index next

قرآن اور چهرۂ منافق

سيد احمد خاتمى
مترجم / مصحح : سید نوشاد علی نقوی خرم آبادی
ناشر : مجمع جهانی اهل بیت (ع)

     مقدمہ

  •   فصل اوّل؛ نفاق كي اجمالي شناخت
  •   فصل دوّم؛ منافقين كي سياسي خصائص
  •   فصل سوم : منافقين كي نفسياتي خصائص
  •   فصل چھارم: منافقين كي ثقافتي (كلچرل) خصائص
  •   فصل پنجم: منافقين كي اجتماعي و معاشرتي خصائص
  •   فصل ششم: منافقين سے مقابلہ كرنے كي راہ و روش
مقدمہ

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ھوتا ھے كائنات كي ھر چيز اپني صلاحيت و ظرفيت كے مطابق اس سے فيض ياب ھوتي ھے حتي ننھے ننھے پودے اس كي كرنوں سے سبزي حاصل كرتے ھيں غنچہ و كلياں رنگ و نكھار پيدا كر ليتي ھيں تاريكياں كافور اور كوچہ وراہ اجالوں سے پرنور ھوجاتے ھيں۔

چنانچہ متمدن دنيا سے دور عرب كي سنگلاخ واديوں ميں قدرت كي فياضيوں سے جس وقت اسلام كا سورج طلوع ھوا، دنيا كي ھر فرد اور ھر قوم نے قوت و قابليت كے اعتبار سے فيض اٹھايا۔

اسلام كے مبلغ و مؤسس سرور كائنات حضرت محمد مصطفٰي صل اللہ عليہ وآلم وسلم غار حرا سے مشعل حق لے كر آئے اور علم و آگھي كي پياسي ايك دنيا كو چشمۂ حق و حقيقت سے سيراب كرديا، آپ كے تمام الہي پيغامات ايك ايك عقيدہ اور ايك ايك عمل، فطرت انساني سے ھم آھنگ ارتقاء بشريت كي ضرورت تھا۔

اس لئے تيئيس برس كے مختصر سے عرصے ميں ھي اسلام كي عالم تاب شعاعيں ھر طرف پھيل گئيں اور اس وقت دنيا پر حكمران ايران و روم كي قديم تھذيبيں اسلامي اقدار كے سامنے ماند پڑ گئيں، وہ تھذيبي اصنام صرف جو ديكھنے ميں اچھے لگتے ھيں اگر حركت و عمل سے عاري ھوں اور انسانيت كو سمت دينے كا حوصلہ ولولہ اور شعور نہ ركھتے ھوں تو مذاھب عقل و آگاھي سے رو برو ھونے كي توانائي كھو ديتے ھيں يہي وجہ ھے ايك چوتھائي صدي سے بھي كم مدت ميں اسلام نے تمام اديان و مذاھب اور تھذيب و روايات پر غلبہ حاصل كرليا۔

اگر چہ رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي يہ گراں بھا ميراث كو جس كي اھلبيت عليہم السلام اور ان كے پيروؤں نے خود كو طوفاني خطرات سے گزار كر حفاظت و پاسباني كي ھے، وقت كے ہاتھوں خود فرندان اسلام كي بے توجھي اور ناقدري كے سبب ايك طويل عرصے كے لئے تنگنائيوں كا شكار ھوكر اپني عمومي افاديت كو عام كرنے سے محروم كردي گئي تھى، پھر بھي حكومت و سياست كے عتاب كي پروا كئے بغير مكتب اھل بيت عليہم السلام نے اپنا چشمۂ فيض جاري ركھا، چودہ سال كے عرصہ ميں بھت سے ايسے جليل القدر علماء اور دانشور دنيائے اسلام كو پيش كئے جنھوں نے بيروني افكار و نظريات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فكري و نظري موجوں كي زد پر اپني حق آگين تحريروں اور تقريروں سے مكتب اسلام كي پشت پناھي كي ھے ھر دور اور زمانہ ميں ھر قسم كے شكوك و شبھات كا ازالہ كيا ھے۔

خاص طور پر عصر حاضر ميں اسلامي انقلاب كي كاميابي كے بعد ساري دنيا كي نگاھيں ايك بار پھر اسلام و قرآن اور مكتب اھل بيت عليہم السلام كي طرف اٹھي اور گڑي ھوئي ھيں، دشمنان اسلام اس فكري و معنوي قوت و اقتدار كو توڑنے كے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبي اور ثقافتي موج كے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور كامياب و كامران زندگي حاصل كرنے كے لئے بے چين و بيتاب ھيں۔

يہ زمانہ علمي و فكري مقابلہ كا زمانہ ھے اور جو مكتب بھي تبليغ اور نشر و اشاعت كے بھتر طريقوں سے فائدہ اٹھاكر انساني عقل و شعور كو جذب كرنے والے افكار و نظريات دنيا تك پہنچائے گا وہ اس ميدان ميں آگے نكل جائے گا۔

مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام (عالمي اھل بيت كونسل) نے بھي مسلمانوں خاص طور پر اہل بيت عليہم السلام عصمت وطھارت كے پيروؤں كے درميان ھم فكري و يكجھتي كو فروغ دينا وقت كي ايك اھم ضرورت قرار ديتے ھوئے اس راہ ميں قدم اٹھايا ھے كہ اس نوراني تحريك ميں بھتر انداز سے اپنا فريضہ ادا كريں۔

موجودہ دنياء بشريت جو قرآن و عترت كے صاف و شفاف معارف كي پياسي ھے، زيادہ سے زيادہ عشق و معنويت سے سرشار اسلام كے اس مكتب عرفان و ولايت سے سيراب ھوسكے۔

ھميں يقين ھے، عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز ميں اگر اھل بيت عصمت و طھارت كي ثقافت كو عام كيا جائے اور حريت و بيداري كے علم بردار خاندان نبوت و رسالت كي جاوداں ميراث، اپنے صحيح خدو خال ميں دنيا تك پہنچادي جائے تو اخلاق و انسانيت كي دشمن، انانيت كي شكار، سامرا جي خونخواروں كي نام نھاد تھذيب و ثقافت اور عصر حاضر كي ترقي يافتہ جھالت سے تھكي ماندي آدميت كو، امن و نجات كي دعوتوں كے ذريعہ امام عصر (عج) كي عالمي حكومت كے استقبال كے لئے تيار كيا جاسكتا ھے۔

ھم اس راہ ميں تمام علمي و تحقيقي كوششوں كے لئے محققين و مصنفين كے شكر گزار ھيں اور خود كو مؤلفين و مترجمين كا ادنٰي خدمت گار تصور كرتے ھيں۔

زير نظر كتاب، مكتب اھل بيت عليہم السلام كي ترويج و اشاعت اسي سلسلے كي ايك كڑي ھے فاضل علام حجۃ الاسلام و المسلمين "سيد احمد خاتمى" كي گراں قدر كتاب قرآن اور چھرہ نفاق كو فاضل جليل مولانا "سيد نوشاد علي نقوي خرم آبادى" نے اردو زبان ميں اپنے سے قلم آراستہ كيا ھے جس كے لئے ھم دونوں كے شكر گزار اور مزيد توفيقات كے آرزو مند ھيں۔

