index next

رسول اكرم(ص) كے اخلاق حسنه
پر ايك نظر

تأليف : مركز تحقيقات علوم اسلامي
ترجمه : معارف اسلام پبلشرز

فہرست

•  پہلا سبق :ادب و سنت

•  ادب اور اخلاق ميں فرق

•  رسول اكرم (ص) كے ادب كى خصوصيت

•  رسول خدا (ص) كے آداب

•  وقت نماز

•  دعا كے وقت تسبيح و تقديس

•  بارگاہ الہى ميں تضرع اور نيازمند ى كا اظہار

•  لوگوں كے ساتھ حسن معاشرت

•  گفتگو

•  مزاح

•  كلام كى تكرار

•  انس و محبت

•  دوسرا سبق : لوگوں كے ساتھ آنحضرت(ص) كا برتاؤ

•  سلام

•  مصافحہ

•  رخصت كے وقت

•  پكارتے وقت پكار كا جواب

•  ظاہرى آرائشے

•  مہمان نوازى كے كچھ آداب

•  عيادت كے آداب

•  كچھ اپنى ذات كے حوالے سے آداب

•  كھانے كے آداب

•  سفر كے آداب

•  سونے كے آداب

•  تيسرا سبق : پيغمبر اكرم كا طرز معاشرت

•  صاحبان فضيلت كا اكرام

•  حاتم كى بيٹى

•  بافضيلت اسير

•  نيك اقدار كو زندہ كرنا اور وجود ميں لانا

•  رخصت اور استقبال

•  جہاد ميں پيش قدمى كرنے والوں كا اكرام

•  شہداء اور ان كے خاندان كا اكرام

•  ايمان يا دولت

•  ثروت مند شرفاء يا غريب مومن

•  چوتھا سبق : پيغمبر اكرم (ص) كى مہربانياں

•  گھر والوں سے محبت و مہربانى

•  امام زين العابدين (ع) كا خادم

•  اصحاب سے محبت

•  بچوں اور يتيموں پر مہربانى

•  امام يتيموں كے باپ

•  گناہ گاروں پر مہربانى

•  اسيروں پر مہربانى

•  دوسروںكے حقوق كا احترام

•  بيت المال كى حفاظت

•  حضرت على (ع) اوربيت المال

•  بے نيازى كا جذبہ پيدا كرنا

•  بے نياز اور بٹے كٹے آدمى كيلئے صدقہ حلال نہيں

•  ايك دوسرے كى مدد كرنا

•  دشمنوں كے ساتھ آپكا برتاؤ

•  پانچواں سبق : عہد كا پورا كرنا

•  پيغمبر اكرم (ص) كے عہد و پيمان

•  پيغمبر (ص) كے ذاتى عہد و پيمان

•  اجتماعى معاہدوں كى پابندى

•  مشركين سے معاہدوں كى پابندى

•  چھٹا سبق: يہوديوں كے ساتھ آنحضرت(ص) كے معاہدے

•  معاہدہ كى خلاف ورزى كرنے والوں كے ساتھ آپكا برتاؤ

•  بنى قينقاع كے يہوديوں كى پيمان شكنى

•  بنى نضير كے يہوديوں كى پيمان شكنى

•  بنى قريظہ كے يہوديوں كى عہد شكنى

•  ساتواں سبق : صبر و استقامت

•  رسول خدا (ص) صابر اور كامياب

•  مختلف قسم كى بہت سى مخالفتيں اور اذيتيں

•  زبانوں كے زخم

•  آٹھواں سبق : جسمانى اذيت

•  ميدان جنگ ميں صبر كا مظاہرہ

•  رسول خدا(ص) كى استقامت

•  كفار و مشركين سے عدم موافقت

•  دھمكى اور لالچ

•  ابوجہل كى دھمكى

•  نواں سبق: پيغمبر (ص) رحمت

•  عفو، كمال كا پيش خيمہ

•  عفو ميں دنيا اور آخرت كى عزت

•  رسول خدا(ص) كى عزت

•  اقتدار كے باوجود درگذر

•  لطف و مہربانى كا دن

•  آپكے چچا حمزہ كا قاتل

•  ابوسفيان كى بيوى ہند

•  ابن زبعرى

•  مولائے كاءنات حضرت على (ع)

•  دسواں سبق : بدزبانى كرنے والوں سے درگزر

•  اعرابى كا واقعہ

•  امام حسن مجتبى (ع) اور شامى شخص

•  امام سجاد (ع) اور آپكا ايك دشمن

•  مالك اشتر كى مہربانى اور عفو

•  ظالم سے درگذر

•  امام زين العابدين (ع) اور ہشام

•  امام رضا (ع) اور جلودى

•  سازش كرنے والے كى معانى

•  ايك اعرابى كا واقعہ

•  يہوديہ عورت كى مسموم غذا

•  على (ع) اور ابن ملجم

•  سختى

•  مخزوميہ عورت

•  گيارہواں سبق : شرح صدر 173

•  وسعت قلب پيغمبر (ص)

•  بدعا كى جگہ دعا

•  ايك اعرابى كى ہدايت

•  تسليم اور عبوديت

•  پيغمبر (ص) كى نماز

•  پيغمبر (ص) كى دعا

•  پيغمبر (ص) كا استغفار

•  پيغمبر (ص) كا روزہ

•  رسول خدا(ص) كا اعتكاف

•  خدا كى مرضى پرخوش ہونا

•  بارہواں سبق : مدد اور تعاون

•  جناب ابوطالب كے ساتھ تعاون

•  مسجد مدينہ كى تعمير ميں شركت

•  خندق كھودنے ميں پيغمبر(ص) كى شركت

•  كھانا تيار كرنے ميں پيغمبر(ص) كى شركت

•  شجاعت رسول خدا(ص)

