index next

سقيفہ كے حقائق ( روایت ابومخنف كي روشني ميں)

  • مؤلف : تارى، جليل
  • مترجم : سید نسیم حیدر زیدی
  • ناشر : مجمع جهانی اهل بیت علیهم السلام
  • حرف اول

    جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ھوتا ھے كائنات كي ھر چيز اپني صلاحيت و ظرفيت كے مطابق اس سے فيض ياب ھوتي ھے حتي ننھے ننھے پودے اس كي كرنوں سے سبزي حاصل كرتے ھيں غنچہ و كلياں رنگ و نكھار پيدا كر ليتي ھيں تاريكياں كافور اور كوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ھوجاتے ھيں،چنانچہ متمدن دنيا سے دور عرب كي سنگلاخ واديوں ميں قدرت كي فياضيوں سے جس وقت اسلام كا سورج طلوع ھوا، دنيا كي ھر فرد اور ھر قوم نے قوت و قابليت كے اعتبار سے فيض اٹھايا۔

    اسلام كے مبلغ و مؤسس سرور كائنات حضرت محمد مصطفٰي صل اللہ عليہ وآلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے كر آئے اور علم و آگھي كي پياسي اس دنيا كو چشمۂ حق و حقيقت سے سيراب كرديا، آپ كے تمام الٰہي پيغامات ايك ايك عقيدہ اور ايك ايك عمل، فطرت انساني سے ھم آھنگ ارتقائے بشريت كي ضرورت تھا،اس لئے تيئيس برس كے مختصر سے عرصے ميں ھي اسلام كي عالم تاب شعاعيں ھر طرف پھيل گئيں اور اس وقت دنيا پر حكمراں ايران و روم كي قديم تھذيبيں اسلامي قدروں كے سامنے ماند پڑگئيں، وہ تھذيبي اصنام جو صرف ديكھنے ميں اچھے لگتے ھيں اگر حركت و عمل سے عاري ھوں اور انسانيت كو سمت دينے كا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ ركھتے تو مذھبِ عقل و آگھي سے رو برو ھونے كي توانائي كھو ديتے ھيں يہي وجہ ھے كہ ايك چوتھائي صدي سے بھي كم مدت ميں اسلام نے تمام اديان و مذاھب اور تھذيب و روايات پر غلبہ حاصل كرليا۔

    اگر چہ رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي يہ گراں بھا ميراث كہ جس كي اھلبيت عليہم السلام اور ان كے پيروؤں نے خود كو طوفاني خطرات سے گزار كر حفاظت و پاسباني كي ھے، وقت كے ہاتھوں خود فرندان اسلام كي بے توجھي اور ناقدري كے سبب ايك طويل عرصے كے لئے تنگنائيوں كا شكار ھوكر اپني عمومي افاديت كو عام كرنے سے محروم كردي گئي تھى، پھر بھي حكومت و سياست كے عتاب كي پروا كئے بغير مكتب اھل بيت عليہم السلام نے اپنا چشمۂ فيض جاري ركھا اور چودہ سو سال كے عرصے ميں بھت سے ايسے جليل القدر علماء و دانشور دنيائے اسلام كو تقديم كئے جنھوں نے بيروني افكار و نظريات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فكري و نظري موجوں كي زد پر اپني حق آگين تحريروں اور تقريروں سے مكتب اسلام كي پشت پناھي كي ھے ھر دور اور ھر زمانے ميں ھر قسم كے شكوك و شبھات كا ازالہ كيا ھے، خاص طور پر عصر حاضر ميں اسلامي انقلاب كي كاميابي كے بعد ساري دنيا كي نگاھيں ايك بار پھر اسلام و قرآن اور مكتب اھل بيت عليہم السلام كي طرف اٹھي اور گڑي ھوئي ھيں، دشمنان اسلام اس فكري و معنوي قوت و اقتدار كو توڑنے كے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبي اور ثقافتي موج كے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور كامياب و كامراں زندگي حاصل كرنے كے لئے بے چين و بيتاب ھيں،يہ زمانہ علمي و فكري مقابلے كا زمانہ ھے اور جو مكتب بھي تبليغ اور نشر و اشاعت كے بھتر طريقوں سے فائدہ اٹھا كر انساني عقل و شعور كو جذب كرنے والے افكار و نظريات دنيا تك پہنچائے گا، وہ اس ميدان ميں آگے نكل جائے گا۔

    (عالمي اھل بيت كونسل) مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام نے بھي مسلمانوں خاص طور پر اہل بيت (ع) عصمت وطھارت كے پيروؤں كے درميان ھم فكري و يكجھتي كو فروغ دينا وقت كي ايك اھم ضرورت قرار ديتے ھوئے اس راہ ميں قدم اٹھايا ھے كہ اس نوراني تحريك ميں حصہ لے كر بھتر انداز سے اپنا فريضہ ادا كرے،تاكہ موجودہ دنيائے بشريت جو قرآن و عترت كے صاف و شفاف معارف كي پياسي ھے، زيادہ سے زيادہ عشق و معنويت سے سرشار اسلام كے اس مكتب عرفان و ولايت سے سيراب ھوسكے،ھميں يقين ھے عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز ميں اگر اھل بيت عصمت و طھارت كي ثقافت كو عام كيا جائے اور حريت و بيداري كے علم بردار خاندان نبوت (ص) و رسالت كي جاوداں ميراث اپنے صحيح خدو خال ميں دنيا تك پہنچادي جائے تو اخلاق و انسانيت كے دشمن، انانيت كے شكار، سامراجي خوںخواروں كي نام نھاد تھذيب و ثقافت اور عصر حاضر كي ترقي يافتہ جھالت سے تھكي ماندي آدميت كو امن و نجات كي دعوتوں كے ذريعہ امام عصر (عج) كي عالمي حكومت كے استقبال كے لئے تيار كيا جاسكتا ھے۔

    ھم اس راہ ميں تمام علمي و تحقيقي كوششوں كے لئے محققين و مصنفين كے شكر گزار ھيں اور خود كو مؤلفين و مترجمين كا ادنٰي خدمت گار تصور كرتے ھيں،

    زير نظر كتاب، مكتب اھل بيت عليہم السلام كي ترويج و اشاعت كے اسي سلسلے كي ايك كڑي ھے، فاضل آقاي علّام جليل تارى كي گراں قدار كتاب حقائق سقيفہ كو فاضل جليل مولانا سيد نسيم حيدر زيدى نے اردو زبان ميں اپنے ترجمہ سے آراستہ كيا ھے جس كے لئے ھم دونوں كے شكر گزار اور مزيد توفيقات كے آرزو مند ھيں،اسي منزل ميں ھم اپنے تمام دوستوں اور معاونين كا بھي صميم قلب سے شكريہ ادا كرتے ھيں كہ جنھوں نے اس كتاب كے منظر عام تك آنے ميں كسي بھي عنوان سے زحمت اٹھائي ھے، خدا كرے كہ ثقافتي ميدان ميں يہ ادنٰي جھاد رضائے مولٰي كا باعث قرار پائے۔

    والسلام مع الكرام

    مدير امور ثقافت: مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام

    بياں اپنا

    تمام تعريفيں اس خدائے وحدہ لا شريك سے مخصوص ھيں جو عالمين كا پالنے والا ھے اور بے شمار درود و سلام ھو اس كي بھترين مخلوق حضرت محمد اور ان كي پاكيزہ آل پر جنھوں نے بشريت كي تعليم تربيت اور راھنمائي كے لئے فرش زمين پر قدم ركھ كر پيغام الٰھي كو پھونچايا اور انسانوں كو ھر طرح كي پستي سے نكال كر معراج عبوديت تك پھونچايا۔

    واقعۂ سقيفہ: تاريخ اسلام كا وہ عظيم سانحہ ھے جس نے دين اسلام كو تہتر فرقوں ميں تقسيم كر كے امت محمديہ (ص) كو ھميشہ ھميشہ كے لئے داغدار بنا ديا، سقيفہ كے موضوع پر كل بھي كتابيں لكھي گئي تھيں اور آج بھي لكھي جارھي ھيں اور آئندہ بھي محققين اپنے قلم كا كرشمہ دكھاتے رھيں گے مگر اس كتاب ميں جس انداز اور جن پہلوؤں سے بحث كي گئي ھے وہ قابل قدر ھيں اور اس كے مصنف لائق تحسين اور قابل مبارك باد ھيں۔

