس كے لكھنے ميں مندرجہ ذيل نكات كي طرف بھر پور توجہ ركھي گئي ھے ۔

    ۔ كتاب كے مطالب دليل و برہان كي روشني ميں نہايت سادہ اور آسان انداز ميں بيان كئے گئے ھيں اور عقلي و عقائدي مطالب كے لئے عقلي دليلوں كا ھي سہارا ليا گيا ھے اور جو چيزيں تقليدي اور ضرورياتِ اسلام سے ھيں جيسے فروع دين وغيرہ تو ان ميں آيات اور روايات كو مد نظر ركھا گيا ھے اور ضروري مقامات پر حوالے كو حاشيہ ميں لكھ ديا گيا ھے، اور بعض جگھوں پر اختصار كے سبب حوالے سے دوري اختيار كي گئي ھے ۔

    ۔ رسول خدا (ص) اور آئمہ طاھرين عليھم السلام كي ولادت اور وفات كي تاريخوں ميں چونكہ اختلاف پايا جاتا ھے اس لئے اختصار كے طور پر فقط ايك قول كو منتخب كيا گيا ھے اور باقي اقوال سے چشم پوشي كي گئي ھے ۔

    ۔ موٴلفين كو چاھيے كہ اپنے علمي مطالب كو آسان اور سادہ انداز ميں بيان كريں تاكہ زيادہ سے زيادہ افراد استفادہ كر سكيں اور حتيٰ المقدور لكھنے ميں اصولي و فلسفي اصطلاحوں سے گريز كيا جائے تاكہ كتاب لوگوں كو تھكانے اور مغز ماري كا سبب نہ بنے ۔

    ۔ مشكوك و مخدوش، بے فائدہ اور ضعيف مطالب سے اجتناب كيا گيا ھے ۔

    ۔ اس كتاب ميں ان مھم مطالب كي طرف اشارہ كيا گيا ھے جس كا جاننا ھر مسلمان پر واجب ھے اور دين اسلام كے مفھوم كو خلاصہ كے طور پر پيش كيا گيا ھے، تاكہ قارئين دلچسپي كے ساتھ پڑھيں اور پھر تفصيلي كتابوں كي طرف مائل ھوں۔

    قارئين كرام اس مختصر سي كتاب ميں فروع دين اور عقائد و اخلاق كے تمام مسائل كو بيان نھيں كيا گيا ھے بلكہ نہايت اختصار ملحوظ خاطر تھا تاكہ آپ حضرات دوسري تفصيلي كتابوں كي طرف رجوع كريں ۔

    موجودہ كتاب كو تين حصوں ميں تقسيم كيا گيا ھے

    پھلا حصہ، عقائد: يعني ايسے مطالب كو شامل ھے جو انسان كي عقل و فكر اور اعتقاد سے مربوط ھيں اور اصلاً اس ميں كسي كي تقليد و پيروي كرنا جائز نھيں ھے، بلكہ ان كو فقط عقلي دليلوں سے ھي حل كيا جا سكتا ھے ۔

    دوسرا حصہ، اخلاق: اس ميں وہ چيزيں بيان ھوئي ھيں جو انسان كي باطني حالت اور خواھشات سے تعلق ركھتي ھيں، اس كے راہ حل اور سيدھے راستے كي طرف راھنمائي كرتي ھيں ۔

    تيسرا حصہ، فروع دين: يعني احكام و قوانين جو انسان كے اعضا و جوارح سے تعلق ركھتے ھيں، كہ ان پر عمل كرنا ضروري و واجب ھے ۔

    آخر ميں ھم قارئين كي خدمت ميں عرض كرتے ھيں كہ كوئي اچھي تجويز ھو يا كوئي كمي نظر آئے تو موٴلف كي خدمت ميں پيش كريں، تاكہ دوسرے اڈيشن ميں اس كي اصلاح كي جا سكے ۔

    قم ۔ حوزہ علميہ ۔ابراھيم امينى

    خرداد ۱۳۴۹/1970

    پهلي فصل؛ خدا كي پہچان

    علم كي اھميت

    اسلام علم و عقل كا دين ھے مسلمانوں سے دلچسپي كے ساتھ علم حاصل كرنے كو چاھتا ھے، اسلام لوگوں كي اھميت علم و دانش سے ديتا ھے اور حصول علم كو تمام لوگوں پر واجب و لازم جانتا ھے، خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں فرمايا: اے رسول (ص) پوچھو! بھلا جاننے والے اور نہ جاننے والے كھيں برابر ھو سكتے ھيں؟ 1

    اور خدا قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ھے: خدا مومنين كے مقام كو بلند كرتا ھے اور علماء كو سب سے بلند درجہ تك پھنچاتا ھے 2

    رسول (ص) خدا فرماتے ھيں: علم كا حاصل كرنا ھر مسلمان مرد و عورت پر واجب ھے 3

    آنحضرت (ص) نے فرمايا: عالم وہ ھے جو دوسروں كي معلومات اور اطلاعات سے فائدہ حاصل كرے اور اپنے علم ميں اضافہ كرے ۔۔۔۔پُر اھميت شخص وھي ھے جس كے اعمال و حسنات زيادہ ھوں، اور لوگوں ميں بے اھميت وہ ھے جس كے پاس علم و آگھي نہ ھو 4

    حضرت علي امير المومنين (ع) فرماتے ھيں: علم سے بھتر كوئي خزانہ نھيں ھے5

    حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا: ميں تمھارے جوانوں كو دو حال ميں پسند كرتا ھويا علم حاصل كرنے والے يا تعليم دينے والے ھوں اگر ايسا نھيں ھے تو انھوں نے كوتاھي كي ھے، اور ھر كوتاھي كرنے والا عمر ضائع كرتا ھے اور عمر كو برباد كرنے والا گنھگار ھے اور گنھگار كا ٹھكانہ جھنم ھے۔ 6

    حضرت باقر العلوم (ع) فرماتے ھيں: جو شخص حصول علم ميں رات و دن سرگرم رھے وہ اللہ كي رحمت ميں شريك ھے۔ 7

    حضرت سروركائنات (ص) نے ارشاد فرمايا: اے ابوذر! علمي گفتگو ميں ايك گھنٹہ رھنا، اللہ كے نزديك ہزار راتوں كي عبادت سے افضل ھے، جس كي ھر رات ميں ہزار ركعت نماز پڑھي گئي ھو۔ 8

    خدا كي پہچان

    خدا وند عالم نے دنيا كو پيدا كيا اور اسے منظم طريقہ سے چلا رھاھے، كوئي بھي چيز بغير سبب كے وجود ميں نھيں آتي ھے مثال كے طور پر اگر ھم كسي نئے گھر كو ديكھيں تو يقين كريں گے كہ اس كا بنانے والا، كار گر و مزدور اور نقشہ كھينچنے والا انجينيركوئي ضرور ھوگا، يعني يہ گھر انھيں افراد كي زحمات كا نتيجہ ھے كسي كے خيال ميں بھي نھيں آئے گا كہ يہ خودبخود تيار ھو گيا ھوگا ۔

    اگر ھم ٹيبل پر قلم اور سفيد كاغذ ركھ كر چلے جائيں اور واپسي پر ديكھيں كہ اس پر كسي نے لكھا ھے تو ديكھ كر ھميں اطمينان سا ھوجائے گا كہ ھماري غير موجودگي ميں كوئي آيا تھا، اور اس پر اپنے آثار چھوڑ گيا ھے اگر كوئي كھے بھائي صاحب آپ كي غير موجودگي ميں يہ قلم خود ھي اس پر رواں ھو گيا اوراس نے يہ تمام چيزيں لكھ دي ھے تو ھم اس كي باتوں پر تعجب كريں گے اور اس كي بات غير معقول قرار دينگے، اگر ھم كسي مقام پر خوبصورت تصوير بھترين پارك ميں بني ھوئي ديكھيں جو ھر ايك كا دل اپني طرف لبھا رھي ھو تو كيا ھمارے ذھن ميں يہ بات آئے گي كہ ھو نہ ھو يہ خود بخود بن گئي ھو گي ۔

    ھم گاڑي ميں باتيں كرتے ھوئے چلے جا رھے تھے اتفاق سے گاڑي رك گئي ڈرائيور كو اطمينان ھے كہ گاڑي بغير وجہ كے نھيں ركے گى، كوئي نہ كوئي ضرور موٹر ميں خرابي آئي ھے، اور بنانے كے لئے تمام كوششيں كر رھاھے ھم كھيں بھائي ٹھھرو ابھي گاڑي خود بخود صحيح ھوكر چلنے لگے گي !