•  تيرہواں سبق: پيغمبر اكرم(ص) كى بخشش و عطا

•  سخاوت كى تعريف

•  سخاوت كى اہميت

•  سخاوت كے آثار

•  اصحاب كى روايت كے مطابق پيغمبر (ص) كى سخاوت

•  چودھواں سبق: سخاوت پيغمبر (ص) كى خداداد صفت 210

•  صدقہ كو حقير جاننا

•  رسول خدا(ص) كى كمال سخاوت يا ايثار

•  دو طرح كے مساءل

•  پيغمبر (ص) كى بخشش كے نمونے

•  لباس كا عطيہ

•  ايك بابركت درہم

•  سخاوت مندانہ معاملہ

•  پندرہواں سبق: دعا

•  دعاكى اہميت اور اسكا اثر

•  دعا كے وقت آنحضرت (ص) كى كيفيت

•  عبادت كے اوقات ميں دعا

•  دعا اور روزمرہ كے امور

•  سولہواں سبق : خاص جگہوں پر پڑھى جانيوالى دعا

•  دعا رويت ہلال

•  ماہ رمضان كے چاند ديكھنے كے بعد كى دعا

•  دعائے روز عرفہ

•  سال نو كى دعا

•  جنگ بدر ميں پيغمبر(ص) كى دعا

•  جنگ خندق ميں پيغمبر (ص) كى دعا

•  بارش برسنے كيلئے دعا

•  وقت آخر كى دعا

•  سترہواں سبق : حسن كلام

•  رسول خدا(ص) كے كلام كا حسن اور جذابيت

•  رسول خدا (ص) كا مزاح

•  مزاح مگر حق

•  رسول خدا(ص) كى مزاح كے نمونے

•  اصحاب كى مزاح

•  اٹھارہواں سبق : تواضع

•  بادشاہ نہيں پيغمبر (ص)

•  اصحاب كے ساتھ تواضع

•  اصحاب كے ساتھ گفتگو كا انداز

•  بچوں كے ساتھ تواضع كے ساتھ برتاؤ

•  ذاتى كاموں ميں مدد نہ لينا

•  رسول خدا (ص) كى انكسارى كے اور نمونے

•  انيسواں سبق: پاكيزگى اور آرائشے

•  ظاہرى و باطنى طہارت

•  پيغمبر (ص) كا لباس

•  خوشبو كا ا ستعمال

•  مسواك كرنا

•  مسواك رسول اللہ (ص) كى سنت

•  بيسواں سبق: كنگھى كرنا اور ديگر امور

•  سر كے بالوں كى لمبائي

•  بالوں ميں خضاب لگانا

•  انگوٹھى

•  جسم كى صفائي

•  تيل كى مالش

•  سرمہ لگانا

پہلا سبق:

(ادب و سنت )

رسول اسلام (ص) كے آداب و سنن كو پيش كرنے سے قبل مناسب ہے كہ ادب اور سنت كى حقيقت كے بارے ميں گفتگو ہوجائے _

ادب: علمائے علم لغت نے لفظ ادب كے چند معانى بيان كئے ہيں ، اٹھنے بيٹھنے ميں تہذيب اور حسن اخلاق كى رعايت اور پسنديدہ خصال كا اجتماع ادب ہے(1)

مندرجہ بالا معنى كے پيش نظر در حقيقت ادب ايسا بہترين طريقہ ہے جسے كوئي شخص اپنے معمول كے مطابق اعمال كى انجام دہى ميں اس طرح اختيار كرے كہ عقل مندوں كى نظر

ميں داد و تحسين كا مستحق قرار پائے ، يہ بھى كہا جاسكتاہے كہ '' ادب وہ ظرافت عمل اور خوبصورت چال چلن ہے جسكا سرچشمہ لطافت روح اور پاكيزگى طينت ہے '' مندرجہ ذيل دو نكتوں پر غور كرنے سے اسلامى ثقافت ميں ادب كا مفہوم بہت واضح ہوجاتاہے_


1) (لغت نامہ دہخدا مادہ ادب)_

پہلا نكتہ :

عمل اسوقت ظريف اور بہترين قرار پاتاہے جب شريعت سے اس كى اجازت ہو اور حرمت كے عنوان سے اس سے منع نہ كيا گيا ہو_

لہذا ظلم ، جھوٹ، خيانت ، بر ے اور ناپسنديدہ كام كيلئے لفظ ادب كا استعمال نہيں ہو سكتا دوسرى بات يہ ہے كہ عمل اختيارى ہو يعنى اسكو كئي صورتوں ميں اپنے اختيار سے انجام دينا ممكن ہو پھر انسان اسے اسى طرح انجام دے كہ مصداق ادب بن جائے_ (1)

دوسرا نكتہ :

حسن كے اس معنى ميں كہ عمل زندگى كى آبرو كے مطابق ہو، كوئي اختلاف نہيں ہے ليكن اس معنى كے اپنے حقاءق سے مطابقت ميں بڑے معاشروں مثلاً مختلف اقوام ، ملل ، اديان اور مذاہب كى نظر ميں اسى طرح چھوٹے معاشروں جيسے خاندانوں كى نظر ميں بہت ہى مختلف ہے _چونكہ نيك كام كو اچھے كام سے جدا كرنے كے سلسلہ ميں لوگوں ميں مختلف نظريات ہيں مثلاً بہت سى چيزيں جو ايك قوم كے درميان آداب ميں سے شمار كى جاتى ہيں، جبكہ دوسرى اقوام كے نزديك ان كو ادب نہيں كہا جاتا اور بہت سے كام ايسے ہيں جو ايك قوم كى نظر ميں پسنديدہ ہيں ليكن دوسرى قوموں كى نظر ميں برے ہيں(1)