اس منزل ميں ھم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونين كا بھي صميم قلب سے شكريہ ادا كرتے ھيں كہ جنھوں نے اس كتاب كے منظر عام تك آنے ميں كسي بھي عنوان سے زحمت اٹھائي ھے خدا كرے كہ ثقافتي ميدان ميں يہ ادنٰي جھاد رضائے مولٰي كا باعث قرار پائے۔ والسلام مع الكرام

مدير امور ثقافت: مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام

عرض مترجم

((نٓ و القلم و ما يسطرون))

ابراہيم زمن، شہنشاہيت شكن، حضرت امام خميني (رح) كي قيادت و رہبري ميں رونما ہونے والا عظيم اسلامي انقلاب جس نے افكار شرق اور سياست غرب كو تہ و بالا كر كے ركھ ديا، جس نے عالم اسلام كو نئي حيات و وقار عطا كيا، اس انقلاب كي كاميابي كے بعد، اسلامي تھذيب و تمدن، فرھنگ و ثقافت، افكار و اخلاق كو اھل جھاں تك پہونچانے كے لئے، جھاں اور اھم اسلامي ادارے وجود ميں آئے، مجمع جھاني اھل بيت عليہم السلام نے بھي صفحۂ ھستي پر قدم ركھا اس عالمي ادارہ كے بلند اغراض و مقاصد ميں سے ايك، معارف اھل بيت عليہم السلام كے تشنگان كو سيراب كرنا ھے، اس مقدس ھدف و مقصد كو پايہ تكميل تك پہنچانے كے لئے دنيا كي ھزاروں رائج زبانوں ميں اھل بيت اطھار عليہم السلام كے افكار و اخلاق، افعال و گفتار، رفتار و كردار كو تحريري شكل ميں پيش كيا جاتا ھے اسي رائج زبانوں ميں ايك اردو بھي ھے، اس عالمي ادارے كي طرف سے اردو زبان ميں اب تك قابل توجہ اعداد ميں كتب شائع ھوكر منظر عام پر آچكي ھيں۔

آپ كے پيش نظر كتاب "قرآن اور چھرہ نفاق" فارسي كتاب "سيماي نفاق در قرآن" كا اردو ترجمہ ھے، حقير نے تمام ھمت كے ساتھ كوشش كي ھے كہ مطلب و مفھوم كتاب كو سادے، آسان، عام فھم الفاظ ميں پيش كرے، غير مانوس اور ذھن گريز كلمات سے پرھيز كيا گيا ھے۔

يہ كتاب موضوع نفاق پر ايك جامع و كامل دستاويز ھے جو آپ كے ھاتھوں ميں ھے، يہ كتاب صاحبان ايمان كي خدمت ميں خصوصي ھديہ ھے اس لئے كہ ايمان اس وقت تك كامل نھيں ھوسكتا جب تك اجر رسالت كي ادائگي نہ ھو، اجر رسالت اس وقت تك ادا نھيں ھوسكتا جب تك اھل بيت اطھار عليہم السلام سے محبت و مودت نہ كي جائے1 ان حضرات سے محبت و مودت نھيں ھوسكتي جب تك كہ ان كے دشمنوں كي شناخت كرتے ھوئے ان سے اور ان كے افعال و كردار سے نفرت نہ كي جائے، اور يہ ممكن ھي نھيں جب تك نفاق كي آشنائي كا حصول نہ ھوجائے، اس لئے كہ نفاق كي شناخت اھل بيت اطھار عليہم السلام كے دشمنوں كي شناخت ھے۔

اگر يہ نفاق نہ ھوتا تو امير المؤمنين علي بن ابي طالب عليہ السلام كا حق غصب نہ كيا گيا ھوتا، ام ابيہا فاطمہ زھرا صلوات اللہ عليہا كے شكم و بازو پر جلتا ھوا دروازہ نہ گرايا گيا ھوتا، قرۃ عين رسول اللہ صلي اللہ عيہ وآلہ وسلم امام حسن مجتبيٰ عليہ السلام كے جنازے پر تيروں كي بارش نہ ھوتي اور كربلا كے ميدان ميں "حسين مني و انا من الحسين" كا تن تنھا مصداق تين دن كا تشنہ لب شھيد نہ كيا گيا ھوتا۔

اگر نفاق كے اقدامات نہ ھوتے تو آج كرۂ ارض كي وضعيت و كيفيت كچھ اور ھوتى، جھاني و عالمي معاشرے كا رنگ و روپ كچھ اور ھي ھوتا، آج عالم اسلامي كي ذلت و پستي كي شناخت اور اعدا اسلام كي پيش قدمي اس نفاق كے عملي اقدام كا نتيجہ ھے۔

شناخت نفاق كا ما حصل اھل بيت عليہم السلام كے دشمنوں كي شناخت ھے اور ان كے دشمنوں كي شناخت تبرّا كے قالب ميں جزء فروع دين ھے، فروع دين كے اجزا كي بجا آوري تكميل ايمان كا سبب ھے۔

لہذا استاد محترم حجۃ الاسلام و المسلمين سيد احمد خاتمى دام ظلہ العالي كي كتاب "قرآن اور چھرۂ نفاق"، ايمان كو جلا، فكر كو مستحكم، عمل كو قوى، دائرہ ايمان كو وسيع كرنے كے لئے معاون و مدد گار ثابت ھوگي استاد معظم نے دقيق مطالب، شائستہ انداز، زمان و مكان سے تطابق كرتے ھوئے جامع و كامل كتاب تحرير فرمائي ھے۔

آپ آشيانۂ آل محمد عليہم السلام، مركز تشيع، بستان علم، گلشن فقاھت، حوزہ علميہ قم جمھوري اسلامي ايران كے ستارہ فروزان ھيں آپ كو علوم اسلامي ميں تجرّ حاصل ھے، علم اصول و فقہ و تفسير قرآن كے ھزاروں تربيت كردہ آپ كے شاگرد خدمات اسلام و قرآن انجام دے رھے ھيں۔

بھر حال بندہ كے لئے باعث افتخار ھے كہ ايسے عظيم المرتبت گراں قدر عالم و فاضل و جليل كي كتاب كا ترجمہ آپ كي خدمت ميں پيش كر رھا ھوں، معاني و مفاھيم كو منتقل كرنے ميں كتنا كامياب رھا ھوں وہ تو قارئين ھي بتا سكتے ھيں البتہ اس كتاب كو ادبي محك سے نہ پركھا جائے كيوں كہ كسي اديب كے ذريعہ ترجمہ شدہ نھيں، لھذا خطا و غلطي كو دامن عفو ميں جگہ ديں گے۔

سيد نوشاد علي نقوي خرم آبادى
حوزہ علميہ قم المقدسہ

مقدمہ مصنف

بصيرت و نظر، ديني معاشرے كے لئے بنيادي ترين معيار رشد و كمال ھے، ديني معاشرہ ميں فضا سازى، طلاطم آفرينى، معركہ آرائى، سخن اوّل نھيں ھوتے بلكہ سخن اوّل بصيرت و نظر ھے، دعوت حق كے لئے، بصيرت لازم ترين شرط ھے، اللہ كي طرف دعوت دھندگان كو چاھئے كہ خود كو اس صفت سے آراستہ كريں:

(قل ھذہ سبيلي ادعوا الي اللہ علي بصيرۃ انا و من اتّبعني) 2

آپ كہہ ديجئے يھي ميرا راستہ ھے، ميں بصيرت كے ساتھ خدا كي طرف دعوت ديتا ھوں، اور ميرے ساتھ ميرا اتباع كرنے والا بھي ھے۔

بصيرت و دانائي كثير الجھت و مختلف زوايا كي حامل ھے، خدا، نبي (ص) و امام عليہ السلام كي معرفت، قيامت كي شناخت اور وظائف سے آشنائي وغيرہ……

دشمن كي معرفت و، اھم ترين زاويہ بصيرت پر مشتمل ھے، اس لئے كہ قرآن ميں اكثر مقام پر خدا كي وحدانيت و عبوديت كي دعوت كے بعد يا اس كے قبل بلا فاصلہ، طاغوت سے انكار3 طاغوت سے پرھيز4 عبادت شيطان سے كنارہ كشى5 كي گفتگو ھے، كبھي دشمن شناختہ شدہ ھے، علي الاعلان، دشمني كے بيز كو اٹھائے ھوتا ھے، اس صورت ميں گرچہ دشمن سے ٹكرانے ميں بھت سي مشكلات و سختي كا سامنا ھے، ليكن فريب و اغوا كي صعوبتيں نھيں ھيں۔

ليكن كبھي دشمن ايسے لباس ايسے رسم و رواج ميں ظھور پذير ھوتا ھے، جسے سماج و معاشرہ، مقدس سمجھتا ھے، مخالفت دين كا پرچم اٹھائے نھيں ھوتا، بلكہ اپني منافقانہ رفتار و گفتار كے ذريعہ خود كو دين كا طرف دار و مروّج، دين كا پاسبان و نگھبان ظاھر كرتا ھے۔

اس حالت ميں دشمن سے مبارزہ و مقابلہ كي سختي و مشكلات كے علاوہ دوسري مشكلات و صعوبتيں بھي عالم وجود ميں آتي ھيں، جو اصل مقابلہ و مبارزہ سے كھيں زيادہ اور كئي برابر ھوتيں ھيں، اور وہ مشكلات عوام فريبى، اثر گذاري اپنے ھي فريق و دستہ پر ھوتي ھے۔ اسي بنا پر امير المؤمنين علي عليہ السلام كي ناكثين، قاسطين، مارقين سے حرب و جنگ، ان جنگوں كي بہ نسبت سخت ترين و مشكل ترين تھي جو پيامبر عظيم الشان نے بت پرستوں و مشركوں سے كي تھي۔

اس لئے كہ مرسل اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے مد مقابل وہ گروہ تھے جن كا نعرہ تھا بت زندہ باد، ليكن امام علي عليہ السلام كا ان افراد سے مقابلہ تھا جن كو بھت سے جھادوں ميں پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ھم ركاب جونے كا تمغہ حاصل تھا 6 اور جانباز اسلام كھلاتے تھے7 ان افراد سے مقابلہ تھا جن كے درخشاں ماضي كو ديكھتے ھوئے پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تعريف و تمجيد كي تھي 8

ان افراد سے مقابلہ تھا جن كي پيشاني پر كثرت عبادت و شب زندہ داري كي وجہ سے نشان پڑ گئے تھے 9 ان افراد سے مقابلہ تھا جن كي رات گئے قرائت قرآن كي دلنشين آواز كا جادو كميل جيسي عظيم ھستي پر بھي اثر انداز ھوگيا تھا 10

حضرت علي عليہ السلام كا مقابلہ اس نوعيت كے دشمنوں سے تھا۔ ظاھر سي بات ھے ايسے دشمنوں سے معركہ آرائى، ان كے حقيقي چھرے كي شناسائي علوي نگاہ و بصيرت كا كام ھے، جيسا كہ خود آپ نے نھج البلاغہ ميں چند مقام پر اس كي تصريح بھي فرمائي ھے 11

اھم ترين زاويہ بصيرت ايسے دشمنوں كي شناخت ھے جسے قرآن كريم منافق كے نام سے ياد كرتا ھے۔

قرآن كريم ميں نفاق كے رخ كا تعارف كرانے كے سلسلے ميں كفر سے كھيں زيادہ اھتمام كيا گيا ھے، اس لئے كہ اسلامي معاشرہ كے لئے خطرات و نقصان كافروں سے كھيں زيادہ منافقوں سے ھے۔

خاص كر آج كے اسلامي و انقلابي معاشرہ كے لئے جس نے بحمد اللہ سر بلندي كے ساتھ اسلامي انقلاب كي چھبيس 26 بھاروں كا مشاھدہ كر چكا ھے اور اميد كي جاتي ھے كہ خدا كے فضل و كرم اور پيامبر عظيم الشان (ص) و اھل بيت اطھار عليہم السلام كي ارواح طيبہ كے تصدق ميں تمام مشكلات و زحمات كو حل كرتے ھوئے ديني حكومت و معاشرت كا ايك عالي ترين و كامياب ترين نمونہ و معيار ثابت ھوگا۔

آج بيروني دشمنوں كے ساتھ ساتھ اندروني دشمن (منافقين) تمام قدرت و طاقت كے ساتھ سعي لا حاصل ميں مصروف ھيں، كہ اسلامي معاشرے كو باور اور يقين كراديں كہ ديني حكومت و نظام ناكام ھے، تاكہ پوري دنيا كے وہ افراد جو قلباً اس انقلاب سے وابستہ ھيں ان كو نا اميد كرسكيں۔

اس سلسلہ ميں اپني تمام توانائي صرف كرچكے ھيں، جو كچھ قدرت و اختيار ميں تھا انجام دے چكے ھيں، اگر اب تك كسي كام كو انجام نھيں ديا ھے، اس كا مطلب يہ نھيں كہ انجام دينا نہ چاھتے ھوں بلكہ اس فعل كے عمل سے عاجز و ناتواں ھيں۔

عظيم الشان اسلامي انقلاب كي اوائل كاميابي سے ھي كفر كا متحد گروہ خالص محمدي (ص) اسلام كہ مقابل صف آرائي ميں مشغول ھے، اور اس گروہ كي عداوت ابھي تك جاري ھے۔

اس جماعت كا اسلامي انقلاب كے مقابلہ ميں صف آرا ھونے كا مطلب يہ نھيں كہ ان ميں اتحاد ھي اتحاد ھے، بلكہ يہ گروہ اختلاف و افتراق كا مركز ھے ليكن ان كا مشترك ھدف و مقصد اسلامي انقلاب سے مقابلہ كرنا ھے۔

احزاب كو اسلامي نظام سے ٹكرا دينا، بغير درك و فھم كے قتل و غارت گري كا بازار گرم كرنا، ايران كي مسلمان ملت پر جنگ مسلط كرنا، ان كے مشترك اھداف و مقاصد كے كچھ نمونہ ھيں۔

اسلامي انقلاب كے كينہ پرور دشمنوں كا آخري حربہ انقلاب كي اصالت و بنياد پر ثقافتي يورش كرنا ھے ليكن اب تك جس طريقہ سے ان كي سازشيں ناكام ھوتي رھي ھيں، خدا كے فضل و كرم سے يہ سازش بھي شرمندہ تعبير نہ ھوسكے گي۔