    ھمارے ہاتھ كي گھڑي چلتے چلتے رك گئي ھم نے بنانے والے كو ديا، كيا وہ كہہ سكتا ھے كہ يہ ابھي خود ھي سے ٹھيك ھوجائے گي ۔

    آپ كو اچھي طرح معلوم ھے كہ كسي چيز كا وجود بغير علت كے نھيں ھوتا ھے، اور اس كي تلاش ھر شخص كو ھوتي ھے، اب ميں آپ سے سوال كروں يہ اتني بڑي طويل و عريض دنيا بغير كسي پيدا (بنانے والے) كرنے والے كے پيدا ھوگئي ھے؟ ھرگز ايسا نھيں ھے، اتني بڑي اور منظم دنيا پھيلے ھوئے دريا، چمكتے ھوئے ستارے اور دمكتا ھوا سورج يہ رات دن كا آنا جانا، فصلوں كي تبديلى، درختوں كے شباب، گلوں كے نكھار بغير كسي بنانے والے كے نھيں ھو سكتا ۔

    دنيا ميں نظم و ترتيب

    اگر ھم ايك ايسي عمارت ديكھيں جو نہايت منظم اور با ترتيب بني ھوئي ھو كہ اس كے اجزاآپس ميں اچھي طرح خوب ملے ھوئے ھوںاوراس ميںرھنے والوںكيلئے تمام ممكن ضروريات كي چيزيںبھي باقاعدہ اپني اپني جگہ پرفراھم ھو يعني اس ميںكسي طرح كا كوئي عيب ونقص نظرنہ آرھاھواُجالے كے لئے بجلى، پينے كے لئے بھترين پانى، سونے كے لئے كمرہ، كچن، مھمان خانہ، حمام، پيشاب خانہ اورجاڑے ميں گرم كرنے كے لئے ھيٹر، گرمى ميں سرد كرنے كے لئے (AC) اوركولربھت ھي نظافت سے پاني كے پائپ اوربجلي كے تار پھےلے ھوئے ھوں، اور اس كي بناوٹ ميں ڈاكٹري پھلوؤں پر خاص توجہ دي گئي ھو، سورج كي ٹكيا پورے طور پر اس گھر ميں نور چھڑك رھي ھو، جبھم يہ ملاحظہ كرتے ھيں تو ھماري عقل فيصلہ كرنے پر مجبور ھو جاتي ھے كہ يہ ھر لحاظ سے منظم گھر خود بخود نھيں بنا ھوگا، بلكہ اس كے بنانے اور سنوارنے والا كوئي با ھوش مدبر، دقت بيں، نہايت ظرافت سے نقشہ كے مطابق بنايا ھے ۔

    اس مثال كے ذكر كے بعد چاھتا ھوں كہ اپني روزانہ كي زندگي پر آپ لوگوں كي توجہ مبذول كراؤں انسان اپني زندگي بسر كرنے كے لئے پاني اور كھانے كا محتاج ھے كہ كھانا كھائے اور پاني پئے اور بدن كے خليوں (CELLES) كي ضروريات كو پورا كرے تاكہ بدن كے تمام خليہ زندہ اور اپنے كاموں ميں مشغول رھكر ھماري زندگي كو اچھي طرح قائم و دائم ركھيں، ضروري ھے كہ مختلف انواع كے كھانے كھائيں اور ان كو فوت ھونے سے بچائيں ورنہ انھيں كے ساتھ زندگي كے چراغ مدھم ھونا شروع ھوجائيں گے ۔

    انسان اپني زندگي كے لئے مفيد ھوا كا نياز مند ھے تاكہ اس كو جذب كرے اور داخلي جراثيم كو باھر نكال كر حيات كو تازگي بخشے، آپ ملاحظہ كريں، كس طرح ھماري زندگي كو بھترين بنانے كے لئے ضروريات كي تمام چيزيں خارج ميں موجود ھيں اگر كھانا تلاش كريں تو مختلف انواع و اقسام كے كھانے موجود ھيں اگر زندگي كے لئے گيھوں، چاول، سبزى، پھل اور گوشت وغيرہ كي تلاش ھوتو تمام كي تمام چيزيں خارج ميں موجود ھيں، اگر پاني يا ھوا كي ضرورت ھوتو باھر موجود ھے پاؤں ھوں تو كھانے كي تلاش ميں نكل سكتے ھيں آنكھيں ھوں تو مناسب اچھي غذائيں ديكھ سكتي ھيں اور ہاتھ ھوں تو اٹھا سكتے ھيں، اور پيدا كرنے والے نے ہاتھ كو بھي كيا خلق كيا ھے كہ پورے طور پر ھمارے اختيار اور ھماري ضروريات كو مختلف انداز ميں پورا كرنے كے لئے تيار ھے جس طرح اور جس وقت چاھيں اٹھائيں بيٹھائيں فقط ھمارے ارادہ كے محتاج ھيں، جيسا ارادہ ھو ويسا كريں، بند كرنا چاھيں تو كھلے نہ، اور كھولنا چاھيں تو بند نہ ھو، كس قدر تعجب خيز ھے ہاتھوں كي بناوٹ اور اس ميں انگليوں اور ھتھيليوں كي ظرافت، ھونٹوں كو پيدا كيا تاكہ منھ كو بند ركھيں لقمہ باھر آنے سے محفوظ رھے ۔

    مشكل ترين مسئلہ يہ ھے كہ بدن كي ضروري غذائيں جو رنگ برنگ اور مختلف اقسام كے ساتھ پائي جاتي ھيں كيا يہ اتني آساني سے بدن كے خليوں كے لئے لائقِ استفادہ ھو سكتي ھيں؟ ھر شخص كہہ سكتا ھے، نھيں بلكہ اس ميں بھترين طريقہ سے تغير و تبديلي واقع ھو، تاكہ وہ بدن كے استفادہ كے مطابق ھو سكے، انسان كي داخلي مشينري (Machinery) غذا كو چار مرحلہ كے بعد ہضم كے لائق بناتي ھے لہذا (بطور عبرت) خلاصة ً قارئين كے پيش خدمت ھے ۔