    حقير نے اس كتاب كو مجمع جہاني اھل البيت (ع) كي فرمائش پر اردو زبان حضرات كے لئے نہايت دقت كے ساتھ اردو كے قالب ميں ڈھالنے كي كوشش كي ھے، پھر بھي اگر ترجمے ميں كوئي نقص نظر آئے تو برائے مہرباني حقير كو مطلع فرمائيں تاكہ اس كي اصلاح ھوسكے۔

    خالق لوح و قلم كي بارگاہ ميں اہل بيت (ع) طاھرين كے وسيلے سے دعاگو ھوں كہ پروردگارا! اس ناچيز كوشش كو بطفيل قائم آل محمد (عج) شرف قبوليت عطا فرما، كتاب كے مصنف اور ناشر كو مزيد خدمت دين كي توفيق عطافرما۔ آمين

    آخر ميں اپنے تمام دوستوں كا شكر گذار ھوں جنہوں نے اس كام ميں ميري مدد فرمائي ھے خصوصاً برادر عزيز حجة الاسلام مولانا سيد حسين اختر رضوي اعظمي كا شكر گزار ھوں جنہوں نے اس ترجمہ ميں ميري راھنمائي فرمائي ھے۔ انہ ولي التوفيق

    سيد نسيم حيدر زيدي۔ قم المقدسہ 3 صفر 1426 ھجرى

    پيش لفظ

    پيغمبر اسلام (ص) كي وفات كے فوراً بعد پيش آنے والا ايك عظيم سانحہ "واقعۂ سقيفہ" ھے جو آپ كي وفات كے بعد رونما ھونے والے بہت سے حوادث و نظريات كا پيش خيمہ ھے جس طرح اس واقعہ كے ابتدائي مرحلہ ھي ميں اس كے طرفدار اور مخالفين موجود تھے، اُسي طرح آج بھي مسلمانوں كے درميان فرقہ بندي كا اھم سبب واقعہ سقيفہ ھي ھے۔

    لھٰذا ممكن ھے كہ اس سلسلے ميں علمي اور استدلالي بحث، طالب حق انسان كے لئے رھنما ثابت ھو۔

    "سقيفہ" لغت ميں چھت دار چبوترہ كو كہتے ھيں يہ مدينہ كے ايك گوشہ ميں ايك امكان تھا جس كي بڑي چھت تھي اور يہ مكان بنو ساعدہ بن كعب خزرجي كا تھا اسي وجہ سے سقيفہ بني ساعدہ كے نام سے مشھور تھا۔ انصار اس مكان ميں جو ايك مجلس مشاورت كي حيثيت ركھتا تھا اپنے فيصلوں كے لئے جمع ھوئے تھے 1

    پيغمبر اسلام (ص) كي رحلت كے بعد انصار كا ايك گروہ جس ميں اوس و خزرج 2 دونوں ھي شامل تھے يہاں جمع ھوئے تاكہ پيغمبر اسلام (ص) كي خلافت كے سلسلے ميں كوئي چارہ جوئي كريں 3 ۔

    انصار كيوں اور كس مقصد كے تحت وھاں جمع ھوئے؟ كيا تقريريں ھوئيں اور ان كا نتيجہ كيا نكلا؟ يہ تمام موضوعات ايسے ھيں جن كے بارے ميں اس كتاب ميں تفصيلي بحث كي گئي ھے۔

    قابل غور بات يہ ھے كہ يہ واقعہ ايك اچھي خاصي اھميت كا حامل تھا اور ھے اور بہت سے مورخين كي توجہ كا مركز بنا رھا اس كے باوجود محدثين نے اس اھم واقعہ كے فقط چند پہلوؤں كے بيان پر ھي اكتفا كي ھے ليكن ابو مخنف ان راويوں ميں سے ايك ھيں جنہوں نے اس واقعہ كي باريكيوں كو تفصيل سے بيان كيا بلكہ سقيفہ كے موضوع پر ايك پوري كتاب بھي لكھى 3 ليكن ھمارے پاس اس كتاب كا فقط وہ حصہ موجود ھے جو تاريخ طبري ميں نقل ھوا ھے۔

    اس كتاب ميں ھماري كوشش ھے كہ ابو مخنف (جو تاريخ اسلام كے ايك عظيم اور باريك بين محدث ھيں) كے تعارف كے ساتھ ساتھ واقعۂ سقيفہ كے بارے ميں ان كي اھم روايت پر محققانہ اور منصفانہ نظر كي جائے نيز معتبر تاريخي كتابوں سے متن روايت كو پيش كريں اور حاشيہ پر مآخذ و منابع كا ذكر كرتے ھوئے دوران بحث ھر قسم كي جانبداري اور بے بنياد باتوں سے پرھيز كريں۔

    مصنف نے اپني كم علمي كے باوجود بے حد كوشش كي ھے كہ واقعہ سقيفہ كے بارے ميں زيادہ سے زيادہ معتبر كتابوں كا سہارا ليا جائے، اور ھر مسئلہ ميں طرفين كے نظريہ اور تنقيد كو بيان كرتے ھوئے ايك خاص نظر پيش كي جاتي۔

    اميد ھے كہ اس كتاب كے اسلوب تحرير سے تاريخ ميں ايك نئے باب كا اضافہ ھوگا، جسے "اجتہادي تاريخ" كے نام سے ياد كيا جاسكتا ھے۔

    آخر ميں خدا كے شكر كے بعد تمام ان افراد كي قدر داني كو ضروري سمجھتا ھوں جنہوں نے ميري تعليم و تربيت ميں مؤثر كردار ادا كيا بالخصوص اپنے محترم والدين، بھائى، اساتذہ نيز جناب ڈاكٹر صادق آئينہ وند اور حجة الاسلام والمسلمين رسول جعفريان كا شكر گزار ھوں جنہوں نے اس كتاب كي تخليق ميں ميري رھنمائي فرمائي۔

    جليل تارى۔ 1423 ھجرى


    1. صاحب حسن اللغات كے مطابق سقيفہ ايك ايسا خفيہ مكان تھا جہاں عرب باطل مشوروں اور بے ھودہ باتوں كے لئے جمع ھوتے تھے (مترجم)

    2. مدينہ كے دو بڑے قبيلوں كے نام ھيں۔ (مترجم)

    3. رجال نجاشى: ص302

    پہلا حصہ: تمہيدات

    ابو مخنف كا تعارف

    كيونكہ ھم سقيفہ سے متعلق ابو مخنف كي روايت كے بارے ميں گفتگو كريں گے لھٰذا ضروري ھے كہ سب سے پہلے ان سوالات كا مختصر جواب دے ديا جائے جن كا قارئين كے ذہن ميں ابھرنے كا امكان ھے، مثال كے طور پر ابو مخنف كون تھے؟ كس دور ميں تھے؟ شيعہ اور سني علماء ان كے بارے ميں كيا نظريہ ركھتے ھيں ان كا مذہب كيا تھا؟ كتاب كا يہ حصہ انہيں سوالات كے جوابات پر مشتمل ھے۔

    ابو مخنف كون تھے؟

    ابو مخنف كا نام، لوط بن يحيٰ بن سعيد بن مخنف 5 بن سُليم ازدي 6 ھے ان كا اصلي وطن كوفہ ھے اور ان كا شمار دوسري صدي ھجري كے عظيم محدثين اور مورخين ميں ھوتا ھے۔ انہوں نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي رحلت كے بعد سے اموي حكومت كے آخري دور تك كے اھم حالات و واقعات پر كتابيں لكھيں، جيسے كتاب المغازى، كتاب السقيفہ، كتاب الردہ، كتاب فتوح الاسلام، كتاب فتوح العراق، كتاب فتوح خراسان، كتاب الشوريٰ، كتاب قتل عثمان، كتاب الجمل، كتاب صفين، كتاب مقتل أمير المؤمنين كتاب مقتل الحسن (عليہ السلام) كتاب مقتل الحسين (عليہ السلام) و ۔ ۔ ۔