1)(الميزان جلد 2 ص 105)_

2)(الميزان جلد 2 ص 105)_

اس دوسرے نكتہ كو نگاہ ميں ركھنے كى بعد آداب رسول اكرم (ص) كى قدر و قيمت اس وجہ سے ہے كہ آپ كى تربيت خدا نے كى ہے اور خدا ہى نے آپ كو ادب كى دولت سے نوازا ہے نيز آپ كے آداب ، زندگى كے حقيقى مقاصد سے ہم آہنگ ہيں اور حسن كے واقعى اور حقيقى مصداق ہيں _

امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا:

''ان اللہ عزوجل ادب نبيہ (ص) على محبتہ فقال : انك لعلى خلق عظيم''

خدا نے اپنى محبت و عنايت سے اپنے پيغمبر(ص) كى تربيت كى ہے اس كے بعد فرماياہے كہ: آپ(ص) خلق عظيم پر فاءز ہيں (1)

آنحضرت (ص) كے جو آداب بطور يادگار موجود ہيں ان كى رعايت كرنا در حقيقت خدا كے بتائے ہوئے راستے '' صراط مستقيم '' كو طے كرنا اور كاءنات كى سنت جاريہ اور قوانين سے ہم آہنگى ہے_


1)( اصول كافى جلد 2 ص 2 ترجمہ سيد جواد مصطفوي)_

ادب اور اخلاق ميں فرق

باوجودى كہ بادى النظر ميں دونوں لفظوں كے معنى ميں فرق نظر نہيں آتاہے ليكن تحقيق كے اعتبار سے ادب اور اخلاق كے معنى ميں فرق ہے _

علامہ طباطبائي ان دونوں لفظوں كے فرق كو اجاگر كرتے ہوئے فرماتے ہيں :

ہر معاشرہ كے آداب و رسوم اس معاشرہ كے افكار اور اخلاقى خصوصيات كے آئينہ دار ہوتے ہيں اس لئے كہ معاشرتى آداب كا سرچشمہ مقاصد ہيں اور مقاصد اجتماعي، فطرى اور تاريخى عوامل سے وجود ميں آتے ہيں ممكن ہے بعض لوگ يہ خيال كريں كہ آداب و اخلاق ايك ہى چيز كے دو نام ہيں ليكن ايسا نہيں ہے اسلئے كہ روح كے راسخ ملكہ كا نام اخلاق ہے در حقيقت روح كے اوصاف كا نام اخلاق ہے ليكن ادب وہ بہترين اور حسين صورتيں ہيں كہ جس سے انسان كے انجام پانے والے اعمال متصف ہوتے ہيں (1)

ادب اور اخلاق كے درميان اس فرق پر غور كرنے كے بعد كہا جاسكتاہے كہ خلق ميں اچھى اور برى صفت ہوتى ہے ليكن ادب ميں فعل و عمل كى خوبى كى علاوہ اور كچھ نہيں ہوتا، دوسرے لفظوں ميں يوں كہاجائے كہ اخلاق اچھا يا برا ہوسكتاہے ليكن ادب اچھا يا برا نہيں ہوسكتا_


1)الميزان جلد 12 ص 106_

رسول اكرم (ص) كے ادب كى خصوصيت

روزمرہ كى زندگى كے اعمال ميں رسول خدا (ص) نے جن آداب سے كام لياہے ان سے آپ نے اعمال كو خوبصورت و لطيف اور خوشنما بناديا اور ان كو اخلاقى قدر وقيمت بخش دى _

آپ كى سيرت كا يہ حسن و زيبائي آپ كى روح لطيف ، قلب ناز ك ا5ور طبع ظريف كى دين تھى جن كو بيان كرنے سے ذوق سليم اورحسن پرست روح كو نشاط حاصل ہوتى ہے اور اس بيان كو سن كر طبع عالى كو مزيد بلندى ملتى ہے _ رسول خدا (ص) كى سيرت كے مجموعہ ميں مندرجہ ذيل اوصاف نماياں طور پر نظر آتے ہيں _

الف: حسن وزيبائي ب: نرمى و لطافت ج: وقار و متانت

ان آداب اور پسنديدہ اوصاف كے سبب آپ(ص) نے جاہل عرب كى بدخوئي ، سخت كلامى و بدزبانى اور سنگدلى كو نرمى ، حسن اور عطوفت و مہربانى ميں بدل ديا، آپ (ص) نے ان كے دل ميں برادرى كا بيچ بويا اور امت مسلمہ كے درميان آپ (ص) نے اتحاد كى داغ بيل ڈالي_

رسول خدا (ص) كے آداب

اپنے مدمقابل كے ساتھ آپ (ص) كا جو سلوك تھا اس كے اعتبار سے آپ (ص) كے آداب تين حصوں ميں تقسيم ہوتے ہيں _

1_ خداوند عالم كے روبرو آپ (ص) كے آداب

2_ لوگوں كے ساتھ معاشرت كے آداب

3 _ انفرادى اور ذاتى آداب

انہيں سے ہر ايك كى مختلف قسميں ہيں جن كو آءندہ بيان كيا جائے گا _

خدا كے حضور ميں

بارگاہ خداوندى ميں رسول خدا (ص) كى دعائيں بڑے ہى مخصوص آداب كے ساتھ ہوتى تھيں يہ دعائيں خدا سے آپ (ص) كے عميق ربط كا پتہ ديتى ہيں_

وقت نماز

نماز آپ (ص) كى آنكھوں كا نور تھى ،آپ (ص) نماز كو بہت عزيز ركھتے تھے چنانچہ آپ (ص) ہر نماز كو وقت پر ادا كرنے كا اہتمام كرتے تھے ، بہت زيادہ نمازيں پڑھتے اور نماز كے وقت اپنے آپ (ص) كو مكمل طور پر خدا كے سامنے محسوس كرتے تھے_