    پھلا مرحلہ: خدا وند عالم نے ھمارے منھ ميں دانت جيسي نعمت دي جو غذا كے مطابق لقمہ كو چبا كر ريزہ ريزہ كرنے كے كام آتے ھيں، اور زبان ميں حركت عطا كي تاكہ لقمہ كو مناسب دانتوں كي طرف ھدايت كرے اور منھ كے اندر بعض حصوں كو ايسا منزہ بنايا جو كھانے كے ذائقہ اور اس كي اچھائي و خرابى، مٹھاس اور تلخي كو دماغ كي طرف منتقل كرتے ھيں، اور اسي لقمہ (غذا) كے مطابق، مرطوب اور نرم كرنے كے لئے مخصوص پاني چھوڑتے ھيں، تاكہ وہ لقمہ آساني سے چبانے اور نگلنے كے لائق ھو جائے اس كے علاوہ يہ منھ كے پاني غذا كو ہضم كرنے ميں كافي مدد كرتے ھيں اور خود اس كے اندر شيميائي اور كيميائي طاقتيں بھر پور پائي جاتي ھيں ۔

    دوسرا مرحلہ: جب دانت اپنے كام سے فارغ ھوجائے يعني لقمہ نگلنے كے لائق ھو جائے تو غذا منھ كے راستہ كے ذريعہ معدہ ميں پھونچ جاتي ھے، لقمہ كو نيچے جاتے وقت چھوٹي زبان (كوا) ناك اور سانس كے سوراخ كو بند كر ديتي ھے اور اس مخصوص پردہ كے ذريعہ ناك و سانس كے راستے كو بن كرنے كا مقصد يہ ھے كہ كھانا ناك كے سوراخ ميں نہ چلا جائے ۔

    تيسرا مرحلہ: كھانا كچھ دير معدہ ميں رھتا ھے تاكہ وہ ہضم كي صلاحيت پيدا كر لے، معدہ كي ديواروں ميں ہزاروں چھوٹے چھوٹے غدود پائے جاتے ھيں جس سے خاص قسم كا سيال پاني نكلتا ھے لہذا اس كے ذريعہ كھانا ہضم اور بھنے والے پاني كے مانند ھوجاتا ھے ۔

    چوتھا مرحلہ: غذا پتلي ناليوں كے ذريعہ (آنت) پت كي تھيلي ميں جاتي ھے اور وہاں پر بڑا غدود جس كو (لوزالمعدہ) كھتے ھيں، جس سے مخصوص قسم كا، سيال اور غليظ پاني نكلتا ھے جو غذا كو ہضم كرنے كے لئے نہايت ھي ضروري ھے، كھانا آنت ميں بھنے والي چيزوں كي طرح رھتا ھے، اور اس آنت كي ديواروں پر لگے ھوئے غدود اس سے غذائي مواد حاصل كرتے ھيں، اور اس مواد كو خون كي صورت ميں تبديل كر كے تمام بدن ميں پھنچاتے ھيں اور دل جو برابر حركت ميں رھتا ھے، ان قيمتي مواد كو خون كے ذريعہ بدن كے تمام حصوںميں بھيجتا ھے اور اس طريقہ سے انسان كے بدن كے تمام خليے اپني اپني غذائيں حاصل كرتے ھيں ۔

    توجہ كي بات ھے كہ انسان كے عضلات اور دنيا كي چيزوں ميں كس قدر ارتباط اور رابطہ پايا جاتا ھے، كيا اب بھي كسي ميں ھمت ھے جو كھے يہ دنيا خود بخود پيدا ھوگئي ھے !

    اگر ھم اپنے بدن كي ساخت پر نظر ڈاليں اور اعضائے بدن كے اندر جو دقيق و عميق ريزہ كاري اور باريك بيني كا مظاھرہ كيا گيا ھے غور و فكر كريں تو تعجب كي انتھاباقي نہ رھے گي كہ اس بدن كے اجزا اور دنياوي چيزوں كے درميان كيسا گھرا تعلق اور رابطہ پايا جاتا ھے جس سے ھمارے لئے يہ بات بخوبي واضح ھو جاتي ھے كہ انسان اور دوسري تمام چيزيں، خود بخود وجود ميں نھيں آئي ھيں ۔

    بلكہ پيدا كرنے والے نے بھت ھي تدبير اور ذرہ بيني اور تمام ضروريات كو مد نظر ركھنے كے بعد خلق فرمايا ھے، كيا خدا كے علاوہ كوئي ھو سكتا ھے جو انسان اور دنيا كے درميان اتنا گھرا رابطہ پيدا كر سكے؟ كيا طبيعت جس ميں كوئي شعور نھيں ھے انسان كے ہاتھوں كو اس طرح موزوں اورمناسب خلق كر سكتي ھے؟ كيا طبيعت كے بس كا ھے جو انسان كے منھ ميں ايسا غدود ركھے جس سے انسان كا منھ ھميشہ تروتازہ بنا رھے؟ كيا چھوٹي زبان (كوا) جو سانس اور ناك كے مقام كو ھر لقمہ اور ھر قطرہ پاني سے محفوظ ركھتي ھے خود بخود بن جائے گى؟ كيا يہ معدہ كے غدود جو غذا كے لئے ہاضم بنتے ھيں خود بخود خلق ھوئے ھيں ؟وہ كونسي چيز ھے (لوزالمعدہ) جو بڑے غدود كو حكم ديتي ھے كہ وہ سيال اور غليظ پاني كا غذا پر چھڑكاؤ كرے؟ كيا انسان كے دو عضو اپنے فائدہ كا خود خيال ركھتے ھيں ؟وہ كيا چيز ھے جو دل كو مجبور كرتي ھے كہ وہ رات ودن اپنے وظائف كو انجام دے اور پروٹين (Protein) حياتي ذرّات كو بدن كے تمام حصوں ميں پھنچائے؟ ہاں، خداوند عالم كي ذات ھے جو انسان كے عضلاتي مجموعے كو صحيح طريقہ اور اصول پر منظم ركھتے ھيں۔

    بچپنے كا زمانہ

    اب ھم اپني زندگي كے دوسرے پھلوؤں پر بھي نظر ڈاليں، جب ھم نے دنيا ميں آنكھيں كھوليں، تو اتنے لاغر و كمزور تھے كہ بات كرنے كي بھي تاب نھيں ركھتے تھے چل كر معاش فراھم كرنا كيسا؟ ھمارے ہاتھوں ميں تو لقمہ اٹھانے كي طاقت نھيں تھي جو اٹھاتے اور منھ ميں ركھتے، منھ ميں كيا ركھتے كہ چبانے كے لئے دانت نھيں تھا، معدہ ميں ہضم كرنے كي صلاحيت موجود نھيں تھى، اس حال ميں سب سے بھترين غذا خداوند عالم نے دودھ كو ھمارے لئے قرار ديا ۔

    جب ھم نے دنيا ميں آنكھيں كھولي تو خدا نے اس سے پھلے ھي ماں كے سينہ ميں ھماري غذاركھ چھوڑي تھى، اس كے دل ميں ھماري محبت اور الفت كي جگہ دي تاكہ رات و دن كے ھر لمحات ميں ھمارے لئے زحمت و مشقت برداشت كرے، ھماري زندگي كو اپني زندگي ھمارے آرام كو اپنے لئے آرام سمجھے جب تھوڑا بڑے ھوئے ہاتھ پاؤں آنكھ كان اور معدہ كي قوت كے سبب سنگين غذاؤں كي طرف ہاتھ بڑھانا اور معمولي دانتوں سے كھانا شروع كيا۔

    انصاف كريں

    كس نے ھمارے لئے محبت پيدا كى؟ اور ھمارے بچپنے كي ضروريات كو پورا كرنے كے لئے ماں جيسي شفيق و مھربان خاتون بنايا؟ كس نے اس وسيع و عريض دنيا، چمكنے والے ستارے سورج اور چاند كو خلق كيا؟ كس نے اس دنيا كو منظم و مرتب پيدا كيا؟ كس نے زمين اور چاند كو عميق حسابوں سے رواں دواں كيا؟ يہ جاڑے، گرمى، برسات اور خزاں كو كس نے معين فرمايا؟ !