    جو مجموعي طور پر اٹھائيس كتابيں ھيں اور ان كي تفصيل علم رجال كي كتابوں ميں موجود ھے 7۔ ليكن ان ميں سے اكثر كتابيں ھماري دسترس ميں نھيں ھيں البتہ ان كتابوں كے كچھ مطالب ان كے بعد لكھي جانے والي كتابوں ميں روايت ابي مخنف كے عنوان سے موجود ھيں مثلاً تاريخ طبرى 8 ميں ابو مخنف سے مجموعي طور پر پانچ سو سے زيادہ روايتيں موضوعات پر نقل ھوئي ھيں اور ان نقل شدہ روايات ميں سے اكثر كا تعلق كہ جو تقريباً ايك سو چھبيس روايتيں ھيں حضرت علي عليہ السلام كے دوران حكومت كے حالات و واقعات سے ھے۔ ايك سو اٹھارہ روايتيں واقعۂ كربلا اور ايك سو چوبيس روايتيں حضرت مختار كے قيام كے بارے ميں ھيں۔

    صدر اسلام ميں رونما ھونے والے واقعات كے بارے ميں ابو مخنف كي روايات اس قدر دقيق، مفصّل اور مكمل جزئيات كے ساتھ ھيں جو ھر قسم كے تعصب سے دور ھونے كے علاوہ ھر واقعہ كے پہلوؤں كي طرف قارئين كي رھنمائي كرتي ھيں يہاں تك كہ اس كے بعد لكھي جانے والي شيعہ اور سني تاريخي كتابوں نے ان كي روايات سے كافي استفادہ كيا ھے اور روايت كے ذكر كے ساتھ ساتھ اس پر مكمل اعتماد كا اظہار بھي كيا ھے۔

    ابو مخنف كا دور

    اگر چہ ان كي تاريخ ولادت معلوم نہيں ھے ليكن ان كي تاريخ وفات عام طور سے سن 157 ھجري قمري نقل كي گئي ھے ان كي تاريخ ولادت معلوم نہ ھونے كي وجہ سے بعض علماء رجال غلط فہمي كا شكار ھوئے ھيں۔ بعض نے انہيں امام علي عليہ السلام، امام حسن عليہ السلام، اور امام حسين عليہ السلام كا صحابي كہا ھے، جب كہ بعض علماء نے انہيں امام جعفر صادق عليہ السلام كا صحابي جانا ھے، جيسا كہ شيخ طوسي عليہ الرحمہ 9 نے "كشّى" سے نقل كيا ھے كہ ابو مخنف امام علي عليہ السلام امام حسن عليہ السلام اور امام حسين عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ھيں۔ ليكن ان كا خود يہ نظريہ نہيں ھے بلكہ ان كا كہنا ھے كہ ابو مخنف كے والد "يحييٰ" امام علي عليہ السلام كے صحابي تھے جب كہ خود ابو مخنف (لوط) نے آپ كا زمانہ نہيں ديكھا ھے۔

    شيخ نجاشي كا كہنا ھے كہ ابو مخنف امام صادق عليہ السلام كے اصحاب ميں سے ھيں 10 اور يہ بھي كہا گيا ھے كہ انہوں نے امام محمد باقر عليہ السلام سے بھي روايت نقل كي ھے۔ مگر يہ قول صحيح نہيں ھے شيخ نجاشي كے قول كے مطابق ابو مخنف صرف امام صادق عليہ السلام سے روايت نقل كرتے تھے اور آپ كے اصحاب ميں سے تھے اور انہوں نے امام محمد باقر عليہ السلام سے كوئي روايت نقل نہيں كي چہ جائيكہ وہ امام علي عليہ السلام سے روايت نقل كرتے۔ تمام شواھد و قرائن شيخ نجاشي كے قول كي تصديق كرتے ھيں اس لئے كہ

    1۔ تاريخ طبرى ميں ابو مخنف كي جو روايت امام جعفر صادق عليہ السلام سے نقل ھوئي ھے وہ بغير كسي واسطہ كے ھے جب كہ امام محمد باقر عليہ السلام سے ان كي روايت ايك واسطہ كے ساتھ نقل ھوئي ھے 11۔

    2۔ حضرت امام علي عليہ السلام كے خطبات اور حضرت فاطمہ زھرا (س) كے خطبہ سے متعلق ابو مخنف كي روايت دو واسطوں كے ذريعہ نقل ھوئي ھے 12۔

    3۔ اگر ابو مخنف كي تاريخ وفات كو ملحوظ نظر ركھا جائے جو 157ھجري ھے اور يہ كھا جائے كہ انہوں نے امام علي عليہ السلام كا زمانہ بھي ديكھا ھے (يعني كم از كم وہ اس دور ميں شعور ركھتے تھے) تو ايسي صورت ميں وفات كے وقت ان كي عمر تقريباً ايك سو تيس سال ھوجائے گي 13 جب كہ كسي راوي نے بھي اس قسم كي بات كا تذكرہ نھيں كيا ھے۔

    يہ تمام قرائن شيخ نجاشي كے قول كے صحيح ھونے كي دليل ھيں كہ وہ امام جعفر صادق عليہ السلام كے اصحاب ميں سے تھے اور آپ ھي سے روايت كرتے تھے۔

    ليكن كتاب "الكافى" 14 ميں ابو مخنف كي ايك روايت بغير كسي واسطہ كے حضرت امام علي عليہ السلام كے دور حكومت سے متعلق نقل ھوئي ھے۔ اس حديث ميں ان كا بيان ھے كہ شيعوں كا ايك گروہ امير المومنين عليہ السلام كے پاس آيا۔ ۔ ۔ ليكن يہ حديث ھرگز يہ ثابت نہيں كرتي كہ وہ حضرت علي عليہ السلام كے دور ميں تھے۔ اس لئے كہ ممكن ھے يہ حديث "مرسلہ" 15 ھو جو بات يقيني ھے وہ يہ كہ ابو مخنف كے پر دادا "مخنف بن سليم" رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور حضرت علي عليہ السلام كے اصحاب ميں سے تھے 16 اور آپ كي طرف سے شہر اصفہان كے گورنر مقرر ھوئے 17 اور جنگ جمل كے دوران حضرت علي عليہ السلام كي فوج ميں قبيلہ ازد كے دستہ كي سالاري كے فرائض انجام ديتے ھوئے اس جنگ ميں شہادت كے درجہ پر فائز ھوئے۔

    سوانح حيات سے متعلق اكثر كتابوں كے مطابق ان كي شہادت جنگ جمل ميں ھوئي مثلاً "الكني والالقاب" شيخ عباس قمي "الذريعہ" آقا بزرگ تہرانى، "اعلام" زركلي اور اسي طرح "تاريخ طبرى" 18 ميں ابو مخنف كي روايت اسي چيز پر دلالت كرتي ھے، ليكن اسي تاريخ طبرى 19 ميں مخنف بن سليم كي ايك روايت واقعہ صفين سے متعلق نقل ھوئي ھے جو اس بات سے تناسب نہيں ركھتي كہ وہ جنگ جمل ميں شہيد ھوئے تھے۔

    اس نكتہ كي طرف اشارہ كرنا ضروري سمجھتا ھوں كہ شيخ طوسي عليہ الرحمہ نے اپني كتاب "رجال" اور "فہرست" 20 ميں ابو مخنف كے والد كا ذكر كرتے ھوئے فرمايا ھے كہ آپ حضرت علي عليہ السلام كے صحابي تھے جب كہ جو چيز مسلم ھے وہ يہ كہ ابو مخنف كے والد يحييٰ حضرت علي عليہ السلام كے صحابي نہ تھے بلكہ آپ كے پردادا حضرت كے اصحاب ميں سے تھے لھٰذا يہ بات قابل توجہ ھے كہ مخنف بن سليم، ابو مخنف كے نہ والد ھيں اور نہ دادا جيسا كہ بعض افراد ان كے بارے ميں غلط فہمي كا شكار ھوگئے ھيں اور انہيں ابو مخنف كا دادا كہا ھے 21 جب كہ وہ ابو مخنف كے پردادا ھيں۔