ان سازشوں كا ناكام بنانے كے سلسلہ ميں اھم ترين وسيلہ، نفاق و منافقين كي روش و طرزِ عمل كي شناخت ھے، خوش قسمتي سے قرآن مجيد اس سلسلہ ميں عميق، جامع، موزون مطالب و نكات كو پيش كر رھا ھے۔

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اميد كرتا ھوں كے يہ ناچيز كتاب، اسلامي معاشرہ كے ليے ديني بصيرت و بينائي كے اضافہ كا سبب بنے گى، اشاء اللہ

(بشر المنافقين بانّ لھم عذاب اليماً) 12 آپ ان منافقين كو درد ناك عذاب كي بشارت دے ديں۔

سيد احمد خاتمى - حوزہ علميہ، قم المقدسہ

1. سورہ شوريٰ/ 23۔ (قل لا اسئلكم عليہ اجراً الا المودۃ في القربي)

2. سورہ يوسف /108۔

3. سورہ بقرہ/ 256۔

4. سورہ نحل/ 36۔

5. سورہ يس/ 60۔

6. جناب زبير كے قتل كے بعد ان كي شمشير كو امام علي عليہ السلام كے پاس لايا گيا۔ امام نے فرمايا: "سيف طالما جلي الكرب عن وجہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم" يہ وہ شمشير ھے جس نے رسول خدا كے چھرہ سے ھزاروں غم كو دور كئے۔ (مروج الذھب۔ ج2۔ ص361۔ سفينۃ البحار كلمہ زبر) ۔

7. جناب طلحہ، اكثر معركے خصوصاً احد و خندق ميں پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ھم ركاب و ھم كار زار تھے جنگ احد ميں سر پر ضرب لگنے سے شديد زخمي و مجروح بھي ھوئے تھے۔

8. جنگ خندق كےوقت جب پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مشركوں كے حالات كي آگاھي كے لئے مجمع ميں اس بات كا اعلان كيا، قريش ميں سے كون ھے جو ان كي خبروں كو ھم تك پہنچائے جناب زبير كھڑے ھوئے اور اپني آمادگي كا اظھار كيا پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے يہ سوال تين مرتبہ تكرار كيا اور تينوں مرتبہ جناب زبير كھڑے ھوئے، آپ گئے اور مشركوں كے حالات كي آگاھي پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو دى، آپ نے ان كي فدا كاري كو ديكھتے ھوئے فرمايا: ھر نبي كے لئے ناصر و مددگار ھيں اور ميرے ناصر و مددگار زبير ھيں (اسد الغابہ، ج2، ص250) ۔

9. امام علي عليہ السلام نے ابن عباس كو خوارج كي نصيحت كے لئے بھيجا آپ نے واپس آنے كے بعد خوارج كو ان الفاظ ميں توصيف كى: "لھم جباۃ قرحۃ لطول السجود و ايد كثفنات الابل عليھم قمص مرخصۃ وھم مشمرون"، ان كي پيشانيوں پر كثرت عبادت سے گھٹے پڑے ھوئے ھيں حق كے لئے گرم و خشك زمين پر ھاتھ پير ركھنے كي بنا پر اونٹ كے پير كے مثل سخت ھوگئے ھيں، پھٹے پرانے كپڑے پہنتے ھيں ليكن قاطع و با ارادہ انسان ھيں۔

10. بحار الانوار ج33 ص399، سفينۃ البحار كلمہ (كمل) ۔

11. نھج البلاغہ، خطبہ/ 10/ 137/ 93۔

12. سورہ نساء / 138۔

فصل اوّل؛ نفاق كي اجمالي شناخت

1۔ نفاق شناسي كي ضرورت

2۔ نفاق كي لغوي و اصطلاحي معانى

3۔ اسلام ميں نفاق كے وجود آنے كي تاريخ

نفاق شناسي كي ضرورت

دشمن شناسي كي اھميت

صاحبان ايمان كے وظائف ميں سے ايك اھم وظيفہ خصوصاً اسلامي نظام و قانون ميں دشمن كي شناخت و معرفت ھے۔

اس ميں كوئي ترديد نھيں كہ اسلامي نظام كو برقرار ركھنے اور اس كے استحكام، پائداري كے لئے اندروني (داخلي) و بيروني (خارجي) دشمنوں نيز، ان كے حملہ ور وسائل كي شناخت لازم و ضروري ھے، دشمن اور ان كے مكر و فريب كو پہچانے بغير مبارزہ كا كوئي فائدہ نھيں، بعض اوقات دشمن كے سلسلہ ميں كافي بصيرت و ھوشياري نہ ھونے كے سبب، انسان دشمن سے رھائي حاصل كرنے كے بجائے دشمن ھي كي آغوش ميں پہنچ جاتا ھے۔

امام جعفر صادق عليہ السلام نے ھر اقدام سے پہلے بصيرت و ھوشياري كو بنيادي شرط بتايا ھے، آپ فرماتے ھيں:

((العامل علي غير بصيرۃ كالسائر علي غير الطريق، لا يزيدہ سرعۃ السير الا بعداً عن الطريق)) 13

بغير بصيرت و آگاھي كے عمل كو انجام دينے ولا ايسا ھي ھے جيسے راستہ كو بغير پہچانے ھوئے چلنے والا، كہ اس صورت ميں اصل ھدف و مقصد اور راہ سے دور ھوتا چلا جاتا ھے۔

اسي ضرورت كي بنا پر قرآن ميں پندرہ سو آيات سے زيادہ دشمن كي شناخت كے سلسلہ ميں نازل ھوئي ھيں، خدا وند عالم ان آيات ميں، مومنين اور نظام اسلامي كے مختلف دشمنوں كي (جن و انس ميں سے) نشاندھي كي ھے نيز ان كي دشمني كے انواع و اقسام حربے اور ان سے مقابلہ كرنے كے طور و طريقہ كو بتايا ھے، اور اس بات كي مزيد تاكيد كي ھے كہ مسلمان ان سے دور رھيں اور برائت اختيار كريں:

(يا ايھا الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم اولياء) 14

اے صاحبان ايمان اپنے اور ميرے دشمنوں كو دوست نہ بناؤ۔

آيات قرآن كي بنا پر مومنين كے دشمنوں كو بنيادي طور پر چار نوع و گروہ ميں تقسيم كيا جاسكتا ھے۔

نوع اوّل: شيطان اور اس كے اھل كار

(انّ الشيطان لكم عدو فاتخذوہ عدوا) 15

يقيناً شيطان تم سب كا دشمن ھے، تم بھي اسے دشمن بنائے ركھو۔

بعض قرآن كي آيات ميں، خداوند عالم نے انسان خصوصاً مومنين كے سلسلہ ميں شيطان كے آشكار كينے اور دشمني كو عدو مبين (آشكار دشمن) سے تعبير كيا ھے، اللہ انسان كو منحرف كرنے والے شيطان كے مكر و فريب، حيلے كو شمار كرتے ھوئے، مومنين سے چاھتا ھے كے وہ شيطان كے راستے پر نہ چليں۔