    آنكھ، كان، زبان، معدہ، دل، كليجہ، آنت، پھيپھڑا، ہاتھ، پاؤں، دماغ اور دوسرے تمام بدن كے عضلات اس مہارت سے كام كرنے والے كس نے بنائے ھيں؟

    كيا ممكن ھے بے شعور و بے ارادہ طبيعت، حيوان و انسان كے اعضا كو پيدا كرنے كي علت بن سكتي ھے؟ جب كي آنكھ جيسا حصہ، نہات دقت و باريك بيني كو گھيرے ھوئے ھے نھيں ھرگز ايسا ممكن نھيں ھے بلكہ خدائے مھربان نے ان كو پيدا كيا ھے وھي ھے، جو ھميشہ سے ھے اور ھميشہ رھے گا، اور زندہ ركھتا ھے اور مارتا ھے، خدا ھي ھے جو بندوں كو دوست ركھتا ھے اور ان كے لئے تمام نعمتوں كو پيدا كرتا ھے ھم خدا كو چاھتے ھيں اور اس كے سامنے عاجزي و فروتني سے سر جھكاتے ھيں، اس كے احكام كي اطاعت كرتے ھيں، اور اس كے علاوہ كسي كو مستحق عبادت و اطاعت نھيں جانتے، اور اپنے سر كو دوسروں كے سامنے عاجزي و ذلت سے نھيں جھكاتے ھيں ۔

    ھر موجود كے لئے علت كا ھونا ضروري ھے

    ھم جن چيزوں كي تحقيق كرنا چاھتے ھيں اس كے وجود اور موجود ھونے ميں كيسے فكر كريں؟ اس مطلب كو ھم اپنے وجدان سے درك كر سكتے ھيں كہ يہ موجود خود بخود وجود ميں نھيں آئي ھے موجود كے لئے وجود، عينِ ذات نھيں ھے مقام ذات ميں وجود و عدم سے خالي ھے اور وجود و عدم دونوں ھي اس كو چاھتے اور يہ دونوں كي قابليت ركھتے ھيں ايسے موجود كو ممكن كھتے ھيں مثلا پاني پر توجہ كريں ھم وجداناً كھيں گے كہ پاني در حقيقت نہ وجود ھے اور نہ ھي عدم، نہ بالذات وجود چاھتا ھے اور نہ عدم بلكہ دونوں كي نسبت مقام اقتضا اور خواھش ھے وہ چاھے وجود كو لے كر موجود ھوجائے اور چاھے تو عدم ھي رھے۔ پاني كي طرح دنيا كي تمام چيزيں مقام ذات ميں اپنے وجود و عدم سے خالي ھيں يہاں پر ھماري عقل كھتي ھے موجودات چونكہ مقام ذات ميں خود يہ وجود نھيں ركھتي ھيں، اگر چاھيں تو وجود ميں آجائيں تو چاھيے كہ ايك دوسرا عامل ھو جو اس كے نقائص اور كمي كو دور كرے تاكہ وہ چيز موجود اور ظاھر ھوسكے ۔

    مقام ذات ميں تمام موجودات فقير اور ضرورت مند ھيں جب تك كہ ان كي احتياج پوري نہ ھو ان پر وجود كا لباس نھيں آسكتا ھے اور وہ چيز موجود نھيں ھو سكتي ھے، تمام دنيا چونكہ اپني ذات ميں كمي و نقص ركھتي ھے اور خود مستقل اور اپنے پيروں پر نھيں ھے لہٰذا ممكن ھے، تو چاھيے ايك كامل مستقل اور بے نياز وجود ركھنے والا جس كا وجود خود عين ذات ھو، اور اس كے لئے ممكن ھونے كا تصور بھي محال ھو، آئے اور اس كو وجود كا لباس پھنائے ايسے وجود كامل كو واجب الوجود اور خدا كھتے ھيں، خدا كي ذات عين وجود ھے اور اس كے لئے عدم و نابودي اصلاً متصور نھيں ھے، يعني خود اس كا وجود عين ذات اور مستقل ھے (جيسے دال نمكين ھے نمك كي وجہ سے اور نمك خود اپني وجہ سے نمكين ھے) اور تمام دنيا اور موجودات اس كے ضرورت مند و محتاج ھيں اور اسي سے اپنا وجود حاصل كرتے ھيں۔


    1. سورہ زمر (۳۹) آيت ۹۔

    2. سورہ مجادلہ (۵۸) آيت ۱۱ ۔

    3. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۷۔

    4. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۶۴ ۔

    5. بحار الانوار، ج ۱،ص ۱۶۵ ۔

    6. بحار الانوار، ج۱، ص۱۷۰ ۔

    7. بحار الانوار، ج۱، ص ۱۷۴ ۔

    8. بحار الانوار، ج۱،ص ۲۰۳ ۔

    خدا كے صفات

    خدا كے صفات

    اللہ كے صفات كو كلي طور پر دو حصوں ميں تقسيم كيا جاتا ھے 9 صفات ثبوتيہ يا جماليہ 10 صفات سلبيہ يا جلاليہ ۔

    صفات ثبوتيہ

    ھر وہ صفت جو اصل وجود كے كمال اور اس كي اھميت ميں اضافہ اور اس كي ذات كو كامل كرنے كے لئے لائي جائے اس شرط كے ساتھ كہ موصوف اور ذات ميں كوئي تغير و تبديلي لازم نہ آئے، ان صفات كو جماليہ يا صفات ثبوتيہ كھتے ھيں جيسے علم و قدرت حيات و تكلم ۔

    ان صفات كي اھميت كو سمجھنے كے لئے آسان سي مثال ديتے ھيں، اگر ھم دو آدميوں ميں علم و جھل كے عنوان سے تقابل كريں تو اس مطلب كو بخوبي درك كر سكتے ھيں كہ جاھل كے مقابلے ميں عالم پُر اھميت اور فائدہ بخش ھے، لہٰذا يہ عالم جاھل كے مقابلے ميں برتري و فضيلت كا پھلو ركھتا ھے لہذا ھم فيصلہ كريں گے كہ كمالات كے صفات ميں ايك علم بھي ھے، اور ايسے ھي دوسري صفتوں كو مقايسہ كرنے پر حقيقت و برتري صفات جماليہ كي كھل كر روشن ھوجائيگي اور يہ تمام صفات اس كے لئے ثابت ھيں، اس مطلب كو مزيد واضح كرنے كے لئے ھم دو دليلوں پر اكتفا كرتے ھيں ۔

    پھلي دليل: خداوند عالم نے خير و خوبي اور اچھائيوں كو لوگوں كے لئے پيدا كيا ھے كيونكہ انسان اپنے وجود ميں خدا كا محتاج ھے ايسے ھي اپنے صفات اور وجودي كمالات ميں بھي اسي كا محتاج ھوتا ھے، خداوند عالم نے انسان كو پيدا كيا، ليكن اپني بقا ميں انسان مستقل وجود نھيں ركھتا ھے، تمام خير و خوبيوں كو خدا نے انسان كے لئے پيدا كيا، مگر خود يہ خوبياں اپني بقا ميں مستقل وجود نھيں ركھتي ھيں معلوم ھوا خواہ ذات ھوں اور خواہ صفات ھر حال ميں اسي كي محتاج ھيں (بے نياز نھيں ھيں) لہٰذا خدا ھي ان صفات كمال و جمال كا پيدا كرنے والا ھے ۔