    ابو مخنف شيعہ اور سني علماء كي نظر ميں

    اھل تشيع كي علم رجال سے متعلق كتابوں سے يہ بات روشن ھے كہ ابو مخنف ايك قابل اعتماد شخص تھے، شيخ نجاشي ان كے بارے ميں كہتے ھيں كہ ابو مخنف كوفہ كے بزرگ راويوں كے شيوخ (اساتذہ) ميں سے ھيں ان كي روايت پر اعتماد كيا جاسكتا ھے 22 شيخ طوسي 23 نے اپني علم رجال كي كتاب ميں انہيں امام جعفر صادق عليہ السلام كا صحابي كہا ھے شيخ عباس قمي نجاشي جيسي عبارت نقل كرنے كے بعد فرماتے ھيں ابو مخنف عظيم شيعہ مورخين ميں سے ايك ھيں نيز آپ فرماتے ھيں كہ ابو مخنف كے شيعہ مشھور ھونے كے باوجود طبرى، اور ابن اثير 24، جيسے علماء اھل سنت نے ان پر اعتماد كيا ھے، آقا بزرگ تہرانى نجاشي كي چند عبارتيں نقل كرنے كے بعد فرماتے ھيں "ان كے شيعہ مشہور ھونے كے باوجود علمائے اھل سنت جيسے طبري اور ابن اثير نے ان پر اعتماد كيا ھے بلكہ ابن جرير كي كتاب تاريخ الكبير 25 تو ابو مخنف كي روايات سے پُر ھے۔ آية اللہ خوئي نے بھي انہيں ثقہ كہا ھے اور شيخ طوسي (رح) سے ابو مخنف تك جو سند ھے اسے آپ نے صحيح جانا ھے 26۔

    ليكن بعض علماء اھل سنت نے ان كے شيعہ ھونے كا ذكر كرتے ھوئے ان كي روايت كو متروك قرار ديا ھے اور بعض افراد نے ان كے شيعہ ھونے كا ذكر كئے بغير ان كي روايت كو ضعيف كہا ھے جيسا كہ يحييٰ بن معين كا كہنا ھے "ابو مخنف ليس بشئ 27 يعني ابو مخنف قابل اعتماد نہيں ھيں) اور ابن ابي حاتم نے يحيي بن معين كا قول نقل كيا ھے كہ وہ ثقہ نہيں ھيں 28 اور دوسروں سے بھي اس بات كو نقل كيا ھے كہ وہ "متروك الحديث" ھيں 29۔

    ابن عدي يحييٰ بن معين كا قول نقل كرنے كے بعد كہتا ھے كہ گذشتہ علماء بھي اسي بات كے قائل ھيں، (يوافقہ عليہ الائمہ) اس كے بعد وہ كہتا ھے كہ ابو مخنف ايك افراطي قسم كے شيعہ ھيں، ان كي احاديث كي سند نہيں ھے ان كي احاديث كي سند نہيں ھے ان سے ايسي ناپسنديدہ اور مكروہ روايات نقل ھوئي ھيں جو نقل كرنے كے لائق نہيں 30۔

    ذھبي كا كہنا ھے كہ وہ متروك ھيں 31 اور دوسري جگہ پر كہا ھے كہ ابو مخنف نے مجھول افراد سے روايت نقل كي ھے 32 دار قُطني كا قول ھے كہ ابو مخنف ايك ضعيف اخباري ھيں 33 ابن حجر عسقلاني كا كہنا ھے كہ ان پر اطمينان نہيں كيا جاسكتا ھے پھر بعض علماء كا قول نقل كرتا ھے كہ ابو مخنف قابل اعتماد اور مورد اطمينان نہيں ھيں 34۔

    ليكن ابن نديم كا ان كے بارے ميں كہنا ھے كہ ميں نے احمد بن حارث خزار كے ھاتھ سے لكھي ھوئي تحرير ميں ديكھا ھے كہ علماء كا كہنا ھے، كہ ابو مخنف كي عراق اور اس كي فتوحات سے متعلق روايات سب سے زيادہ اور سب سے بہتر ھيں، جس طرح سے خراسان، ھندوستان اور فارس كے بارے ميں مدائنى، حجاز و سيرت كے بارے ميں واقدى، اور شام كي فتوحات كے بارے ميں ان تينوں كي معلومات يكساں ھيں 35 يہ عبارت ياقوت حموي نے بھي اپني كتاب "معجم الادباء" ميں ذكر كي ھے، 36 مجموعي طور پر اكثر علماء اھل سنت نے يحييٰ بن معين كے قول كا سہارا لے كر ابو مخنف كو غير ثقہ قرار ديا ھے۔

    البتہ ابو مخنف كے بارے ميں ابن نديم اور حموي نے جس حقيقت كا اظھار كيا ھے اس كي وجہ سے

    ان كے قول كے متروك ھونے كے باوجود اھل سنت كے برجستہ علماء نے ان سے روايات نقل كي ھيں اور شايد عراق كے وہ حالات و واقعات جو تاريخ اسلام كے عظيم تحولات كا سبب ھيں ان تك ابو مخنف كي روايات كے بغير دسترسي ناممكن ھے، لھٰذا علماء اھل سنت كے نظريات كے سلسلے ميں اس بات كو نظر انداز نہيں كيا جاسكتا كہ شايد ان كے نزديك ابو مخنف كے متروك ھونے كي وجہ وھي ھو جو ابن عدي نے اپنے كلام كے آخر ميں كہي ھے اور وہ يہ كہ ابو مخنف كي روايات ميں ايسے واقعات كا ذكر ھے كہ جو بعض افراد پر گراں گزرتے ھيں كيونكہ وہ واقعات ان كے مفروضہ عقائد اور نظريات سے مطابقت نہيں ركھتے۔

    ابو مِخنف كا مذھب

    ابو مخنف كے مذھب كے بارے ميں اقوال ھيں:

    شيخ طوسي كا اپني كتاب "فہرست" ميں اور نجاشي كا اپني كتاب "رجال" ميں ان كے مذھب كے بارے ميں كوئي رائے پيش نہ كرنا ان كے شيعہ ھونے كي طرف اشارہ ھے جيسا كہ بيان كيا جاچكا ھے كہ شيخ عباس قمي اور آقا بزرگ تہرانى نے واضح طور پر ان كے شيعہ ھونے كو بيان كيا ھے بلكہ يھاں تك كہا ھے كہ ان كا شيعہ ھونا مشھور ھے ليكن آقا خوئي نے اپني كتاب "معجم رجال الحديث" ميں ان كے شيعہ يا غير شيعہ ھونے كو بيان كئے بغير انہيں ثقہ كہا ھے۔

    اكثر علماء اھل سنت نے ان كے شيعہ ھونے كے بارے ميں كوئي اشارہ نہيں كيا يہاں تك كہ ابن قتيبہ اور ابن نديم نے شيعہ افراد كے لئے ايك الگ باب تحرير كيا ھے ليكن ابو مخنف كے نام كا وھاں ذكر نہ ھونا ان كے غير شيعہ ھونے كو ظاھر كرتا ھے 37 علماء اھل سنت ميں سے ابن ابي الحديد وہ ھے جو اس بات كا قائل ھے كہ ابو مخنف كا شمار محدثين ميں ھوتا ھے اور وہ امامت پر اعتقاد ركھتے تھے۔ ليكن ان كا شمار شيعہ راويوں ميں نہيں ھوتا 38 صاحب قاموس الرجال اقوال پر تنقيد كرنے كے بعد فرماتے ھيں كہ ابو مخنف كي روايت ان كے متعصب نہ ھونے كي وجہ سے قابل اعتماد ھے ليكن ان كے شيعہ ھونے كے بارے ميں كوئي رائے پيش نہيں كي جاسكتي 39۔

    لھٰذا ان كے مذھب كے بارے ميں بحث كرنے كا كوئي خاص عملي فائدہ نہيں ھے ليكن اگر ابو مخنف كي روايات پر غور و فكر كيا جائے جو اكثر سقيفہ، شوريٰ، جنگ جمل، جنگ صفين، مقتل امام حسين عليہ السلام سے متعلق ھيں تو آپ اس نتيجہ پر پہنچيں گے كہ وہ شيعي افكار كے مالك تھے، البتہ ممكن ھے كہ ان كي روايات ميں بعض مطالب ايسے پائے جاتے ھوں جو كامل طور پر شيعہ عقيدہ كے ساتھ مطابقت نہ ركھتے ھوں ليكن ھميں چاھيے كہ ھم ابو مخنف كے دور زندگي كو بھي پيش نظر ركھيں كيونكہ بعض اوقات ائمہ معصومين عليھم السلام بھي تقيہ كي وجہ سے ايسے مطالب بيان كرتے تھے جو اھل سنت كے عقيدہ كے مطابق ھوا كرتے تھے اور يہ بات بھي قابل غور ھے كہ وہ ايك معتدل شخص تھے جس كي وجہ سے اھل سنت كي اكثر كتابوں ميں ان كي روايات كا مشاھدہ كيا جاسكتا ھے۔