(يا ايھا الذين آمنوا لا تتبعوا خطوات الشيطان) 16

اے صاحبان ايمان شيطان كے قدم بہ قدم نہ چلو۔

نوع دوّم: كفار

قرآن كي نظر ميں مومنين كے دشمنوں ميں ايك دشمن كفار ھيں۔

(انّ الكافرين كانوا لكم عدوا مبينا) 17

كفار تمھارے آشكار و عياں دشمن ھيں۔

نوع سوم: بعض اھل كتاب

صاحبان ايمان و اسلام كے دشمنوں ميں بعض اھل كتاب خصوصاً يھودي دشمن ھيں، شھادت قرآن كے مطابق، صدر اسلام سے اب تك اسلام و مسلمان كے كينہ توز، عناد پسند دشمن يھودي رھے ھيں، قرآن ان سے دوستانہ روابط برقرار كرنے كو منع كرتا ھے۔

(لتجدنّ اشدّ الناس عداوة للذين آمنوا اليھود) 18

يقيناً آپ مومنين كے سلسلہ ميں شديد ترين دشمن يھود كو پائيں گے۔

نوع چھارم: منافقين

قرآن مجيد نے منافقين كے اصلي خدو خال اور خصوصيت نيز ان كي خطرناك حركتوں كو اجاگر كرنے كے سلسلہ ميں بھت زيادہ اھتمام اور بندوبست كيا ھے، تين سو سے زيادہ آيات ميں ان كے طرز عمل كو افشا كرتے ھوئے مقابلہ كرنے كي راہ اور طريقہ كو پيش كيا گيا ھے۔

يہ قرآني آيتيں جو تيرہ سوروں كے ذيل ميں بيان كي گئي ھيں بحث حاضر، قرآن ميں چھرۂ نفاق كا اصلي محور و موضوع ھيں۔

گرچہ اھل بيت اطھار عليہم السلام ارواحنا لھم الفداء كے زرين اقوال بھي روايات و احاديث كي شكل ميں تناسب مباحث كے اعتبار سے پيش كئے جائيں گے۔

قرآن ميں نفاق و منافقين

منافقين كي خصوصيت و صفات كي شناخت كے سلسلہ ميں، قرآن اكثر مقام پر جو تاكيد كر رھا ھے وہ تاكيد كفار كے سلسلہ ميں نظر نھيں آتى، اس كي وجہ يہ ھے كہ كفار علي الاعلان، مومنين كے مد مقابل ھيں، اور اپني عداوت خصوصيت كا اعلانيہ اظھار بھي كرتے ھيں، ليكن منافقين وہ دشمن ھيں جو دوستي كا لباس پھن كر اپني ھي صف ميں مستقر ھوتے ھيں، اور اس طريقہ سے وہ شديد ترين نقصان اسلام اور مسلمين پر وارد كرتے ھيں، منافقين كا مخفيانہ و شاطرانہ طرز عمل ايك طرف، ظواھر كي آراستگي دوسري طرف، اس بات كا موجب بنتي ھے كہ سب سے پہلے ان كي شناخت كے لئے خاص بينايي و بصيرت چاھئے، دوسرے ان كا خطرہ و خوف آشكار دشمن سے كھيں زيادہ ھوتا ھے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:

"كن للعدو المكاتم اشدّ حذر منك للعدو المبارز" 19

آشكار و ظاھر دشمن كي بہ نسبت باطن و مخفي دشمن سے بھت زيادہ ڈرو۔

آيت اللہ شھيد مطھرى، معاشرہ ميں نفاق كے شديد خطرے نيز نفاق شناسي كي اھميت كے سلسلہ ميں لكھتے ھيں۔

ميں نھيں سمجھتا كہ كوئي نفاق كے خطرے اور نقصان جو كفر كے خطرے اور ضرر سے كھيں زيادہ شديد تر ھے، ترديد كا شكار ھو، اس لئے كہ نفاق ايك قسم كا كفر ھي ھے، جو حجاب كے اندر ھے جب تك حجاب كي چلمن اٹھے اور اس كا مكروہ و زشت چھرہ عياں ھو، تب تك نہ جانے كتنے لوگ دھوكے و فريب كے شكار اور گمراہ ھوچكے ھوں گے، كيوں مولائے كائنات امير المومنين علي عليہ السلام كي پيش قدمي كي حالت، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے فرق ركھتي ھے، ھم شيعوں كے عقيدہ كے مطابق امير المومنين علي عليہ السلام كا طريقۂ كار، رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے جدا نھيں ھے، كيوں پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي پيش قدمي اتني سريع ھے كہ ايك كے بعد ايك دشمن شكست سے دوچار ھوتے جارھے ھيں، ليكن جب مولائے كائنات امير المومنين علي عليہ السلام دشمنوں كے مد مقابل آتے ھيں، تو بھت ھي فشار و مشكلات ميں گرفتار ھوجاتے ھيں، ان كو رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم جيسي پيش رفت حاصل نھيں ھوتى، صرف يہي نھيں بلكہ بعض مواقع پر آپ كو دشمنوں سے شكست كا بھي سامنا كرنا پڑتا ھے، ايسا كيوں ھے؟!

صرف اس لئے كہ پيامبر عظيم الشان كا مقابلہ كافروں سے تھا اور امير المومنين عليہ السلام كا مقابلہ منافقين گروہ سے تھا20

سورۂ توبہ كي آيت نمبر 101 سے استفادہ ھوتا ھے كہ كبھي چھرۂ نفاق اس قدر غازۂ ايمان سے آراستہ ھوتا ھے كہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے لئے بھي عادي علم كے ذريعہ اس كي شناخت مشكل ھوجاتي ھے، اللہ ھے جو وحي كے وسليہ سے اس جماعت كا تعارف كراتا ھے۔

(وممّن حولكم من الاعراب منافقون و من اھل المدينۃ مردوا علي النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم سنعذّبھم مرّتين يردّون الي عذاب عظيم) 21

اور تمھارے گرد ديھاتيوں ميں بھي منافقين ھيں اور اھل مدينہ ميں تو وہ بھي ھيں جو نفاق ميں ماھر اور سركش ھيں تم ان كو نھيں جانتے ھو ليكن ھم خوب جانتے ھيں ھم عنقريب ان پر دھرا عذاب كريں گے اس كے بعد وہ عذاب عظيم كي طرف پلٹادئے جائيں گے۔

مولائے كائنات امير المومنين حضرت علي عليہ السلام، اسلامي معاشرہ ميں نفاق كے آفات و خطرات كا اظھار كرتے ھوئے نھج البلاغہ ميں فرماتے ھيں:

((ولقد قال لي رسول اللہ: اني لا اخاف علي امتي مومنا ولا مشركا امّا المؤمن فيمنعہ اللہ بايمانہ و امّا المشرك فيقمعہ اللہ بشركہ ولكني اخاف عليكم كل منافق الجنان، عالم اللسان يقول ما تعرفون و يفعل ما تنكرون)) 22

رسول اكرم حضرت محمد مصطفيٰ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمايا ھے: ميں اپني امت كے سلسلہ ميں نہ كسي مومن سے خوف زدہ ھوں اور نہ مشرك سے، مومن كو اللہ اس كے ايمان كي بنا پر برائي سے روك دے گا اور مشرك كو اس كے شرك كي بنا پر مغلوب كر دے گا، سارا خطرہ ان لوگوں سے ھے جو زبان كے عالم اور دل كے منافق ھيں كھتے وھي ھيں، جو تم سب پہچانتے ھو اور كرتے وہ ھيں جسے تم برا سمجھتے ھو۔