    اگر ھم تھوڑا دھيان ديں تو يہ حقيقت كھل كر آشكار ھوجائے گي كہ خدا نے انسان كے لئے تمام كمالات كو پيدا كيا ھے يہ كيسے ممكن ھے كہ ان كمالات سے اپنے كو خالي ركھے، يا اس كے پاس موجود نہ ھو اگر اس كے پاس نہ ھوگا تو دوسروں كو كيسے دے سكتا ھے (فاقد الشيء لا يعطي الشي ء) لہذا ماننا پڑے گا كہ خدا كے پاس تمام كمالات و خوبياں موجود ھيں، اور اسي نے لوگوں كے لئے ان صفات كو قرار ديا ھے، جب تك چراغ روشن نہ ھو، دوسروں كو روشن نھيں كر سكتا جب تك پاني خود تر نہ ھو دوسري چيزوں كو تر نھيں كر سكتا ھے ۔

    دوسري دليل: ذات پروردگار عالم مطلق ھے يعني اس كي ذات ميں كسي طرح كي قيد و حد اور نقص نھيں پايا جاتا ھے جب وہ محدود و ممكن نھيں ھے تو وہ كسي كا محتاج بھي نھيں اور نہ ھي اپنے وجود كو كسي دوسرے سے ليا ھے اس لئے كہ محتاج و ضرورت مند وہ ھوتا ھے جو محدود ھو يا جس ميں كمي پائي جاتي ھو ليكن خدا كي ذاتِ مطلق تام و كامل و واجب الوجود ھے لہٰذا جو صفت بھي كمال كے اوپر دلالت كرے گي خدا وند عالم كے لئے ثابت ھے اس سے خدا كي ذات محدود يا مقيد نھيں ھوتى، بلكہ اس صفات كا خدا ميں نہ پايا جانا اس كي ذات ميں نقص كا باعث ھے كيونكہ ان صفات كماليہ كا خداوندعالم ميںنہ پايا جانا ضرورت اور احتياج كا سبب ھے، جب كہ خدا كي ذات واجب الوجود اوربالذات بے نياز ھے ۔

    صفات ثبوتيہ: خداوند عالم ميں پائي جانے والي صفتيں يہ ھيں:

    ۔ قدرت: خدا قادر ھے يعني جس كام كو انجام دينا چاھے انجام ديتا ھے كسي كام كے كرنے پر مجبور اور عاجز نھيں ھے اور نہ ھي اس كي قدرت كے لئے كوئي جگہ مخصوص ھے بلكہ اس كي قدرت حد بندي سے خالي ھر جگہ موجود ھے ۔

    ۔ علم: خدا عالم ھے يعني تمام چيزوں كو جاننے والا اور تمام موجودات پر احاطہ و قدرت ركھنے والا ھے اس سے كوئي چيز پوشيدہ نھيں ھے يہاں تك كہ بندوں كے افكار و خيالات سے بھي واقف ھے اور ھر چيز اس كے سامنے ھے ۔

    ۔ حيات: خدا حي ھے خداوند عالم اپنے كاموں كو علم و ارادہ و قدرت سے انجام ديتا ھے خدا انسانوں كي طرح سانس كے آنے اور جانے كے مثل زندہ نھيں ھے وہ چونكہ اپنے كام كو علم و اراد ہ اور قدرت سے انجام ديتا ھے اس لئے اس كو حي كھتے ھيں۔

    ۔ ارادہ: خدا مريد ھے اپنے كاموں كو قصد و ارادہ سے انجام ديتا ھے آگ كي طرح نھيں كہ بغير ارادہ جلادے خداوند عالم كا وجود، وجودِ كامل ھے جو اپنے ارادہ سے كام كو انجام ديتا ھے، مثلِ فاعل مجبور اور بے ارادہ نھيں ھے ۔

    ۔ بصير ھے: خداوند عالم ديكھنے والا ھے تما م پيدا ھونے والي چيزوں كو ديكھنے والا ھے كوئي چيز اس سے پوشيدہ نھيں ھے ۔

    ۔ سميع ھے: خدا سننے والا ھے تمام سننے والي چيزوں كو سنتا ھے كسي چيز سے غافل نھيں ھے۔

    ۔ قديم و ابدي ھے: قديم يعني ھميشہ سے ھے اس كي كوئي ابتدا نھيں ھے ابدي يعني ھميشہ رھے گا اس كي كوئي انتھانھيں ھے ۔

    ۔ متكلم ھے: حقيقت كو دوسروں كے لئے اظہار اور اپنے مقصد كو دوسروں تك پھنچاتا ھے۔

    ان صفات كو صفات ثبوتيہ يا جماليہ كھتے ھيں جو خداوند عالم ميں موجود اور اس كي عين ذات ھيں ۔

    ياد دہانى

    چونكہ ھم ناقص ھيںاس لئے ھم اپنے كام كو بغير كسي آلات، كے انجام نھيں دے سكتے قدرت و طاقت كے باوجود بھي اپنے اعضا و جوارح كے محتاج ھيں سننے كي طاقت كے باوجود كان كے ضرورت مند ھيں ديكھنے كي طاقت كے ھوتے ھوئے آنكھ كے محتاج ھيں، چلنے كي طاقت كے ھوتے ھوئے بھي پاؤں كے نيازمند ھيں ۔ خداوند عالم كي ذات جو كمال مطلق كي حامل ھے وہ كسي كام ميں دوسروں كي محتاج نھيں ھے، لہذا خداوند عالم قادر مطلق بغير آنكھ كے ديكھتا ھے، بغير كان كے سنتا ھے، بغير اعضا وجوارح (جسم و جسمانيت سے خالي) كے تمام كام كو انجام ديتا ھے، ھر ايك كي بگڑي بناتا ھے ۔

    ھمارے خيال ميں ديكھنے اور سننے كے لئے فقط آنكھ، كان ھي كي راہ پائي جاتي ھے، لہذا جس كا كان صحيح اور آنكھ ديكھنے والي ھے تو كھتے ھيں كہ وہ ديكھتا اور سنتا ھے، ورنہ اندھا و بھرہ ھے ۔

    ليكن ديكھنے اور سننے كي اس كے علاوہ بھي راہ پائي جاتي ھے اور در حقيقت وھي اصل ديكھنا اور سننا ھے اگر آنكھ كے وسيلہ سے ديكھا تو كيا ديكھا، كان كے ذريعہ سے سنا تو كيا سنا، خدا كسي بھي وسيلہ و اسباب كا محتاج نھيں ھے، لہذا بغير وسيلہ كے سنتا اور ديكھتا ھے كوئي چيز اس سے مخفي نھيں ھے۔

    ھم محدود و محتاج ھيں لہذا ھر كام ميں كسي كے محتاج ھيں اگر اس دائرہ سے باھر ھوں يعني محدود و ناقص نہ ھوتے تو ھم بھي بغير آنكھ كے تمام چيزيں ديكھتے، اور بغير كان كے تمام آوازيں سنتے اور كھاجائے كہ سننے اور ديكھنے كي حقيقت در اصل اس پر صادق آتي ھے، جيسے ھم خواب ميں بغير آنكھ و كان كے ديكھتے اور سنتے اور تمام كام انجام ديتے ھيں ۔

    مگر خداوند عالم كي ذات والا صفات جو نہايت درجہ كمال اپنے وجود ميں ركھتا ھے، اس كي بنائي ھوئي تمام چيزيں، اس كا ھر ايك كام، بے عيب و نقص ھے كيونكہ وہ كامل ھے اس كے افعال بھي حد درجہ كمال ركھتے ھيں ۔