    بہر حال تاريخ ابو مخنف كي عظمت غير قابل انكار ھے اور شيعہ و سني تمام مورخين نے ان سے كافي استفادہ كيا ھے اور چونكہ تمام شيعہ علماء نے انہيں ثقہ جانا ھے اور ان كي روايت پر اعتماد كا اظھار كيا ھے لھٰذا ان كي روايات كے مضامين پر غور و فكر كرنے سے صدر اسلام كے بہت سے اھم حالات و واقعات كي صحيح نشاندھي كي جاسكتي ھے۔

    روايت ابي مخنف كي تحقيق كا طريقۂ كار

    ابو مخنف كي روايات كے متن كے صحيح يا غلط ھونے كے بارے ميں فيصلہ كرنا آسان كام نہيں ھے كيونكہ ابو مخنف كو تاريخي روايات نقل كرنے والوں ميں ايك بنيادي حيثيت حاصل ھے لھٰذا دوسري روايات كے پيش نظر ان كي روايت كے صحيح يا غلط ھونے كا فيصلہ نہيں كيا جاسكتا اس لئے كہ تاريخ كے تمام راوي جيسے ھشام كلبى، واقدى، مدائنى، ابن سعد وغيرہ يہ سب ان كے دور كے بعد سے تعلق ركھتے ھيں اور اسي كے مرھون منت ھيں۔

    كافي غور و فكر اور جستجو كے بعد اس كتاب ميں تحقيق كا جو طريقۂ كار اپنايا گيا ھے وہ كچھ اس طرح ھے كہ سب سے پھلے ابو مخنف كي اس روايت كے مضمون كو تاريخ كي اھم كتابوں سے، جو تاريخ طبرى سے پہلے اور اس كے بعد لكھي گئي ھيں نيز خود تاريخ طبرى كي متعدد روايات سے اس كا موازنہ كيا جائے اس كے بعد تمام قرائن و شواھد كي روشني ميں اس كے صحيح يا غلط ھونے كا فيصلہ كيا جائے، اس سلسلے ميں جن كتابوں سے استفادہ كيا گيا ھے وہ تاريخ كي معتبر، معروف و مشھور كتابيں ھيں جن ميں سے اكثر كتابيں اھل سنت كي ھيں۔ ھم آپ كي معلومات كے لئے ان كتابوں كے نام كے ساتھ ساتھ ان كا مختصر تعارف كرانا بھي ضروري سمجھتے ھيں 40

    البتہ اس سے پہلے كہ تاريخ طبرى سے پہلے لكھي جانے والي كتابوں كا تعارف كرايا جائے سب سے پہلے خود تاريخ طبرى كا تعارف پيش كرتے ھيں كيونكہ يہ ھماري بحث كا محور ھے اور تاريخ كي ايك جامع كتاب ھے۔

    تاريخ طبرى:

    اس كتاب كا نام "تاريخ الامم والملوك يا تاريخ الرسل والملوك" ھے جس كے مولف ابو جعفر محمد بن جرير طبري ھيں وہ 224 ھجري ميں آمل طبرستان (مازندران: ايران كا ايك شہر) ميں پيدا ھوئے اور تحصيل علوم كے سلسلے ميں مقامات كا سفر كيا پھر بغداد ميں سكونت اختيار كرلي اور 310 ھجري ميں وھيں انتقال كر گئے 41۔

    آپ كا شمار فقہ، تفسير اور تاريخ كے عظيم علماء ميں ھوتا تھا خاص طور پر آپ كي تاريخ اور تفسير كي كتابيں تو علماء اھل فن كي توجہ كا مركز رھي ھيں۔

    طبري نے اپني كتاب ميں اكثر روايات اپنے سے پہلے والے راويوں سے نقل كي ھيں اور طبري كے پاس ان كے ما قبل لكھي جانے والي كتابوں كا كافي ذخيرہ موجود تھا جن سے انھوں نے خوب استفادہ كيا اور چونكہ ان ميں سے بعض كتابيں زمانے كے گزرنے كے ساتھ ساتھ ناپيد ھوگئيں تو ان كتابوں كے مطالب كو نقل كرنے كا واحد مآخذ فقط تاريخ طبرى ھي ھے اسي لئے يہ كتاب ايك خاص اھميت كي حامل ھے اور ابو مخنف كي كتاب "مقتل حسين (ع)" جو اپني نوعيت كي واحد كتاب تھي اور اس بات كا زندہ ثبوت ھے كيونكہ اس كتاب كي روايتيں تاريخ طبرى ميں متعدد مقامات پر كثرت سے ذكر كي گئي ھيں 42

    تاريخ طبرى نے خلقت كي ابتداء، اس كے بعد حضرت آدم عليہ السلام سے ليكر خاتم الانبياء تك اور پھر ان كي ھجرت سے ليكر 302 ھجري تك كے ھر سال كے حالات و واقعات كو الگ الگ بيان كيا ھے۔

    طبري كا كسي بھي واقعہ يا حادثہ كو نقل كرنے كا طريقہ جس كا تذكرہ انہوں نے اپنے مقدمہ ميں كيا ھے 43 يہ ھے كہ كسي واقعہ كے بارے ميں راويوں سے روايتوں كو سند كے ساتھ نقل كرنے كے بعد اس كے بارے ميں اپني رائے دئے بغير اسے قارئين كي نظر پر چھوڑ ديتے ھيں، البتہ يہ بات قابل ذكر ھے كہ طبري كے پاس جو روايتيں موجود تھيں ان ميں سے انہوں نے صرف چند روايتوں كا انتخاب كر كے انہيں اپني كتاب ميں ذكر كيا ھے ليكن واقعہ غدير كے بارے ميں انہوں نے ايك روايت بھي ذكر نہيں كي ھے۔

    وہ تمام راوي جن سے طبري نے روايتوں كو نقل كيا ھے وثاقت كے اعتبار سے برابر نہيں ھيں۔ جيسے ابن اسحاق، ابو مخنف، مدائنى، زُھري اور واقدى يہ تمام افراد وہ ھيں جنہوں نے تاريخي واقعات كو نقل كرنے ميں ايك خاص طريقۂ كار اپنايا ھے اور اسي طبري كے راويوں ميں سے ايك سيف بن عمر بھي ھے جو صرف روايتيں گڑھتا تھا اور نہايت ھي جھوٹا آدمي تھا  44۔

    اگر چہ طبري سني مذھب تھے مگر زندگي كے آخري لمحات ميں ان كے تشيع كي طرف مائل ھونے كا احتمال ديا جاسكتا ھے۔

    طبري سے پھلے لكھي جانے والي وہ كتابيں جو اس گفتگو كے لئے منتخب كي گئي ھيں

    1۔ السيرة النبويہ لابن ھشام:

    در اصل اس كتاب كے مولف ابن اسحاق ھيں، اور سيرت نبوي پر لكھي جانے والي اھم اور مصادر كي كتابوں ميں اس كا شمار ھوتا ھے اس سے پہلے سيرت نبوي پر اتني جامع كتاب نہيں لكھي گئي تھي۔ عبدالملك بن ھشام (وفات 213 يا 218 ھجري) نے اس كتاب كي تلخيص كي اور اپنے خيال ميں اس كي كچھ غير ضروري عبارتوں كو حذف كرنے كے ساتھ ساتھ اس ميں كچھ مطالب كا اضافہ بھي كيا 45 اس كے بعد يہ كتاب "السيرة النبويہ ابن ھشام" كے نام سے مشہور ھوگئي۔

    2۔ المغازي واقدى:

    اس كتاب كے مولف محمد بن عمر واقدى (ولادت 130 ھجري وفات 207 ھجري) ھيں ان كا تعلق عثماني مذھب سے تھا وہ مدينہ سے تعليم حاصل كرنے كے بعد 180 ھجري ميں بغداد تشريف لائے اور مامون كي طرف سے بغداد كے قاضي مقرر ھوئے اور اسي شہر ميں انتقال كرگئے، وہ غزوات اور فتوحات كے سلسلے ميں اچھي خاصي معلومات ركھتے تھے انہوں نے ھجرت سے ليكر پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي رحلت تك كي روايات كے بارےميں عمدہ تحقيق كي ھے جس كي وجہ سے وہ پيغمبر اسلام (ص) كي جنگوں كو تفصيل كے ساتھ بيان كرنے ميں كافي حد تك كامياب رھے۔