نماز كے وقت آنحضرت (ص) كے اہتمام كے متعلق آپ (ص) كى ايك زوجہ كا بيان ہے كہ ''رسول خدا (ص) ہم سے باتيں كرتے اور ہم ان سے محو گفتگو ہوتے ، ليكن جب نماز كا وقت آتا تو آپ (ص) كى ايسى حالت ہوجاتى تھى گويا كہ آپ (ص) نہ ہم كو پہچان رہے ہيں اور نہ ہم

آپ (ص) كو پہچان رہے ہيں(1)

منقول ہے كہ آپ (ص) پورے ا شتياق كے ساتھ نماز كے وقت كا انتظار كرتے اور اسى كى طرف متوجہ رہتے تھے اور جيسے ہى نماز كا وقت آجاتا آپ (ص) مؤذن سے فرماتے ''اے بلال مجھے اذان نماز كے ذريعہ شاد كردو'' (2)

امام جعفر صاد ق (ع) سے روايت ہے '' نماز مغرب كے وقت آپ (ص) كسى بھى كام كو نماز پر مقدم نہيں كرتے تھے اوراول وقت ، نماز مغرب ادا كرتے تھے (3) منقول ہے كہ ''رسول خدا (ص) نماز واجب سے دو گنا زيادہ مستحب نمازيں پڑھا كرتے تھے اور واجب روزے سے دوگنے مستحب روزے ركھتے تھے_(4)

روحانى عروج ميں آپ (ص) كو ايسا حضور قلب حاصل تھا كہ جس كو بيان نہيں كيا جاسكتا، منقول ہے كہ جب رسول خدا (ص) نماز كيلئے كھڑے ہوتے تھے تو خوف خدا سے آپ (ص) كا رنگ متغير ہوجاتا تھا اور آپ (ص) كى بڑى دردناك آواز سنى جاتى تھي(5)


1) سنن النبى ص 251_

2) سنن النبى ص 268_

3) سنن النبى ص_

4) سنن النبى ص 234_

5) سنن النبى ص251_

جب آپ (ص) نماز زپڑھتے تھے تو ايسا لگتا تھا كہ جيسے كوئي كپڑا ہے جو زمين پر پڑا ہوا ہے(1) حضرت امام جعفر صادق (ع) نے رسول خدا (ص) كى نماز شب كى تصوير كشى كرتے ہوئے فرماياہے :

''رات كو جب آپ (ص) سونا چاہتے تھے تو ، ايك برتن ميں اپنے سرہانے پانى ركھ ديتے تھے آپ (ص) مسواك بھى بستر كے نيچے ركھ كر سوتے تھے،آپ (ص) اتنا سوتے تھے جتنا خدا چاہتا تھا، جب بيدار ہوتے تو بيٹھ جاتے اور آسمان كى طرف نظر كركے سورہ آل عمران كى آيات'' ان فى خلق السموات والارض الخ'' پڑھتے اس كے بعد مسواك كرتے ، وضو فرماتے اور مقام نماز پر پہونچ كر نماز شب ميں سے چار ركعت نماز ادا كرتے، ہر ركعت ميں قراءت كے بقدر ، ركوع اور ركوع كے بقدر ، سجدہ فرماتے تھے اس قدر ركوع طولانى كرتے كہ كہا جاتا كہ كب ركوع كو تمام كريں گے اور سجدہ ميں جائيں گے اسى طرح انكا سجدہ اتنا طويل ہوتا كہ كہا جاتا كب سر اٹھائيں گے اس كے بعد آپ (ص) پھر بستر پر تشريف لے جاتے اوراتنا ہى سوتے تھے جتنا خدا چاہتا تھا_اس كے بعد پھر بيدار ہوتے اور بيٹھ جاتے ، نگاہيں اسمان كى طرف اٹھاكر انہيں آيتوں كى تلاوت فرماتے پھر مسواك كرتے ، وضو فرماتے ، مسجد ميں تشريف لے جاتے اور نماز شب ميں سے پھر چار ركعت نماز پڑھتے يہ نماز بھى اسى انداز سے ادا ہوتى جس انداز سے اس سے پہلے چار ركعت ادا ہوئي تھى ، پھر


1) سنن النبى ص 268_

تھوڑى دير سونے كے بعد بيدار ہوتے اور آسمان كى طرف نگاہ كركے انہيں آيتوں كى تلاوت فرماتے ، مسواك اور وضو سے فارغ ہوكر تين ركعت نماز شفع و وتر اور دو ركعت نماز نافلہ صبح پڑھتے پھر نماز صبح ادا كرنے كيلئے مسجد ميں تشريف لے جاتے''(1)

آنحضرت نے ابوذر سے ايك گفتگو كے ذيل ميں نماز كى اس كوشش اور ادائيگى كے فلسفہ كو بيان كرتے ہوئے فرمايا:'' اے ابوذر ميرى آنكھوں كا نور خدا نے نماز ميں ركھاہے اوراس نے جس طرح كھانے كو بھوكے كيلئے اور پانى كو پياسے كيلئے محبوب قرار ديا ہے اسى طرح نماز كو ميرے لئے محبوب قرار ديا ہے، بھوكا كھانا كھانے كے بعد سير اور پياساپانى پينے كے بعد سيراب ہوجاتاہے ليكن ميں نماز پڑھنے سے سيراب نہيں ہوتا'' (2)

دعا كے وقت تسبيح و تقديس

آپ كے شب و روز كا زيادہ تر حصہ دعا و مناجات ميں گذرجاتا تھا آپ سے بہت سارى دعائيں نقل ہوئي ہيں آپ كى دعائيں خداوند عالم كى تسبيح و تقديس سے مزين ہيں ، آپ نے توحيد كا سبق، معارف الہى كى گہرائي، خود شناسى اور خودسازى كے تعميرى اور تخليقي