اسي نفاق كے خدو خال كي پيچيدگي كي بنا پر حضرت علي عليہ السلام كي زمام داري كي پانچ سال كي مدت ميں دشمنوں سے جنگ كي مشكلات كھيں زيادہ پيامبر اسلام صلي اللہ عليہ آلہ وسلم كي مشكلات و زحمات سے تھيں۔

پيامبر عظيم الشان ان افراد سے بر سر پيكار تھے جن كا نعرہ تھا بت زندہ باد ليكن امير المومنين حضرت علي عليہ السلام ان افراد سے مشغول مبارزہ و جنگ تھے جن كي پيشانيوں پر كثرت سجدہ كي بنا پر نشان پڑے ھوئے تھے۔

حضرت علي عليہ السلام ان افراد سے جنگ و جدال كر رھے تھے جن كي رات گئے تلاوت قرآن كي صداء دلسوز حضرت كميل جيسي فرد پر بھي اثر انداز ھوگئي تھى23

آپ كا مقابلہ ايسے صاحبان اجتھاد سے تھا جو قرآن سے استنباط كرتے ھوئے آپ سے لڑ رھے تھے24

وہ افراد جو راہ خدا ميں معركہ و جھاد كے اعتبار سے درخشاں ماضي ركھتے تھے يھاں تك كہ بعض كو تمغہ جانبازي و فدا كاري بھي حاصل تھا، ليكن دنيا پرستي نے ان صاحبان صفات و كردار كو حق كے مقابل لاكھڑا كيا۔

پيامبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے زبير كو (سابقہ، فداكاري و معركہ آرائي ديكھتے ھوئے) سيف الاسلام كے لقب سے نوازا تھا اور طلحہ جنگ احد كے جانباز و دلير تھے، ايسے رونما ھونے والے حالات و حادثات كا مقابلہ كرنا علوي بصيرت ھي كا كام ھے۔

قابل توجہ يہ ھے كہ مولائے كائنات نے نھج البلاغہ ميں ايسے افراد سے جنگ كرنے كي بصيرت و بينائي پر افتخار كرتے ھوئے فرماتے ھيں ميرے علاوہ كسي بھي فرد كے اندر يہ صلاحيت نہ تھي جو ان سے مقابلہ و مبارزہ كرتا۔

((ايھا الناس اني فقات عين الفتنۃ ولم يكن ليجتري عليھا احد غيري)) 25

لوگو! ياد ركھو ميں نے فتنہ كي آنكھ كو پھوڑ ديا ھے اور يہ كام ميرے علاوہ كوئي دوسرا انجام نھيں دے سكتا ھے۔

قرآن مجيد حكم دے رھا ھے كے اپنے آشكار و مخفي دشمنوں كو خوفزدہ كرنے كے لئے پوري طاقت سے مستعدر ھو اور طاقت حاصل كرو تاكہ تمھاري قدرت و اقتداران كي خلاف ورزي روكنے كا ذريعہ ھوجائے۔

(واعدّوا لھم ما استتطعتم من قوۃ و من رباط الخيل ترھبون بہ عدّو اللہ و عدوكم آخرين من دونھم لا تعلمونھم اللہ يعلمھم) 26

اور تم سب ان كے مقابلہ كے لئے امكاني قوت اور گھوڑوں كي صف بندي كا انتظام كرو جس سے اللہ كے دشمن اپنے دشمن اور ان كے علاوہ جن كو تم نھيں جانتے ھو اور اللہ جانتا ھے (منافقين) سب كو خوفزدہ كردو۔

اس آيت سے استفادہ ھوتا ھے كہ اسلامي نظام ميں طاقت و قدرت كا حصول تجاوز و قانون كي خلاف ورزي روكنے كا وسيلہ ھے نہ تجاوز گري كا ذريعہ۔

منافقين ان افراد ميں سے ھيں جو ھميشہ اسلامي نظام و سر زمين پر تعرض و تجاوز كا خيال ركھتے ھيں لھذا نظامي و انتظامي اعتبار سے آمادگي اور معاشرہ كا صاحب بصارت و دانائي ھونا سبب ھوگا كہ وہ اپنے خيال خام سے باز رھيں، اس نكتہ كا بيان بھي ضروري ھے كہ قوت و قدرت كا حصول (آمادگي) صرف جنگ و معركہ آرائي پر منحصر نہ ھو اگر چہ جنگ ورزم ميں مستعد ھونا، اس كے ايك روشن و واضح مصاديق ميں سے ھے، ليكن دشمن كي خصوصيت، اس كے حملہ آور وسائل كي شناخت و پھچان كے لئے بصيرت كا وجود، حصول قدرت و اقتدار كے اركان ميں سے ھے۔

جب كہ منافقين كا شمار خطرناك ترين دشمنوں مں ھوتا ھے لھذا، نفاق اور اس كي خصوصيت و صفات كي شناخت ان چند ضرورتوں ميں سے ايك ھے جسے عالم اسلام ھميشہ قابل توجہ قرار دے۔

اس لئے كہ ممكن ھے ھزار چھرے والے دشمن (منافق) سے غفلت ورزى، شايد اسلامي نظام و مسلمانوں كے لئے ايسي كاري ضرب ثابت ھو جو التيام و بھبود كے قابل ھي نہ ھو۔

نفاق كے لغوي و اصطلاحي معانى

لفظ نفاق كا ريشہ اور اس كے اصل

لفظ نفاق كے معنى، كفر كو پوشيدہ، اور ايمان كا ظاھر كرنا ھے، نفاق كا استعمال اس معني ميں پہلي مرتبہ قرآن ميں ھوا ھے، عرب ميں اسلام سے قبل اس معني كا استعمال نھيں تھا، ابن اثير تحرير كرتے ھيں:

((وھو اسم لم يعرفہ العرب بالمعني المخصوص وھو الذي يستر كفرہ و يظھرہ ايمانہ)) 27

لفظ نفاق كا اس خاص معني ميں استعمال لغت كے اعتبار سے چار احتمال ھوسكتا ھے:

پہلا احتمال: يہ ھے كہ نفاق بمعني اذھاب و اھلاك كے ھيں، جيسے (نفقت الدّابۃ) كہ حيوان كے برباد و ھلاك ھوجانے كے معني ميں ھے۔

نفاق كا اس معني سے تناسب يہ ھے كہ منافق اپنے نفاق كي بنا پر اس ميت كے مثل ھے جو برباد و تباہ ھوجاتي ھے۔

دوسرا احتمال: نفاق ذيل عبارت سے اخذ كيا گيا ھے:

((نفقت لسلعۃ اذا راجت و كثرت طلابھا))

وہ سامان جو بھت زيادہ رائج ھو اور اس كے طلب گار بھي زيادہ ھوں تو يہاں پر لفظ "نفق" كا استعمال ھوتا ھے، اس بنا پر اھل لغت كا اصطلاحي مفھوم سے مرتبط ھوتے ھوئے، نفاق يہ ھے كہ منافق ظاھر ميں اسلام كو رواج ديتا ھے، كيوں كہ اسلام كے طلب گار زيادہ ھوتے ھيں۔