    3۔ الطبقات الكبريٰ:

    اس كتاب كے مولف محمد بن سعد (ولادت 168 ھجري وفات 230 ھجري) ھيں وہ كاتب واقدى كے نام سے مشہور تھے اور ايك نہايت ھي متعصب قسم كے سني تھے ان كا تعلق بصرہ سے تھا اور پھر بغداد جاكر واقدى كے پاس ان كے كاتب كي حيثيت سے تعليم ميں مشغول ھوگئے، انھوں نے اپني كتاب كي پھلي دو جلدوں ميں پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي سيرت اور اس كے بعد كي جلدوں ميں صحابہ اور تابعين كے بارے ميں بحث كي ھے جو اس سلسلے كي ايك اھم ترين كتاب سمجھي جاتي ھے۔

    4۔ تاريخ خليفہ بن خياط (وفات 240 ھجري):

    خليفہ بن خياط تيسري صدي ھجري كے ايك اھم مورخ سمجھے جاتے ھيں جو سني مذھب سے تعلق ركھتے ھيں، ابن كثير نے انہيں امام تاريخ كہہ كر ياد كيا ھے 46 يہ كتاب تاريخي كتابوں ميں قديم ترين كتاب ھے كہ جس نے تاريخي حالات و واقعات كو ھر سال كے اعتبار سے پيش كيا ھے۔

    5۔ الامامہ والسياسة:

    يہ كتاب ابن قتيبہ دينوري (ولادت 213 ھجري وفات 276 ھجري) كي طرف منسوب ھے جن كا شمار تيسري صدي ھجري كے اھل سنت سے تعلق ركھنے والے اديبوں اور مورخين ميں ھوتا ھے، ان كي ولادت بغداد ميں ھوئي مگر كچھ عرصہ دينور ميں قاضي رھے اگر چہ اس كتاب كي نسبت دينوري كي طرف مشكوك ھے ليكن بہر حال يہ كتاب سن تين ھجري كے آثار ميں سے ايك اھم كتاب ھے۔

    6۔ انساب الاشراف:

    يہ كتاب احمد بن يحييٰ بلاذُري (ولادت 170 ھجري سے 180 ھجري كے درميان، وفات 279 ھجري) نے لكھي ھے جو تيسري صدي ھجري كے برجستہ مورخين اور نسب شناس افراد ميں سے ايك تھے وہ سني مذھب اور عباسيوں كے ھم خيال افراد ميں سے تھے، اس كتاب ميں تاريخ اسلام سے متعلق خاندانوں كا نام اور ان كا نسب وغيرہ بيان كيا گيا ھے۔

    7۔ تاريخ يعقوبى:

    اس كتاب كے مولف احمد بن ابي يعقوب اسحاق بن جعفر بن وھب بن واضح ھيں 284 ھجري ميں انتقال ھوا، آپ كا تعلق شيعہ مذھب سے تھا يہ كتاب تاريخ كي موجودہ قديم ترين كتابوں ميں سے ايك ھے۔

    تاريخ طبرى كے بعد لكھي جانے والي وہ كتابيں جن سے اس گفتگو ميں استفادہ كيا گيا ھے يہ ھيں۔

    1۔ السقيفہ و فدك:

    يہ كتاب ابوبكر جوھري (وفات 323 ھجري) نے لكھي مگر زمانے كے گذرنے كے ساتھا ساتھ گم ھوگئي اس كتاب كے عمدہ مطالب دوسري كتابوں ميں موجود ھيں، يہ كتاب ابن ابي الحديد كے پاس موجود تھي انہوں نے شرح نہج البلاغہ ميں اس كتاب سے بہت كچھ نقل كيا ھے، اب يہ كتاب محمد ھادي اميني كي كوششوں سے مآخذ سے جمع آوري كے بعد "السقيفہ و فدك" كے نام سے شائع ھوچكي ھے۔

    2۔ مروج الذھب:

    يہ كتاب علي بن حسين مسعودي (وفات 346 ھجري) نے لكھي ھے، ممكن ھے كہ وہ شيعہ اثنا عشري ھوں مگر اس بات كا اندازہ "مروج الذھب" ميں موجود مطالب سے نہيں لگايا جاسكتا بلكہ اس سے فقط ان كے مذھب شيعہ كي طرف مائل ھونے كا اندازہ لگايا جاسكتا ھے يہ كتاب مقامات كے سفر كر كے نہايت تحقيق اور جستجو كے بعد لكھے جانے كي وجہ سے كافي اھميت كي حامل ھے، انہوں نے اپني كتاب ميں ابو مخنف كا بہت ذكر كيا ھے۔

    3۔ الارشاد:

    اس كتاب كے مولف شيخ مفيد (ولادت 336 ھجري وفات 413 ھجري) ھيں وہ ايك شيعہ متكلم، فقيہ اور نامور مورخ ھيں، يہ كتاب اگر چہ شيعوں كے آئمہ (ع) كي زندگي كے بارے ميں لكھي گئي ھے ليكن اس كے باوجود اس كتاب ميں پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي زندگي سے متعلق بھي بہت سے واقعات ملتے ھيں۔ شيخ مفيد كے علمي مقام و مرتبہ اور تقويٰ و پرھيز گاري كي وجہ سے انكي تحريريں شيعہ علماء كے نزديك ايك معتبر سند كي حيثيت ركھتي ھيں۔

    4۔ المنتظم في تاريخ الملوك والامم:

    يہ كتاب ابن جوزي (ولادت 508 ھجري وفات 597 ھجري) نے لكھي ھے، وہ چھٹي صدي ھجري كے مفسرين، خطباء اور مورخين ميں سے ايك تھے، يہ كتاب عام طور سے بعد ميں آنے والے مورخين كے لئے بہت زيادہ قابل استفادہ قرار پائي۔

    5۔ الكامل في التاريخ:

    يہ كتاب ابن اثير (ولادت 555 ھجري وفات 630 ھجري) نے لكھي ھے، انہوں نے اس كتاب ميں ايسي دلچسپ روش اور طريقۂ كار كا انتخاب كيا ھے كہ جس نے اس كتاب كو تاريخ سے دلچسپي ركھنے والے تمام افراد كے لئے قابل استفادہ بنا ديا ھے، انہوں نے مطالب كي جمع آوري اور انھيں نقل كرنے كے سلسلے ميں بہت محنت اور توجہ سے كام ليا ھے۔

    6۔ البدايہ والنھايہ:

    يہ كتاب ابن كثير (ولادت 701 ھجري وفات 774 ھجري) نے لكھي ھے۔ اور قابل ذكر بات يہ ھے كہ وہ ابن تيميہ 47 كے شاگردوں ميں سے ھيں۔

    اس كتاب ميں بعض بحثيں جيسے سيرت نبوي كو مختصر طور پر بيان كرنے كے بعد نظريات پر تنقيد كے علاوہ ان كي تحقيق كي گئي ھے۔

    يھاں اس بات كا ذكر ضروري ھے كہ يہ جتني بھي كتابيں ذكر كي گئي ھيں يہ ھماري بحث كے تاريخي مآخذ ھيں اور اس سے ھرگز مراد يہ نھيں ھے كہ ھم نے فقط ان ھي كتابوں پر اكتفا كي ھے۔ بلكہ بعض مقامات پر احاديث كي كتابوں سے بھي استفادہ كيا ھے جيسا كہ اھل سنت كي احاديث كي كتابوں ميں سے صحيح بخارى، مسند احمد بن حنبل اور شيعہ احاديث كي كتابوں ميں سے كافي اور بحار الانوار كو اس گفتگو كے لئے منتخب كيا گيا ھے۔

    اگر چہ بعض مخصوص مطالب كے سلسلے ميں ان كتابوں سے استفادہ كيا گيا ھے جو انہيں موضوعات پر لكھي گئي ھيں مجموعي طور پر يہ كھا جاسكتا ھے كہ اس كتاب ميں تحقيق كا جو طريقۂ كار اپنايا گيا ھے اگر چہ وہ بہت مشكل اور سنگين كام ھے ليكن ممكن ھے كہ يہ طريقۂ كار بہت سي تاريخي مباحث كي تحقيق كے سلسلے ميں مفيد ثابت ھو۔