1) سنن النبى ص 241_

2)سنن النبى ص 269_

علوم ان دعاؤں ميں بيان فرماديئے ہيں ان دعاؤں ميں سے ايك دعا وہ بھى ہے كہ جب آپ (ص) كى خدمت ميں كھانا لايا جاتا تھا تو آپ (ص) پڑھا كرتے تھے:

''سبحانك اللہم ما احسن ما تبتلينا سبحانك اللہم ما اكثر ما تعطينا سبحانك اللہم ما اكثر ما تعافينا اللہم اوسع علينا و على فقراء المومنين''(1)

خدايا تو منزہ ہے تو كتنى اچھى طرح ہم كو آزماتاہے، خدايا تو پاكيزہ ہے تو ہم پر كتنى زيادہ بخشش كرتاہے، خدا يا تو پاكيزہ ہے تو ہم سے كس قدر درگذر كرتاہے، پالنے والے ہم كو اور حاجتمند مؤمنين كو فراخى عطا فرما_

بارگاہ الہى ميں تضرع اور نيازمندى كا اظہار

آنحضرت (ص) خدا كى عظمت و جلالت سے واقف تھے لہذا جب تك دعا كرتے رہتے تھے اسوقت تك اپنے اوپر تضرع اور نيازمندى كى حالت طارى ركھتے تھے، سيدالشہداء امام حسين (ع) رسول خدا (ص) كى دعا كے آداب كے سلسلہ ميں فرماتے ہيں :

''كان رسول اللہ (ص) يرفع يديہ اذ ابتہل و دعا كما يستطعم المسكين '' (2)


1) اعيان الشيعہ ج1 ص306_

2)سنن النبى ص 315_

رسول (ص) بارگاہ خدا ميں تضرع اور دعا كے وقت اپنے ہاتھوں كو اس طرح بلند كرتے تھے جيسے كوئي نادار كھانا مانگ رہاہو_

لوگوں كے ساتھ حسن معاشرت

رسول اكر م (ص) كى نماياں خصوصيتوں ميں سے ايك خصوصيت لوگوں كے ساتھ حسن معاشرت ہے ، آپ تربيت الہى سے مالامال تھے اس بناپر معاشرت ، نشست و برخاست ميں لوگوں كےساتھ ايسے ادب سے پيش آتے تھے كہ سخت مخالف كو بھى شرمندہ كرديتے تھے اور نصيحت حاصل كرنے والے مؤمنين كى فضيلت ميں اضافہ ہوجاتا تھا_

آپ كى معاشرت كے آداب، اخلاق كى كتابوں ميں تفصيلى طور پر مرقوم ہيں _ہم اس مختصر وقت ميں چند آداب كو بيان كررہے ہيں اميد ہے كہ ہمارے لئے رسول خدا (ص) كے ا دب سے آراستہ ہونے كا باعث ہو:

گفتگو

بات كرتے وقت كشادہ روئي اور مہربانى كو ظاہر كرنے والا تبسم آپ كے كلام كو شيريں اور دل نشيں بناديتا تھا روايت ميں ہے كہ :

''كان رسول اللہ اذا حدث بحديث تبسم فى حديثہ'' (1)

بات كرتے وقت رسول اكرم (ص) تبسم فرماتے تھے_

ظاہر ہے كہ كشادہ روئي سے باتيں كرنے سے ہر ايك كو اس بات كا موقع ملتا تھا كہ وہ آپ (ص) كى عظمت و منزلت سے مرعوب ہوئے بغير نہايت اطمينان كے ساتھ آپ(ص) سے گفتگو كرے، اپنے ضمير كى آواز كو كھل كر بيان كرے اور اپنى حاجت و دل كى بات آپ (ص) كے سامنے پيش كرے_

سامنے والے كى بات كو آپ (ص) كبھى منقطع نہيں كرتے تھے ايسا كبھى نہيں ہوا كہ كوئي آپ (ص) سے گفتگو كا آغاز كرے تو آپ (ص) پہلے ہى اسكو خاموش كرديں (2)

مزاح

مؤمنين كا دل خوش كرنے كيلئے آنحضرت (ص) كبھى مزاح بھى فرمايا كرتے تھے، ليكن تحقير و تمسخر آميز، ناحق اور ناپسنديدہ بات آپ (ص) كى كلام ميں نظر نہيں آتى تھي_

''عن الصادق (ع) قال ما من مؤمن الا وفيہ دعابة و كان رسول اللہ يدعب و لا يقول الاحقا'' (3)


1) سنن النبى ص48 بحار ج6 ص 298_

2)مكارم الاخلاق ص 23_

3)سنن النبى ص 49_

امام صادق (ع) سے نقل ہوا ہے كہ : كوئي مؤمن ايسا نہيں ہے جس ميں حس مزاح نہ ہو، رسول خدا (ص) مزاح فرماتے تھے اور حق كے علاوہ كچھ نہيں كہتے تھے_

آپ كے مزاح كے كچھ نمونے يہاں نقل كئے جاتے ہيں :

''قال (ص) لاحد لا تنس يا ذالاذنين '' (1)

پيغمبر خدا (ص) نے ايك شخص سے فرمايا: اے دو كان والے فراموش نہ كر_

انصار كى ايك بوڑھى عورت نے آنحضرت (ص) سے عرض كيا كہ آپ ميرے لئے دعا فرماديں كہ ميں بھى جتنى ہوجاؤں حضرت (ص) نے فرمايا: '' بوڑھى عورتيں جنت ميں داخل نہيں ہوں گي'' وہ عورت رونے لگى آنحضرت (ص) مسكرائے اور فرمايا كيا تم نے خدا كا يہ قول نہيں سنا ;

''انا انشأناہن انشاءً فجعلنا ہن ابكاراً '' (2)