    خدا كي صفات ذاتيہ اور فعليہ

    صفات ثبوتيہ كي دو قسميں ھيں: 11 صفات ذاتيہ 12 صفات فعليہ

    صفات ذاتيہ: ان صفات كو كھاجاتا ھے جو ھميشہ خدا كي ذات كے لئے ثابت ھيں اور اس كي ذات كے علاوہ كسي چيز پر موقوف نھيں ھے، ان كو صفات ذاتيہ كھتے ھيں جسے علم و قدرت وغيرہ ۔

    يہ صفات ذاتيہ ھميشہ خدا كے ساتھ ھيں بلكہ اس كي عين ذات ھيں ان كا ثبوت كسي دوسرے وجود پر موقوف نھيں ھے خدا كي ذات عالم تھي دنيا كو خلق كرنے سے پھلے قادر ھے چاھے كسي چيز كو نہ پيدا كرے، ھميشہ سے زندہ ھے اور ھميشہ رھے گا موجودات رھيں يا نہ رھيں، اس كا علم و قدرت و حيات وغيرہ سب عينِ ذات ھيں، كبھي بھي اس كي ذات ان صفات كماليہ سے خالي نھيں ھو سكتي ھے، اس لئے كہ وہ عين ذات ھے، ورنہ خدا كي ذات كا محدود و ناقص اور محتاج ھونا لازم آئے گا جو خدا كي ذات سے بعيد ھے ۔

    صفات فعليہ: ان صفات كو كھتے ھيںجو خداوند عالم كے بعض كاموں سے اخذ كي جاتي ھيں جيسے رازق و خالق اور جواد وغيرہ، جب اس نے موجودات كو خلق كيا تو خالق پكارا گيا، جب مخلوقات كو رزق عطا كيا تو رازق كھاگيا، جب بخشش و كرم كا عمل انجام ديا تو جواد ھوا، جب بندوں كے گناھوں اور عيبوں كو پوشيدہ اور معاف كيا تو غفور كھلايا،اس طرح كے صفات خدا اور بندوں كے درميان ايك خاص قسم كے رابطہ كي طرف اشارہ كرتے ھيں ۔

    ايك حديث

    حسين بن خالد بيان كرتے ھيں: ميں نے امام علي بن موسيٰ الرضا (ع) كو فرماتے ھوئے سنا: آپ ارشاد فرمارھے تھے: خدا ھميشہ سے قادر اور عالم و حي ھے، ميں نے عرض كي يا بن رسول (ص) اللہ ! بعض لوگوں كا خيال ھے كہ علم خدا زائد بر ذات ھے، قادر ھے مگر زائد بر ذات ھے، زندہ ھے مگر زائد بر ذات ھے، قديم ھے مگر قديم زائد بر ذات ھے، ايسے ھي سميع و بصير ديكھنے اور سننے والا ھے، مگر ديكھنا اور سننا زائد برذات ھے؟ امام (ع) نے فرمايا: جس شخص نے خدا كے ان صفات كو زائد بر ذات جانا وہ مشرك ھے اور وہ ھمارا پيرو كار اور شيعہ نھيں ھے، خدا ھميشہ سے عالم و قديم حي قادر اور سميع و بصير ھے (اور رھے گا) ليكن اس كي ذات اور يہ صفات عين ذات ھيں ۔ 13

    صفات سلبيہ

    ھر وہ صفات جو يہ بيان كرے كہ اس كي ذات نقص و عيب سے پاك و مبرا ھے اسے صفات سلبيہ كھتے ھيں، خداوند عالم كي ذات كامل اور اس ميں كوئي عيب و نقص نھيں پايا جاتا ھے، لہذا ھر وہ صفات جو نقص يا عيب خداوند عالم پر دلالت كرے ان صفات كو سلب اور جدا كرنا ضروري ھے ۔

    صفات سلبيہ يا جلاليہ يہ ھيں

    1) خدا مركب نہيں ہے: ہر وہ چيز جود و جز يا اس سے زائد اجزا سے مل كر بنے اسے مركب كہتے ہيں، اور خدا مركب نہيں ہے اور نہ اس ميں اجزا كا تصور پايا جاتا ہے، كيونكہ ہر مركب اپنے اجزا كا محتاج ہے اور بغير اس اجزا كے اس كا وجود ميں آنا محال ہے، اگر اللہ كي ذات بھي مركب ہو تو، مجبوراً اس كي ذات ان اجزا كي ضرورتمند ہوگى، اور ہر وہ ذات جو محتاج، ناقص اور بہت سے اجزا كا مجموعہ ہو، وہ واجب الوجودا ورخدا نہيں ہو سكتي ۔

    دوسرے: ہر مركب علت كا محتاج ہوتا ہے يہاں تك كہ اس كے اجزائے تركيبيہ مليں اور اس كو تشكيل ديں، پھر علت آكر اس كو وجود ميں لائے اگر خدا ايسا ہے تو اس كو اپنے وجود ميں علت اور اجزائے تركيبيہ كا محتاج ہونا لازم آئے گا، لہٰذا جو ذات ناقص اور اپنے وجود ميں علت كي محتاج ہو، وہ واجب الوجود خدا نہيں ہو سكتي ۔

    2) خدا جسم نہيں ركھتا: اجزا سے مركب چيز كو جسم كہتے ہيں، اور اوپر بيان ہوا كہ خدا مركب نہيں ہے، لہذا وہ جسم بھي نہيں ركھتا ہے ۔

    دوسرے: ہر جسم كے لئے ايك جگہ و مكان كا ہونا ضروري ہے، اور بغير مكان كے جسم نہيں رہ سكتا، جب كہ خداوند عالم خود مكان كو پيدا كرنے والا ہے اس كا ضرورتمند و محتاج نہيں ہے اگر خدا جسم ركھے اور مكان كا محتاج ہو تو وہ خدا واجب الوجود نہيں ہو سكتا ہے ۔

    3) خدا مرئي نہيں: خدا دكھائي نہيں دے سكتا ہے، يعني اس كو آنكھ كے ذريعہ كوئي ديكھنا چاہے تو ممكن نہيں، اس لئے كہ دكھائي وہ چيز ديتي ہے جو جسم ركھے اور خدا جسم نہيں ركھتا ہے لہذا اس كو نہيں ديكھا جا سكتا ۔

    4) خدا جاہل نہيں ہے: جيسا كہ صفات ثبوتيہ ميں بيان ہوا، خدا ہر چيز كا عالم ہے، اور اس كے علم كے لئے كسي طرح كي قيد و شرط و حد بندي نہيں ہے، اور جہالت و ناداني عيب و نقص ہے اور خداوند عالم وجود مطلق عيب و نقص سے پاك ہے۔

    5) خدا عاجز و مجبور نھيں: پھلے بھي صفات ثبوتيہ ميں گذر چكا ھے كہ خدا ھر كام كے كرنے پر قادر اور كسي بھي ممكن كام پر مجبور و عاجز نھيں ھے اور اس كي قدرت كے لئے كسي طرح كي كوئي مجبوري نھيں ھے اسلئے كہ عاجزي و مجبوري نقص ھے اور خدا كي ذات تمام نقائص سے مبراو منزہ ھے۔