    5. مخنف، منبر كے وزن پر ھے۔

    6. الفہرست۔ ابن نديم، ص 105

    8. بعض افراد نے تاريخ طبرى ميں ابو مخنف كي روايات كي تعداد پانچ سو پچاسي كہي ھے جب كہ تحقيق كے بعد مصنف كا كہنا يہ ھے كہ ان كي تعداد پانچ سو باسٹھ ھے ممكن ھے كہ بعض روايات كے چند حصے الگ الگ جگہ نقل ھوگئے ھوں۔

    9. رجال طوسي۔ ص81، الفہرست شيخ طوسي۔ ص129

    10. رجال نجاشي۔ ص320

    13. اس بات كے پيش نظر كہ حضرت علي (ع.كي تاريخ شہادت سن چاليس ھجري قمري ھے۔

    14. الكافى۔ ج2 ص31۔

    15. مرسلہ ايسي روايت كو كہتے ھيں جس ميں راوي ايك يا چند واسطوں كو حذف كرنے كے بعد معصوم سے روايت نقل كرتا ھے (مترجم)

    16. الطبقات الكبريٰ: ج6 ص35، الفہرست ابن نديم: ج105، 106

    17. ذكر اخبار اصفہان: ترجمہ دكتر كسائى، ص189

    18. تاريخ طبرى۔ ج4 ص521

    19. تاريخ طبرى۔ ج4 ص570

    20. رجال طوسي۔ ص81، فہرست، ص129

    21. الكني والالقاب۔ ج1 ص55، الذريعہ۔ ج1 ص312۔

    22. رجال نجاشي : ص320۔ (ابو مخنف شيخ اصحاب الاخبار بالكوفہ وجھھم وكان يسكن الي ما يرويہ)

    23. رجال طوسي۔ ص275

    24. الكني والالقاب۔ ص155

    25. الذريعہ۔ ج1 ص312

    27. تاريخ يحييٰ بن معين ج1 ص210

    28. قابل اعتماد۔ (مترجم)

    31. ديوان الضعفاء والمتروكين: ج2 ص265

    32. سير اعلام النبلاء۔ ج7ص301

    33. الضعفاء والمتروكين: ص333

    35. الفہرست: ابن نديم۔ ص105، 106

    36. معجم الادباء: ج5 ص2252۔

    37. نقل از قاموس الرجال تستري۔ ج8 ص620

    38. شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد: ج1 ص147 (ابو مخنف من المحدثين وممن يري صحة الامامة بالاختيار وليس من الشيعہ ولا معدوداً من رجالھا)

    43. طبري۔ ج1 ص7، 8

    45. السيرة النبويہ ابن ھشام ج1 ص4 (ابن اسحاق نے ايسے مطالب كا ذكر نہيں كيا كہ جو رسول خدا (ص.سے متعلق نہيں تھے يا يہ كہ بعض مطالب غير مناسب تھے)

    46. منابع تاريخ اسلام۔ ص121

    47. ابن تيميہ كے افكار ھي در حقيقت وھابيت كي بنياد ھيں۔

    دوسرا حصہ: سقيفہ كے بار ے ميں ابو مخنف كي روايت كا مضمون

    تمھيد

    واقعہ سقيفہ كے بارے ميں نظريات ركھنے كي بنا پر اكثر محدثين نے اسے تفصيل كے ساتھ پيش نھيں كيا ھے ليكن خوش قسمتي سے بعض محدثين اور مورخين نے اسے تفصيل سے نقل كيا ھے عام طور پر وہ اھم اور معتبر مآخذ جن كے ذريعہ سقيفہ كے حالات سے كافي حد تك آگاھي حاصل ھوتي ھے وہ يہ ھيں، روايت ابي مخنف 48 روايت جوھري 49 روايت خليفئہ دوم 50 روايت دينوري 51 اور روايت ابن اثير 52۔

    ابو مخنف كي روايت جسے طبري نے نقل كيا ھے جو ھر لحاظ سے معتبر ھے اس كتاب ميں سقيفہ كي بحث كے لئے يھي روايت محور قرار دي گئي ھے، اور يہ حصہ اس روايت كے مضمون كو مكمل طور سے بيان كرنے كے لئے مخصوص كيا گيا ھے۔

    سقيفہ كے بار ے ميں ابو مخنف كي روايت كا عربي متن:

    حدّثنا ھشام بن محمد، عن أبي مخنف ، قال: حدّثني عبداللہ ابن عبد الرحمن بن أبي عمرة الانصارى، أنّ النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم لما قُبض اجتمعت الأنصار في سقيفة بني ساعدة، فقالوا: نولي ھذا الأمر بعد محمد عليہ السلام سعد بن عبادة، و أخرجوا سعداً اليھم وھو مريض، فلما اجتمعوا قال لابنہ أو بعض بني عمّہ: اني لا أقدر لشكو اي ان اسمع القوم كلّھم كلامى: ولكن تلقّ منّي قولي فاسمعھموہ؛ فكان يتكلم و يحفظ الرجل قولہ، فيرفع صوتہ فيسمع أصحابہ،

    فقال بعد ان حمد اللہ واثني عليہ: يا معشر الأنصار! لكم سابقة في الدين و فضيلة في الاسلام ليست لقبيلة من العرب، ان محمداً عليہ السلام لبث بضع عشرة سنة في قومہ يدعوھم الي عبادة الرحمن وخلع الأنداد و الاوثان، فما آمن بہ من قومہ الا رجل قليل، و كان ما كانوا يقدرون علي ان يمنعوا رسول اللہ؛ ولا ان يعزّوا دينہ، ولا ان يدفعوا عن انفسھم ضَيماً عُمُوّا بہ؛ حتي اذا اراد بكم الفضيلة، ساق اليكم الكرامة و خصكم بالنعمة، فرزقكم اللہ الايمان بہ و برسولہ ،والمنعَ لہ ولأصحابہ، والا عزازَ لہ ولدينہ؛ والجھاد لأعدائہ؛ فكنتم اشد الناس علي عدوّہ منكم، واثقلہ علي عدوہ من غيركم؛ حتي استقامت العرب لامر اللہ طوعا و كرھا؛ واعطي البعيد المقادة صاغراً داخراً؛ حتي اثخن اللہ عزّ و جل لرسولہ بكم الارض، و دانت بأسيافكم لہ العرب؛ و توفاہ اللہ و ھو عنكم راض؛ و بكم قرير عين۔ استبدّوا بھذا الامر فانہ لكم دون الناس۔

    فأجابوہ بأجمعھم: ان قد وُفِّقتَ في الرأي واصبت في القول، ولن نعد وما رأيت، و نوليك ھذا الأمر، فانك فينا مَقنعٌ و لصالح المؤمنين رضا۔

    ثم اِنھم ترادّوا الكلامَ، فقالوا: فان ابت مھاجرة قريش، فقالوا: نحن المھاجرون و صحابة رسول اللہ الاولون؛ و نحن عشيرتہ و أولياؤہ؛ فعلام تنازعوننا ھذا الامر بعدہ ! فقالت طائفة منھم: فانا نقول اذاً: منا اميرو منكم امير؛ ولن نرضي بدون ھذا الأمر ابداً۔ فقال سعد بن عبادة حين سمعھا: ھذا أول الوھن!

    و أتي عمرَ الخبرُ فاقبل الي منزل النبي صلي اللہ عليہ وسلم ، فأرسل الي ابي بكر و ابوبكر في الدار و علي بن أبي طالب عليہ السلام دائب في جھاز رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم؛ فارسل الي ابي بكر أن اخرج الى، فأرسل اليہ: انّي مشتغل؛ فأرسل اليہ أنہ قد حدث أمرٌ لا بد لك من حضورہ، فخرج اليہ، فقال: أما علمتَ أنّ الانصار قد اجتمعت في سقيفہ بني ساعدة، يريدون ان يولّوا ھذا الامر سعد بن عبادة، أحسنھم مقالة مَن يقول: منا امير و من قريش أمير!