ہم نے بہشتى عورتوں كو پيدا كيا اور ان كو باكرہ قرار ديا _

كلام كى تكرار

رسول خدا (ص) كى گفتگو كى خصوصيت يہ تھى كہ آپ (ص) بات كو اچھى طرح سمجھا ديتے تھے_


1)بحارالانوار ج16 ص 294_

2)سورہ واقعہ آيت 35 و 36_

ابن عباس سے منقول ہے : جب رسول خدا (ص) كوئي بات كہتے يا آپ(ص) سے كوئي سوال ہوتا تھا تو تين مرتبہ تكرار فرماتے يہاں تك كہ سوال كرنے والا بخوبى سمجھ جائے اور دوسرے افرادآنحضرت (ص) كے قول كى طرف متوجہ ہوجائيں _

انس و محبت

پيغمبر خدا (ص) كو اپنے اصحاب و انصار سے بہت انس و محبت تھى ان كى نشستوں ميں شركت كرتے اور ان سے گفتگو فرماتے تھے آپ (ص) ان نشستوں ميں مخصوص ادب كى رعايت فرماتے تھے_

حضرت امير المؤمنين آپ كى شيرين بزم كو ياد كرتے ہوئے فرماتے ہيں '' : ايسا كبھى نہيں ديكھا گيا كہ پيغمبر خد ا (ص) كسى كے سامنے اپنا پاؤں پھيلاتے ہوں'' (1)

پيغمبر (ص) كى بزم كے بارے ميں آپ كے ايك صحابى بيان فرماتے ہيں '' جب ہم لوگ رسول خدا (ص) كے پاس آتے تھے تو داءرہ كى صورت ميں بيٹھتے تھے'' (2)

جليل القدر صحابى جناب ابوذر بيان كرتے ہيں '' رسول خدا (ص) جب اپنے اصحاب كے درميان بيٹھتے تھے تو كسى انجانے آدمى كو يہ نہيں معلوم ہوسكتا تھا كہ پيغمبر (ص) كون ہيں آخر


1) مكارم الاخلاق ص 22_

2) سنن النبى ص 70_

كا ر اسے پوچھنا پڑتا تھا ہم لوگوں نے حضور(ص) سے يہ درخواست كى كہ آپ ايسى جگہ بيٹھيں كہ اگر كوئي اجنبى آدمى آجائے تو آپ (ص) كو پہچان لے ، اسكے بعد ہم لوگوں نے مٹى كا ايك چبوترہ بنايا آپ (ص) اس چبوترہ پر تشريف فرماہو تے تھے اور ہم لوگ آپ (ص) كے پاس بيٹھتے تھے_(1)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں: رسول خدا (ص) جب كسى كے ساتھ بيٹھتے تو جب تك وہ موجود رہتا تھا حضرت (ص) اپنے لباس اور زينت والى چيزوں كو جسم سے جدا نہيں كرتے تھے (2)

مجموعہ ورام ميں روايت كى گئي ہے '' پيغمبر (ص) كى سنت يہ ہے كہ جب لوگوں كے مجمع ميں بات كرو تو ان ميں سے ايك ہى فرد كو متوجہ نہ كرو بلكہ سارے افراد پر نظر ركھو(3)


1) سنن النبى ص63_

2)سنن النبى ص48_

3)سنن النبى ص47_

خلاصہ درس

1)علمائے علم لغت نے لفظ ادب كے جو معنى بيان كئے ہيں ان پر غور كرنے كے بعد يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ در حقيقت ظرافت عمل اور ايسے نيك چال چلن كا نام ادب ہے كہ جس كا سرچشمہ لطافت روح اور طينت كى پاكيزگى ہے _

2) آنحضرت (ص) كے ادب كى قدر و قيمت اس عنوان سے ہے كہ آپ خدا كى بارگاہ كے تربيت يافتہ اور اس كے سكھائے ہوئے ادب سے آراستہ و پيراستہ تھے_

3) اخلاق و آداب ، ميں فرق يہ ہے كہ اخلاق ميں اچھائي اور برائي دونوں ہوتى ہيں مگر ادب ميں حسن عمل كے سوا اور كچھ نہيں ہوتا_

4) رسول خدا (ص) نے روزمرہ كى زندگى كے اعمال ميں جن طريقوں اور آداب كو اپنايا، وہ ايسے تھے كہ جنہوں نے اعمال كو خوبصورتى لطافت اور حسن عطا كيا اور انہيں اخلاقى قدروں كا حامل بناديا_

5) رسول اللہ (ص) كى سيرت ميں مندرجہ ذيل اوصاف نماياں طور پر نظر آتے ہيں :

الف:حسن و زيبائي ب: نرمى اور لطافت ج: وقار و متانت

6 ) مدمقابل كے سامنے جو آپ (ص) كے آداب تھے ان كو تين حصوں ميں تقسيم كيا جاسكتاہے:

1_ خدا كے بالمقابل آپ (ص) كے آداب

2_ لوگوں كى ساتھ معاشرت كے آداب

3_فردى اور ذاتى آداب

سوالات :

1 _ ادب كے معنى لكھئے؟

2_ ادب اور اخلاق كا فرق تحرير كيجئے؟

3 _ پيغمبر اكرم (ص) كے آداب كے كتنے حصے ہيں؟

4 _ نماز كے وقت آپ (ص) كے آداب كا اجمالى طور پر جاءزہ ليجئے_

5 _لوگوں سے معاشرت كے وقت آپ (ص) كے كيا آداب تھے؟ اجمالى طور پر بيان كيجئے_

دوسرا سبق:

(لوگوں كے ساتھ آنحضرت (ص) كا برتاؤ)

رسول اكرم كے برتاؤ ميں گرمجوشى كشش اور متانت موجودہ تھى چھوٹے،بڑے فقير اور غنى ہر ايك سے آپ (ص) كے ملنے جلنے ميں وہ ادب نظر آتاہے جو آپ كى عظمت اور وسيع النظرى كو اجاگر كرتاہے_