    6) خدا كيلئے محل حوادث نھيں: خداوند عالم كي ذات ميں كسي طرح كي تبديلي و تغيير ممكن نھيں ھے جيسے كمزورى، پيرى، جواني اس ميں نھيں پائي جاتي ھے، اس كو بھوك، پياس، غفلت اور نيند نيز خستگي وغيرہ كا احساس نھيں ھوتا، اسلئے يہ تمام چيزيں جسم و مادہ كے لئے ضروري ھيں اور پھلے گذر چكا ھے كہ خدا جسم و جسمانيات سے پاك ھے لہٰذا خدا كي ذات محل حوادث يعني تغير و تبديلي كي حامل نھيں ھے ۔

    7) خدا كا شريك نھيں: اس مطلب كي دليليں توحيد كي بحث ميں ذكر كي جائيں گي ۔

    8) خدا مكان نھيں ركھتا: خدا وند عالم كسي جگہ پر مستقر نھيں ھے نہ زمين ميں اور نہ ھي آسمان ميں كيونكہ وہ جسم نھيں ركھتا، اس لئے مكان كا محتاج نھيں ھے ۔

    خدا نے مكان كو پيدا كيا،اور خود ان مكانات سے افضل و برتر،نيز تمام موجودات پر احاطہ كئے ھوئے ھے، كوئي جگہ اس كے وجود كو نھيں گھير سكتي وہ تمام جگہ اور ھر چيز پر تسلط ركھتا ھے، اس كا ھر گز يہ مفھوم نھيں ھوتا كہ اس كا اتنا بڑا جسم ھے، جو اس طرف سے لے كر اس طرف تك پورا گھيرے ھوئے ھے، بلكہ اس كا وجود، وجود مطلق ھے يعني اس ميں جسم و جسمانيات كا گذر نھيں ھے، اور نہ اس كے لئے كوئي قيد و شرط (يہاں رھے يا اس وقت وہاں رھے) پائي جاتي ھے لہذا كسي جگہ كا وہ پابند نھيں تمام موجودات پر احاطہ ركھتا ھے، كوئي چيز اس كے دست قدرت سے خارج نھيں ھے، لہذا اس كے لئے يہاں اور وہاں كھنا درست نھيں ھے ۔

    سوال يہ پيدا ھوتا ھے كہ پھر دعا كے وقت ہاتھوں كو كيوں آسمان كي طرف اٹھاتے ھيں؟ آسمان كي طرف ہاتھوں كے اٹھانے كا يہ مطلب نھيں ھے كہ خداوند عالم كي ذات والا صفات آسمان پر ھے، بلكہ ہاتھوں كو آسمان كي طرف بلند كرنے سے مراد درگاہ خدا ميں فروتني و انكساري و عاجزي و پريشاني كے ساتھ سوال كرنا ھے ۔

    مسجد اور خانہ كعبہ كو خدا كا گھر كيوں كھتے ھيں؟ اس لئے كہ وہاں پر خدا كي عبادت ھوتي ھے، اور خدا نے اس مقام كو اور زمينوں سے بلند و برتر و مقدس بنايا ھے (جيسے خداوند عالم نے مومن كے دل (قلب) كو اپنا گھر كھاھے اور كھتا ھے خدا ھر جگہ و ھر طرف موجود ھے، (فَاَينَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجہُ اللّٰہِ) 14

    9) خدا محتاج نھيں: خداوند عالم كسي شي كا محتاج نھيں ھے، اس لئے كہ اس كي ذات ھر جھت سے كامل و تام ھے اس ميں نقص اور كمي موجود نھيں ھے جو كسي چيز كا محتاج ھو اور اگر محتاج ھے تو پھر واجب الوجود خدا نھيں ھو سكتا ھے ۔

    پھر خداوند عالم نے ھمارے لئے روزہ و نماز جيسے فريضہ كو كيوں واجب كيا ھے؟ اس كا سبب يہ نھيں ھے كہ خدا كي ذات ناقص ھے اور ان عبادتوں كے ذريعہ اپني كمي كو پورا كرنا چاھتا ھے، بلكہ خدا كا مطمحِ نظر يہ ھے كہ انسان عبادت كرے اور اپنے نفس كو نوراني اور كامل كركے اس كي ھميشہ آباد رھنے والي جنت كے لائق ھو جائے ۔

    خدا جو ھم سے چاھتا ھے كہ ھم خمس و زكواة و صدقہ ديں، تو اس كا مطلب يہ ھے كہ خدا غريب و فقير، ضرورتمندوں كي مدد اور ان پر احسان كرنا چاھتا ھے، تاكہ لوگ نيكي و احسان ميں آگے آگے رھيں، اس وجہ سے نھيں كہ ھماري معمولي اور مادي مدد سے وہ خود اپني ضرورت كو پورا كرے كيونكہ خود يہ خمس و زكات اور صدقات ھمارے سماج كي اپني ضرورت ھے اور لوگوں كے فائدے كے مدنظر بعض كو واجب قرار ديا اور بعض كو مستحب، ليكن ھر ايك كا مصرف انھيں ضرورتمند افراد كو قرار ديا ھے، قطع نظران چيزوں كے، اگر ھم غور و فكر كريں كہ خدا كي راہ ميں خرچ كرنا مجبوروں اور غريبوں پر احسان و مدد كرنا اور سماج كي ضروريات كو پورا كرنا (جيسے مسجد و امام بارگاہ و مدرسہ كي تعمير كرنا) خود ايك بھترين عبادت اور نفس كو منزل كمال پر پھنچانے اور آخرت ميں منزل مقصود تك پھونچنے كا بھترين راستہ ھے ۔

    10) خدا ظالم نھيں: اس كي دليل عدل كي بحث ميں ذكر كي جائيگي ۔

    توحيد

    الله تبارك و تعاليٰ ايك ھے اور اس كا كوئي شريك نھيں ھے اس نے دنيا اور دنيا كي تمام چيزوں كو پيدا كيا ھے، اس كے علاوہ كوئي خالق اور پيدا كرنے والا نھيں اور نہ ھي اس نے كسي كي مدد سے خلق كيا ھے اسي سلسلہ ميں چند دليلوں كو قارئين كي خدمت ميں پيش كيا جا رھاھے ۔

    پھلي دليل

    اگر دو خدا (يا اس سے زيادہ) ھوتے تو چند حالتيں ممكن ھيں ۔

    پھلي حالت يہ كہ دونوں نے (دنيا) موجودات كو مستقل عليحدہ عليحدہ خلق كيا ھے، دوسري حالت يہ كہ ايك دوسرے كي مدد سے دنيا كو خلق كيا ھے، تيسري حالت يہ كہ دونوں نے دنيا كو دو حصوں ميں خلق كيا ھے ليكن ايك دوسرے كي خدائي ميں دخالت كرتے ھيں ۔

    پھلي حالت

    دونوں نے دنيا كو مستقل عليحدہ عليحدہ خلق كيا ھے (يعني ھر چيز دو دفعہ خلق ھوئي ھے) اس كا باطل ھونا واضح ھے ۔

    الف) چونكہ ھر ايك شخص ميں ايك وجود سے زيادہ وجود نھيں پايا جاتا ھے اس لئے ايك سے زيادہ خدا كا تصور نھيں ھے ۔

    ب) ايك خدا نے كسي چيز كو پيدا كيا اور پھر دوسرا خدا اگر دو بارہ اس كو خلق كرے اس كو علماء كي اصطلاح ميں تحصيل حاصل كھتے ھيں، (كہ ايك چيز موجود ھو پھر اس كو حاصل كيا جائے) ۔