تيسرا احتمال: نفاق، زمين دوز راستہ كے معني ميں استعمال ھوا ھے۔

((النفق سرب في الارض لہ مخلص الي المكان))

اس اصل كے مطابق منافق ان افراد كے مثل ھے جو خطرات كي بنا پر زمين دوز راستہ (سرنگ) ميں مخفي ھوجائے، يعني منافق بھي اسلام كے لباس كو زيب تن كركے خود كو محفوظ كرليتا ھے اگر چہ مسلمان نھيں ھوتا ھے۔

چوتھا احتمال: نفاق كا ريشہ "نافقاء" ھے، صحرائي چوھے اپنے گھر كے لئے دو راستہ بناتے ھيں ايك ظاھر و آشكار راستہ، اس كا نام "قاصعاء" ھے، دوسرا مخفي و پوشيدہ راستہ، اس كا نام "نافقاء" ھے، جب صحرائي چوھا خطرہ كا احساس كرتا ھے تو، قاصعاء سے داخل ھوكر نافقاء سے فرار كرتا ھے۔

اس احتمال كي بنا پر، منافق ھميشہ خروج كے لئے دو راستہ اپناتا ھے، ايمان پر كبھي بھي ثابت قدم نھيں رھتا اگر چہ اس كا حقيقي راستہ كفر ھے ليكن اسلام كا ظاھر كر كے اپنے كو خطرے سے بچا ليتا ھے۔

ابتدا ميں دو احتمال يعنى، نفاق بمعني ھلاك ھونے اور ترويج پانے كے سلسلے ميں علماء لغت كي طرف سے كوئي تائيد نھيں ملتي ھے، لھذا ان معاني سے اعراض كرنا چاھئے، ليكن تيسرے اور چوتھے احتمال ميں سے كون سا احتمال اساسي و بنيادي ھے اس كے لئے مزيد بحث و مباحثہ كي ضرورت ھے۔

تمام مجموعي احتمالات سے ايك نكتہ ضرور سامنے آتا ھے، وہ يہ كہ نفاق كے معاني ميں دو عنصر قطعاً موجود ھے، 1: عنصر دورخى، 2:عنصر پوشيدہ كارى

اس بنا پر نفاق كے معاني ميں دو رخي و پوشيدہ كاري كا بھي اضافہ كردينا چاھئے، منافق وہ ھے جو دو روئي كا حامل ھوتا ھے، اور اپني صفت كو پوشيدہ بھي ركھتا ھے۔

قرآن و احاديث ميں نفاق كے معانى

روايات و قرآن ميں نفاق دو معاني اور دو عنوان سے استعمال ھوا ھے:

1۔ اعتقادي نفاق

قرآن و حديث ميں نفاق كا پہلا عنوان اسلام كا ظاھر كرنا، اور باطن ميں كافر ھونا، اس نفاق كو اعتقادي نفاق سے تعبير كيا جاتا ھے۔

قرآن ميں جس مقام پر بھي نفاق كا لفظ استعمال ھوا ھے يہي معني منظور نظر ھے، يعني كسي فرد كا ظاھر ميں اسلام كا دم بھرنا، ليكن باطن ميں كفر كا شيدائي ھونا۔

سورہ منافق كي پہلي آيت اسي معني كو بيان كر رھي ھے۔

(اذا جاءك المنافقون قالوا نشھد انك لرسول اللہ واللہ يعلم انك لرسولہ واللہ يشھد ان المنافقون لكاذبون)

پيغمبر! يہ منافقين آپ كے پاس آتے ھيں، تو كھتے ھيں كہ ھم گواھي ديتے ھيں كہ آپ اللہ كے رسول ھيں، اور اللہ بھي جانتا ھے كہ آپ اس كے رسول ھيں ليكن اللہ گواھي ديتا ھے كے يہ منافقين اپنے قول ميں جھوٹے ھيں۔

سورہ نساء ميں منافقين كي باطني وضعيت اس طريقہ سے بيان كي گئي ھے۔

(و دّو لو تكفرون كما كفروا فتكونون سواء) 28

يہ منافقين چاھتے ھيں كہ تم بھي ان كي طرح كافر ھوجاؤ اور سب برابر ھوجائيں۔

اس بنياد پر امكان ھے كہ مسلمانوں ميں بعض افراد ايسے ھوں جو اسلام كا اظھار كرتے ھوں اور باطن ميں دين اور اس كي حقانيت پر اعتقاد نہ ركھتے ھوں۔

ليكن ان كے اس فعل كا محرك كيا ھے؟ اس كا ذكر تاريخ نفاق كي فصل ميں بيان ھوگا، اس نوعيت كے افراد كا فعل نفاق ھے اور ان كو منافق كھا جاتا ھے۔

يقيناً بعض افراد كا اسلام، جو فتح مكہ كے وقت مسلمان ھوئے تھے اسي زمرہ ميں آتا ھے، مثال كے طور پر ابوسفيان كا اسلام، پيامبر عظيم الشان كے بعد كے واقعات، خصوصاً عثمان كے دورہ خلافت ميں ظاھر ھوجاتا ھے كہ، ان كا اسلام چال بازي اور مكاري سے لبريز تھا، آھستہ آھستہ خلافتي ڈھانچے ميں اثر و رسوخ بڑھاتے ھوئے اسلام كے پردے ميں كفر ھي كي پيروي كرتے تھے، يھاں تك كہ عثمان كے عصر خلافت ميں ابوسفيان، سيد الشھدا حضرت حمزہ كي قبر كے پاس آكر كھتا ھے، اے حمزہ! كل جس اسلام كے لئے تم جنگ كر رھے تھے، آج وہ اسلام گيند كے مثل ميري اولاد ميں دست بدست ھو رھا ھے29

ابوسفيان، خلافت عثمان كے ابتدائي ايام ميں خاندان بني اميہ كے اجتماع ميں اپنے نفاق كا اظھار يوں كرتا ھے، خاندان تميم وعدي (ابوبكر و عمر كے بعد) خلافت تم كو نصيب ھوئي اس سے گيند كي طرح كھيلتے رھو اور اس گيند (خلافت) كے لئے قدم، بني اميہ سے انتخاب كرو، يہ خلافت صرف سلطنت و بشر كي سرداري ھے اور جان لو كہ ميں ھر گز جنت و جھنم پر ايمان نھيں ركھتا ھوں 30

جس وقت ابوبكر نے امور خلافت كو اپنے ھاتھ ميں ليا ابوسفيان چاھتا تھا كہ مسلمانوں كے درميان اختلاف و تفرقہ پيدا ھوجائے اور اسي غرض كے تحت مولائے كائنات علي ابن ابي طالب عليہ السلام سے حمايت و مساعدت كي پيشكش كرتا ھے ليكن حضرت علي عليہ السلام اس كو اچھے طريقہ سے پہچانتے تھے، پيشكش كو ٹھكراتے ھوئے فرمايا: تم اور حق كے طرفدار؟! تم تو روز اوّل ھي سے اسلام و مسلمان كے دشمن تھے آپ نے اس كي منافقانہ بيعت كے دراز شدہ دست كو رد كرتے ھوئے چھرہ كو موڑ ليا31