    فمضيا مسر عين نحوھم؛ فلقيا أبا عبيدہ بن الجراح؛ فتما شَوا اليھم ثلاثتھم، فلقيھم عاصم بن عدي و عُوَيم بن ساعدة، فقالالھم: ارجعوا فانہ لايكون ما تريدون، فقالوا: لا نفعل، فجاعوا وھم مجتمعون۔

    فقال عمر بن الخطاب: اتيناھم۔ و قد كنتُ زوّرت كلاماً اردت أن اقوم فيھم۔ فلما أن دفعتُ اليھم ذھبتُ لأبتدي ء المنطق، فقال لي ابوبكر: رُوَيداً حتي أتكلّم ثم انطق بعد بما أحببت۔ فنطق، فقال عمر: فما شيء كنتُ اردت أن أقولہ الّا وقد أتي بہ او زاد عليہ۔

    فقال عبد اللہ بن عبد الرحمن 53: فبدأ أبوبكر، فحمد اللہ وأثني عليہ؛ ثم قال؛ أنّ اللہ بعث محمداً رسولاً الي خلقہ، و شھيداً علي امتہ ، ليعبُدوا اللہ و يوحّدوہ وھم يعبدون من دونہ آلھة شتى؛ ويزعمون أنھا لھم عندہ شافعة، ولھم نافعة؛ وانّما ھي من حَجَر مَنحوت، وخشب منجور، ثم قرأ: (و يعبدون من دون اللہ ما لا يضّرھم ولا ينفعھم و يقولون ھؤلاء شفعاؤنا عند اللہ) 54 و قالوا: (ما نعبدھم الا ليقرّبونا الي اللہ زلفي) 55؛ فعظُم علي العرب ان يتركوا دين آبائھم، فخصّ اللہ المھاجرين الأولين من قومہ بتصديقہ، والايمان بہ، والمؤساة لہ، والصبر معہ علي شدة اذي قومھم لھم؛ تكذيبھم اياھم؛ وكل الناس لھم مخالف، زارٍ عليھم، فلم يستوحشوا لقلّة عددھم و شَنَفِ الناس لھم واجماع قومھم عليھم، فھم أول مَن عبداللہ في الارض و آمن باللہ و بالرسول؛ وھم أولياوہ و عشيرتہ، وأحقٌ الناس بھذا الأمر من بعدہ؛ ولا ينازعھم ذلك الا ظالم، وأنتم يا معشر الانصار، من لاينكر فضلُھم في الدين ولا سابقتُھم العظيمة في الاسلام، رضيكم اللہ أنصاراً لدينہ و رسولہ، و جعل اليكم ھجرتہ۔ و فيكم جِلّة أزواجہ وأصحابہ؛ فليس بعد المھاجرين الاوّلين عندنا [أحد] 56 بمنزلتكم؛ فنحن الامراء وأنتم الوزراء، لاتُفتاتون بمشورة، ولا نقضي دونكم الامور۔

    قال: فقام الحُباب بن المنذر بن الجموع، فقال: يا معشرَ الانصار، املكوا عليكم امركم؛ فان الناس في فيئكم وفي ظِلكم، ولكن يجتريء مجتريء علي خلافكم؛ ولن يصدر الناس الّا عن رأيكم ، انتم اھل العزّ والثروة، واولوا العدد والمنعة والتجربة، ذو والباس والنجدة؛ وانما ينظر الناس الي ما تصنعون؛ ولا تختلفوا فيفسد عليكم رأيكم؛ و ينتقض عليكم أمركم؛ (فان) أبيٰ ھؤلاء الّا ما سمعتم؛ فمنّا أمير ومنھم أمير۔

    فقال عمر: ھيھات لا يجتمع اثنان في قرن! واللہ لا ترضي العرب ان يؤمّروكم و نبيھا من غيركم؛ ولكن العرب لا تمتنع أن تولّي أمرھا من كانت النبوة فيھم و وَلي أمورھم منھم؛ ولنا بذلك علي مَن أبي من العرب الحجة الظاھرة والسلطان المبين؛ من ذا يناز عنا سلطانَ محمد و امارتہ، ونحن أولياوہ و عشيرتہ الامُدلٍ بباطل، او مُتَجانِف لاثم، و مورِّط في ھَلَكة!

    فقام الحُباب بن المنذر فقال: يا معشر الأنصار ، أملِكُوا علي أيديكم، ولا تسمعوا مقالة ھذا و أصحابہ فيذھبوا بنصيبكم من ھذا الأمر؛ فاِن أبوا عليكم ما سألتموہ، فاجلُوھم عن ھذہ البلاد، و تولوا عليھم ھذہ الأمور؛ فأنتم واللہ أحقّ بھذا الامر منھم؛ فانہ بأسيافكم دان لھذا الدين من دان ممّن لم يكن يدين؛ جذيلھا المحكّك ، و عذيقھا المرجب! اما واللہ لئن شئتم لنعيدنّھا جذعة؛ فقال عمر: اذاً يقتلك اللہ! قال: بل اياك يقتل!

    فقال أبو عبيدة: يا معشرَ الانصار؛ انّكم أوّل من نصر و آزرَ؛ فلا تكونوا اوّل من بدّل و غير۔

    فقام بشير بن سعد ابو النعمان بن بشير فقال: يا معشر الأنصار؛ انا واللہ لئن كنا أولي فضيلة في جھاد المشركين، و سابقة في ھذا الدين؛ ما اردنا بہ اِلّا رضا ربنا و طاعة نبينا، و الكَدح لأنفسنا؛ فما ينبغي لنا أن نستطيل علي الناس بذلك ولا نبتغي بہ من الدنيا عرضا؛ فان اللہ ولي المنة علينا بذلك؛ اَلا انّ محمداً صلي اللہ عليہ وسلم من قريش، و قومہ أحقّ بہ و أولى، وايم اللہ لا يراني اللہ أنا زعھم ھذا الأمر أبدا، فاتقوا اللہ ولا تخالفوھم ولا تنازعوھم!

    فقال ابوبكر : ھذا عمر، و ھذا أبو عبيدہ، فأيھما شئتم فبايعوا۔ فقالا: لا واللہ لا نتوّلي ھذا الأمر عليك، فانك افضل المھاجرين و ثاني اثنين اذھما في الغار، و خليفة رسول اللہ علي الصَّلاة؛ و الصَّلاة افضل دين المسلمين؛ فمن ذا ينبغي لہ ان يتقدّمك او يتولّي ھذا الامر عليك! ابسُط يدك نبايعك فلما ذھبا ليبايعاہ، سبقھما اليہ بشير بن سعد، فبايعہ، فناداہ الحباب بن المنذر: يا بشر بن سعد: عقّتك عقاق؛ ما احوجَك الي ما صنعت، أنفستَ علي ابن عمّك الامارة! فقال: لا واللہ؛ ولكني كرھت ان انازع قوماً حقاً جعلہ اللہ لھم۔

    ولما رأت الاوس ما صنع بشير بن سعد، و ما تدعُوا اليہ قريش، و ما تطلب الخزرج، من تأمير سعد بن عبادة، قال بعضھم لبعض، و فيھم أسَيد ابن حضير، وكان احد النقباء: واللہ لئن وليتھا الخزرج عليكم مرّۃ لا زالت لھم عليكم بذلك الفضيلۃ؛ ولا جعلوا لكم معھم فيھا نصيباً أبداً فقوموا فبا يعوا أبابكر۔ فقاموا اليہ فبايعوہ، فانكسر علي سعد بن عبادة و علي الخزرج ما كانوا أجمعو لہ من امرھم۔

    قال ھشام: قال أبو مخنف: فحدثني ابوبكر بن محمد الخُزاعى، أن أسلَم أقبلت بجماعتھا حتي تضايقّ بھم السكك، فبايعوا ابابكر؛ فكان عمر يقول: ما ھو الّا أن رأيتُ أسلم فأيقنتُ بالنّصر۔

    قال ھشام، عن أبي مخنف: قال عبداللہ بن عبد الرحمن: فأقبل الناس من كلّ جانب يبايعون أبابكر، وكادوا يطئون سعد بن عبادة، فقال ناس من أصحاب سعد: اتقوا سعداً لا تطئوہ، فقال عمر: اقتلوہ قتلہ اللہ! ثم قام علي رأسہ، فقال: لقد ھممتُ أن أطأك ھتي تُندَر عَضُدك؛ فأخذ سعد بلحية عمر، فقال: واللہ لو حصصتَ منہ شعرہ ما رجعت و في فيك واضحة؛ فقال ابوبكر: مھلاً يا عمر! الرّفق ھاھنا أبلغ۔ فأعرض عنہ عمر۔

    index next