    ج) يا حكماء اور فلاسفر كي اصطلاح ميں ايك معلول (موجود) ميں دو علت تامہ اثر گذاري كريں محال ھے يعني ايك موجود كو خلق كرنے ميں دو علت ايك وقت ميں كار فرما ھو محال و باطل ھے۔

    دوسري حالت

    ان دونوں خدا نے ايك دوسرے كي مدد (شركت) سے موجودات كو خلق كيا ھے، يعني ھر موجود دو خدا كي مخلوق ھو اور دونوں آدھے آدھے برابر كے شريك ھوں يہ احتمال بھي باطل ھے ۔

    الف: دونوںخدا ايك دوسرے كے محتاج تھے يعني تنھاموجودات كو خلق كرنے سے عاجز و مجبور تھے تو يہ بحث پھلے گذرچكي ھے كہ خدا عاجز و محتاج نھيں ھے ۔

    ھو سكتا ھے كوئي كھے دونوں خلق پر قادر ھيں ليكن پھر بھي دونوں شريك ھو كر موجودات كو وجود ميں لاتے ھيں يہ بھي باطل ھے كيونكہ دو فاعل كسي كام پر قادر ھوتے ھوئے پھر بھي تنھاكسي كام كو انجام نہ ديں اس ميں چند صورتيں ممكن ھيں:

    الف) يا دونوں بخل كر رھے ھيں جو كہ نصف نصف پر كام كرتے ھيں يعني چاھتے ھيں كہ زيادہ خرچ نہ ھو ۔

    ب) يا دونوں آپس ميں ڈرتے ھيں اور اس ڈر كي بنا پر كم خرچ كر رھے ھيں۔

    ج) يا دونوں مجبوراً آپس ميں شريك ھيں ۔

    جواب يہ ھے:

    الف) خداوند عالم محتاج و نياز مند نھيں ھے ۔

    ب) دونوں دنيا كے خلق كرنے كي مصلحت اور اس كا علم ركھتے ھيں اور اس كي پيدائش پر قدرت بھي ركھتے ھيں اور ان كي قدرت و علم عين ذات بھي ھے، اور اسي كے ساتھ بخل و كنجوسي بھي پائي جاتي ھے جو خدا كي ذات كے لئے اور مناسب نھيں ھے۔

    ج) كوئي كام ايك دوسرے كے تحت خوف سے كرتے ھيں تو يہ، شانِ خدا كے بر خلاف ھے كيونكہ جو خدا ھوتا ھے وہ متاٴثر و عاجز نھيں ھو سكتا ھے ۔

    د) دونوں عالم و قادر اور بخيل و عاجز نھيں ھيں تو چاھے موجود ميں فقط ايك علت ھو اپني مرضي كے مطابق كوئي ايك دنيا اور بنائيں ۔

    ان باتوں سے سمجھ ميں آتا ھے دونوں كو چاھيے اپني قدرت و علم كے تحت دو دنيا بنائيں اور اس سے پھلے ثابت ھوچكا ھے كہ ايك معلول ميں دو علت كااثر اندازھونا باطل و محال ھے ۔

    تيسري حالت

    دونوں (مفروض) خدا دنيا كو نصف نصف تقسيم كر كے اپنے اپنے حصہ ميں مستقلا موجودات كو خلق كرے (اورمثل بادشاھوں كے اپنے حصہ ميں حاكم بنے رھيں، ايسا فرض ھي باطل ھے اس لئے كہ دو خدا نھيں ھو سكتے اور نہ دنيا كے دو حصے ھوسكتے ھيں) اور ايك دوسرے كے حصے ميں دخالت كرے يہ احتمال بھي باطل ھے، اس لئے كہ ھر وہ فرضي خدا آپس ميں مستقلاً ايك دوسرے كے حصہ ميں دخالت (خلق) كي صلاحيت ركھتے ھيں تو چاھيے كہ جدا اور اسے الگ خلق كرے ورنہ اس كا لازمہ يہ ھوگا كہ دو علت ايك معلول ميں موثرھوگى، جب كہ اس كا بطلان پھلے گذر گيا ھے يا اگرصلاحيت و استعداد نھيں ركھتا يا خلق پر قادر نھيں ھے يا كنجوسي كر رھاھے تو وہ ناقص ھے اور ناقص، خدائي كي صلاحيت نھيں ركھتا ھے ۔

    دوسري دليل

    اگر خدا كسي موجود كو پيدا كرے اور دوسرا اس موجود كو تباہ كرنے كا ارادہ كرے تو كيا پھلا خدا اپني خلق كي ھوئي چيز كا دفاع كر سكتا ھے؟ اور دوسرے كے شر سے اس كو محفوظ ركھ سكتا ھے؟ اگر پھلا اپني موجودہ چيز كي حفاظت نھيں كر سكتا تو عاجز ھے اور عاجز خدا نھيں ھو سكتا، اور اگر يہ دفاع كر سكتا ھے تو دوسرا خدا نھيں ھو سكتا اس لئے كہ عاجز ھے اور عاجز خدا نھيں ھو سكتا ھے ۔

    نتيجہ

    ھم خدا كو ايك اور لا شريك موجودات كو خلق كرنے والا جانتے ھيں اور اس كے علاوہ جو بھي ھو اس كو ناتوان، مجبور و عاجز اور مخلوق شمار كرتے ھيں، ھم فقط اللہ تبارك و تعاليٰ كو لائق عبادت جانتے ھيں كسي دوسرے كے لئے سجدہ نھيں كرتے اور نہ ھي كسي اور كے لئے جھكتے ھيں ھم آزاد ھيں اپني آزادي كو كسي كے حوالے نھيں كرتے اور كسي كي بے حد و انتھاتعريف نھيں كرتے اور چاپلوسي كو عيب جانتے ھيں ۔

    ھم انبياء اور ائمہ (ع) كا احترام اور ان كے بيان كئے گئے احكام كي پيروي اس لئے كرتے ھيں كہ خدا نے ان كو واجب الاحترام اور واجب الاطاعت قرار ديا ھے، يعني ان كے احترام و اتباع كو واجب قرار ديا ھے، ان كے احكام و قوانين ھميشہ خدا كے احكام كي روشني ميں رھے ھيں اور ان لوگوں نے كبھي بھي زيادتي اور اپنے حدود سے تجاوز نھيں كيا ھے، ھم انبياء و ائمہ (ع) كے مرقد پر جاتے ھيں اور ان كے مزار و روضہ كا احترام كرتے ھيں، ليكن يہ پرستش اور ان كي بندگي كے عنوان سے نھيں بلكہ خدا كي بارگاہ ميں بلند مقام اور پاكيزگي و بزرگي كا خيال ركھكران كي تكريم كرتے ھيں اور ان كے روضہ كي تعمير اور ان كي فداكاري و جانثاري و قربانيوں كي قدر داني كرتے ھيں، اور دنيا كو بتانا چاھتے ھيں كہ جو شخص بھي اللہ كے راستے ميں زحمت و مشقت كو برداشت كرے اور اس كے احكام و پيغام و ارشاد كو لوگوں تك پھنچائے، تو نہ اس دنيا ميں بھلايا جائے گا اور نہ آخرت ميں، ھم ان مقدس اللہ كے بندوں،پاك سيرت نمائندوں اور اس كے خاص چاھنے والوں كے حرم ميں خداوند ذوالجلال كي بارگاہ ميں اپنے گناھوں كي بخشش اور اپني حاجت كي قبوليت اور رازونياز كرتے ھيں، اور اپني دعا و مناجات ميں ان مقدس بزرگوں كي ارواح طيباہ كو خدا كے حضور ميں واسطہ و وسيلہ قرار ديتے ھيں ۔

      index next