بھر حال اس ميں كوئي شك نھيں كہ ابوسفيان ان افراد ميں سے تھا جن كے جسم و روح، اسلام سے بيگانے تھے اور صرف اسلام كا اظھار كرتا تھا۔

2۔ اخلاقي نفاق

نفاق كا دوسرا عنوان اور معني جو بعض روايات ميں استعمال ھوا ھے اخلاقي نفاق ھے، يعني دينداري كا نعرہ بلند كرنا، ليكن دين كے قانون پر عمل نہ كرنا، اس كو اخلاقي نفاق سے تعبير كيا گيا ھے32

البتہ اخلاقي نفاق كبھي فردى اور كبھي اجتماعي پہلوؤں ميں رونما ھوتا ھے، وہ فرد جو اسلام كے فردى احكام و قوانين اور اس كي حيثيت كو پامال كر رھا ھو وہ فردى اخلاقي نفاق ميں مبتلا ھے اور وہ شخص جو معاشرے كے حقوق و اجتماعي احكام كو جيسا كہ اسلام نے حكم ديا ھے نہ بجالاتا ھو تو، وہ نفاق اخلاق اجتماعي سے دوچار ھے۔

فردى، نفاق اخلاق كي چند قسميں، ائمہ حضرات كي احاديث كے ذريعہ پيش كي جارھي ھيں، حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:

((اظھر الناس نفاقاً من امر با لطاعۃ ولم يعمل بھا ونھي عن المعصيۃ ولم ينتہ عنھا)) 33 كسي فرد كا سب سے واضح و نماياں نفاق يہ ھے كہ اطاعت (خداوند متعال) كا حكم دے ليكن خود مطيع و فرمان بردار نہ ھو، گناہ و عصيان كو منع كرتا ھے ليكن خود كو اس سے باز نھيں ركھتا۔

حضرت امام صادق عليہ السلام مرسل اعظم سے نقل كرتے ھوئے فرماتے ھيں:

((ما زاد خشوع الجسد علي ما في القلب فھو عندنا نفاق)) 34

جب كبھي جسم (ظاھر) كا خشوع، خشوع قلب (باطن) سے زيادہ ھو تو ايسي حالت ھمارے نزديك نفاق ھے۔

حضرت امام زين العابدين عليہ السلام اخلاقي نفاق كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں:

((ان المنافق ينھي ولا ينتھي و يامر بما لا ياتي …… يمسي وھمہ العشا وھو مفطر و يصبح وھمہ النوم ولم يسھر)) 35

يقيناً منافق وہ شخص ھے جو لوگوں كو منع كرتا ھے ليكن خود اس كام سے پرھيز نھيں كرتا ھے، اور ايسے كام كا حكم ديتا ھے جس كو خود انجام نھيں ديتا، اور جب شب ھوتي ھے تو سواء شام كے كھانے كے اسے كسي چيز كي فكر نھيں ھوتي حالانكہ وہ روزہ سے بھي نھيں ھوتا، اور جب صبح كو بيدار ھوتا ھے تو سونے كي فكر ميں رھتا ھے، حالانكہ شب بيداري بھي نھيں كرتا (يعني ھدف و مقصد صرف خواب و خوراك ھے) ۔

ذكر شدہ روايات اور اس كے علاوہ ديگر احاديث جو ان مضامين پر دلالت كرتي ھيں ان كي روشني ميں بے عمل عالم اور ريا كار شخص كا شمار انھيں لوگوں ميں سے ھے جو فردى اخلاقي نفاق سے دوچار ھوتے ھيں۔

نفاق اخلاقي اجتماعي كے سلسلہ ميں معصومين عليہ السلام سے بھت سي احاديث صادر ھوئي ھيں، چند عدد پيش كي جارھي ھيں۔

امام صادق عليہ السلام فرماتے ھيں:

((ان المنافق…… ان حدثك كذبك و ان ائتمنہ خانك وان غبت اغتابك وان وعدك اخلفك)) 36

منافق جب تم سے گفتگو كرے تو جھوٹ بولتا ھے، اگر اس كے پاس امانت ركھو تو خيانت كرتا ھے، اگر اس كي نظروں سے اوجھل رھو تو غيبت كرتا ھے، اگر تم سے وعدہ كرے تو وفا نھيں كرتا ھے۔

پيامبر عظيم الشان (ص) نفاق اخلاقي كے صفات كو بيان كرتے ھوئے فرماتے ھيں:

((اربع من كن فيہ فھو منافق وان كانت فيہ واحدة منھن كانت فيہ خصلۃ من النفاق من اذا حدّث كذب واذا وعد اخلف واذا عاھد غدر واذا خاصم فجر)) 37

چار چيزيں ايسي ھيں كہ اگر ان ميں سے ايك بھي كسي ميں پائي جائيں تو وہ منافق ھے، جب گفتگو كرے تو جھوٹ بولے، وعدہ كرے تو پورا نہ كرے، اگر عھد و پيمان كرے تو اس پر عمل نہ كرے، جب پيروز و كامياب ھوجائے تو برے اعمال كے ارتكاب سے پرھيز نہ كرے۔

امير المومنين حضرت علي عليہ السلام فرماتے ھيں:

((كثرة الوفاق نفاق)) 38

كسي شخصي كا زيادہ ھي وفاقي اور سازگاري مزاج و طبيعت كا ھونا يہ اس كے نفاق كي علامت ھے۔

ظاھر سي بات ھے كہ صاحب ايمان ھميشہ حق كا طرف دار ھوتا ھے اور حق كا مزاج ركھنے والا كبھي بھي سب سے خاص كر ان لوگوں سے جو باطل پرست ھيں سازگار و ھمراہ نھيں ھوتا، دوسرے الفاظ ميں يوں كھا جائے، صاحب ايمان ابن الوقت نھيں ھوتا۔

نفاق اجتماعي كا آشكار ترين نمونہ اجتماعي زندگي و معاشرے ميں دور روئي اور دو زبان كا ھونا ھے، يعني انسان كا كسي كے حضور ميں تعريف و تمجيد كرنا ليكن پس پشت مذمت و برائي كرنا۔

صاف و شفاف گفتگو، حق و صداقت كي پرستارى، صاحب ايمان كے صفات ميں سے ھيں، صرف چند ايسے خاص مواقع ميں جھاں اھم حكمت اس بات كا اقتضا كرتي ھے جيسے جنگ اور اس كے اسرار كي حفاظت، افراد اور جماعت ميں صلح و مصالحت كي خاطر صدق گوئي سے اعراض كيا جاسكتا ھے39

پيامبر اكرم حضرت محمد مصطفے صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس نوعيت كے نفاق كے انجام و نتيجہ كے سلسلہ ميں فرماتے ھيں:

((من كان لہ وجھان في الدنيا كان لہ لسانان من نار يوم القيامۃ)) 40

جو شخص بھي دنيا ميں دو چھرے والا ھوگا، آخرت ميں اسے دو آتشي زبان دي جائے گي۔

امام حضرت محمد باقر عليہ السلام بھي اخلاقي نفاق كے خدو خال كي مذمت كرتے ھوئے فرماتے ھيں:

((بئس العبد يكون ذاوجھين و ذالسانين يطري اخاہ شاھداً و يأكلہ غائباً ان اعطي حسدہ وان ابتلي خذلہ)) 41

index next