سلام

چھوٹے بڑے ہر ايك سے ملنے كا آغاز آپ (ص) سلام سے كرتے اور سبقت فرماتے تھے _

قرآن كريم نے سلام كے جواب كے لئے جو آداب بيان كئے ہيں ان ميں سے ايك چيز يہ ہے كہ سلام كا اچھے انداز سے جواب ديا جائے ارشاد ہے :

''و اذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منہا او ردوھا''(1)

اور جب كوئي شخص تمہيں سلام كرے تو تم بھى اس كے جواب ميں بہتر طريقہ سے سلام كرو يا وہى لفظ جواب ميں كہہ دو_

رسول خدا (ص) دوسروں كے جواب ميں اس قرآنى ادب كى ايك خاص قسم كى ظرافت سے رعايت فرماتے تھے_

جناب سلمان فارسى سے منقول ہے كہ ايك شخص رسول خدا (ص) كى خدمت ميں پہنچا اور اس نے كہا : السلام عليك يا رسول اللہ پيغمبر (ص) نے جواب ديا وعليك و رحمة اللہ ، دوسرا شخص آيا اور اس نے كہا : السلام عليك يا رسول اللہ و رحمة اللہ آپ (ص) نے جواب ميںفرمايا : و عليك و رحمة اللہ و بركاتہ تيسرا شخص آيا اور اس نے كہا : السلام عليك و رحمة اللہ و بركاتہ آنحضرت نے فرمايا: و عليك اس شخص نے پيغمبر (ص) سے كہا كہ فلاں آپ (ص) كے پاس آئے انہوںنے سلام كيا تو آپ نے ان كے جواب ميں ميرے جواب سے زيادہ كلمات ارشاد فرمائے ؟آنحضرت (ص) نے فرمايا تم نے ہمارے واسطے كوئي چيز چھوڑى ہى نہيں ، خداوند نے فرمايا ہے :


1)سورہ نساء 86_

''واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منہا او ردوہا'' (1)

اور جب كوئي شخص سلام كرے تو تم بھى اس كے جواب ميں بہتر طريقہ سے سلام كيا كرو يا وہى لفظ جواب ميں كہديا كرو_

مصافحہ

رسول خدا (ص) كى يادگار ايك اسلامى طريقہ مصافحہ كرنا بھى ہے _آپ كے مصافحہ كے آداب كو امير المؤمنين بيان فرماتے ہوئے كہتے ہيں كہ '' ايسا كبھى نہيں ہوا كہ رسول خدا (ص) نے كسى سے مصافحہ كيا ہو اور اس شخص سے پہلے اپنا ہاتھ كھينچ ليا ہو'' (2)

امام جعفر صادق نے اس سلسلہ ميں فرمايا'' جب لوگوں نے اس بات كو سمجھ ليا تو حضرت سے مصافحہ كرنے ميں جلدى سے اپنا ہاتھ كھينچ ليتے تھے''(3)

رخصت كے وقت

مؤمنين كو رخصت كرتے وقت رسول خدا (ص) ان كے لئے دعائے خير كيا كرتے تھے; ان كو خير و نيكى كے مركب پر بٹھاتے اور تقوى كا توشہ ان كےساتھ كرتے تھے_


1) تفسير در المنثور ج2 ص 188_

2) مكارم الاخلاق ص 23_

3) سنن النبى ص 48_

ايك صحابى كو رخصت كرتے وقت فرمايا:

'' زودك اللہ التقوى و غفرذنبك و لقاك الخير حيث كنت '' (1)

خداوند عالم خداوندعالم تمہارا توشہ سفر تقوي قرار دے، تمہارے گناہ معاف كردے اور تم جہاں كہيں بھى رہو تم تك خير پہنچاتارہے_

پكارتے وقت

اصحاب كو پكارنے ميں آپكا انداز نہايت محترمانہ ہوتا تھا آنحضرت(ص) اپنے اصحاب كے احترام اور ان كے قلبى لگاؤ كيلئے ان كو كنيت سے پكارتے تھے اور اگر كسى كى كوئي كنيت نہيںہوتى تھى تو اس كيلئے معين كرديتے تھے پھر تو دوسرے لوگ بھى اسى كنيت سے ان كو پكارنے لگتے تھے اس طرح آپ صاحب اولاد اور بے اولاد عورتوں، يہاں تك كہ بچوں كيلئے كنيت معين فرماتے تھے اور اس طرح سب كا دل موہ لے ليتے تھے (1)_

پكار كا جواب

آنحضرت (ص) جس طرح كسى كو پكارنے ميں احترام ملحوظ نظر ركھتے تھے ويسے ہى آپ (ص) كے كسى كى آواز پر لبيك كہنے ميں بھى كسر نفسى اور احترام كے جذبات ملے جلے ہوتے تھے_


1)مكارم الاخلاق ص 249_

2)سنن النبى ص53_

روايت ہوئي ہے كہ :

''لا يدعوہ احد من الصحابہ و غيرہم الا قال لبيك'' (1)

رسول خدا (ص) كو جب بھى ان كے اصحاب ميں سے كسى نے يا كسى غير نے پكارا تو آپ نے اس كے جواب ميں لبيك كہا _

امير المؤمنين سے روايت ہے كہ جب رسول خدا (ص) سے كوئي شخص كسى چيز كى خواہش كرتا تھا اور آپ (ص) بھى اسے انجام دينا چاہتے تھے تو فرماتے تھے كہ '' ہاں'' اور اگر اسكو انجام دينا نہيں چاہتے تھے تو خاموش رہ جاتے تھے اور ہرگز '' نہيں'' زبان پر جارى نہيں كرتے تھے (2)

ظاہرى آرائشے

كچھ لوگ مردوں كا فقط گھر كے باہر اور ناآشنا لوگوں سے ملاقات كرتے وقت آراستہ رہنا ضرورى سمجھتے ہيں ان كے برخلاف رسو لخدا (ص) گھر ميں اور گھر كے باہر دونوں جگہ نہايت آراستہ رہتے تھے، نہ صرف اپنے خاندان والوں كيلئے بلكہ اپنے اصحاب كيلئے بھى اپنے كو آراستہ ركھتے تھے اور فرماتے تھے كہ : خدا اپنے اس بندہ كو دوست ركھتاہے جو اپنے بھائيوں سے ملاقات كيلئے گھر سے نكلتے وقت آمادگى اور آراستگى سے نكلے(3)


1)سنن النبى ص53_

2)سنن النبى ص 70_

3)سنن النبى ص22_

مہما نوازى كے كچھ آداب

رسول اكرم (ص) جو كہ عالى مزاج اور آزاد منش تھے وہ اپنے مہمانوں كا نہايت احترام و اكرام كرتے تھے_

منقول ہے كہ '' جب كبھى كوئي آپ كے پاس آتا تھا تو جس تو شك پر آپ تشريف فرماہوتے تھے آنے والے شخص كو دے ديتے تھے اور اگر وہ مہمان اسے قبول نہيں كرتا تو آپ اصرار فرماتے تھے يہاں تك وہ قبول كرلے _(1)

حضرت موسى بن جعفر (ع) نے فرمايا: '' جب رسول خدا (ص) كے يہاں كوئي مہمان آتا تھا تو آپ اس كے ساتھ كھانا كھاتے تھے اور جب تك مہمان كھانے سے اپنا ہاتھ روك نہيں ليتا تھا آپ كھانے ميں اس كے شريك رہتے تھے _(2)

عيادت كے آداب

آپ اپنے اصحاب سے صحت و تندرستى ہى كے زمانہ ميں ملاقات نہيں كرتے تھے بلكہ اگر كوئي مؤمن اتفاقاً بيمار پڑجانا تو آپ اسكى عيادت كرتے اور يہ عمل خاص آداب كے ساتھ انجام پاتا_


1)سنن النبى ص 53_

2)سنن النبى ص 67_

عيادت كے آداب سے متعلق آپ (ص) خود بيان فرماتے ہيں :

''تمام عيادة المريض ان يضع احدكم يدہ عليہ و يسألہ كيف انت؟ كيف اصبحت؟ و كيف امسيت؟ و تمام تحيتكم المصافحہ ''(1)

كمال عيادت مريض يہ ہے كہ تم اس كے اوپر اپنا ہاتھ ركھو اس سے پوچھو كہ تم كيسے ہو؟ رات كيسے گذارى ؟ تمہارا دن كيسے گذرا؟ اور تمہارا مكمل سلام مصافحہ كرنا ہے _

مريض كى عيادت كے وقت رسول خدا (ص) كا ايك دوسرا طريقہ يہ تھا كہ آپ اس كے لئے دعا فرماتے تھے _ روايت ہے كہ جب سلمان فارسى بيمار ہوئے اور آپ نے ان كى عيادت كى ، تو اٹھتے وقت فرمايا :

''يا سلمان كشف اللہ ضرك و غفرذنبك و حفظ فى دينك و بدنك الى منتہى اجلك''

اے سلمان اللہ تمہارى پريشانى كو دور كرے تمہارے گناہ كو بخش دے اور موت آنے تك تمہارے دين اور بدن كو صحيح و سالم ركھے (2)

حاصل كلام

كلى طور پر جاودانى ، شايستگى اور خردمندى پيغمبر اكرم (ص) كے برتاؤ كے آداب كي


1)مكارم الاخلاق 359_

2)مكارم الاخلاق ص361_

خصوصيات ميں سے تھيں_آنحضرت (ص) كے سلوك كا اثر آپكے زمانہ كے افراد پر ايسا گہرا تھا كہ بہت ہى كم مدت ميں ان كى روح و فكر ميں عظيم تبديلى آگئي اور ان كو آپ (ص) نے اخلاق اسلامى كے زيور سے آراستہ كرديا رسول (ص) كى سيرت كو نمونہ عمل بنانافقط آپ (ص) كے زمانہ كے افراد سے مخصوص نہيں ہے بلكہ جب تك دنيا قاءم ہے اور اسلام كا پرچم لہرارہاہے رسول اسلام (ص) پر ايمان لانيوالوں كو چاہئے كہ آپ كے اخلاق (ص) آداب اور سيرت كو آئيڈيل بنائيں_

كچھ اپنى ذات كے حوالے سے آداب

انفرادى اعمال كى انجام دہى ميں آپكا طريقہ اس حد تك دلپذير اور پسنديدہ تھا كہ لوگوں كيلئے ہميشہ كيلئے نمونہ عمل بن گئے، آپ پر ايمان لانے والے آج سنت پيغمبر (ص) سمجھ كر ان اعمال كو بجالاتے ہيںآنحضرت (ص) كى زندگى كى تاريخ ميں كوئي ايسى چھوٹى سى بات بھى ناپسنديدہ نظر نہيں آتى ، صرف بڑے كاموں ميں ہى آپ كى سيرت سبق آموز اور آئيڈيل نہيں ہے بلكہ آپ كى زندگى كے معمولى اور جزئي امور بھى اخلاق كے دقيق اور لطيف ترين درس ديتے نظر آتے ہيں _

اس تحرير ميں حضرت (ص) كے كچھ ذاتى آداب كى طرف اشارہ كيا جارہاہے_ آداب رسول خدا (ص) كے متلاشى افراد كيلئے بہتر ہے كہ وہ ان كتابوں كا مطالعہ فرمائيں

جو اس سلسلہ ميں لكھى گئي ہيں_(1)

  index next