index next

فلسفۂ انتظار

مؤلف : آیۃ اللہ ناصر مكارم شیرازی
مترجم : احمد علی عابدی

پیش لفظ

خداوند عالم نے جب انسان كو پیدا كیا تو اس كی مرضی یہ تھی كہ انسان ھدایت كی شاھراہ پر گامزن اور ضلالت و گمراھی كے راستوں سے دور رھے۔ اسی بنا پر خداوند عالم نے اس روئے زمین پر سب سے پہلے جس انسان كو بھیجا اس كو "رھبر" بنا كر بھیجا۔ تاكہ بعد میں آنے والے رھبر كی تلاش میں سرگرداں نہ رھیں۔

رھبر كے ساتھ ساتھ خداوند عالم نے ایك ایسا جامع نظام حیات بھی بھیجا جس كے تمام قانون فطرت كی بنیاد پر بنائے گئے ھیں، تاكہ قوانین پر عمل كرنے میں كوئی دشواری پیش نہ آئے۔ یہ قوانین فطرت كے سانچے میں اس لئے ڈھالے گئے كہ ان پر عمل كرنے كے لئے بس ضمیر كی آواز كافی ھو اور رھبروں كی ذمہ داری توجہ دلانا ھو ۔۔ اس حقیقت كی طرف مولائے كائنات (ع) نے نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا ھے: ۔۔

انبیاء اس لئے مبعوث كیے گئے تاكہ وجود انسانی میں عقل كے پوشیدہ خزانوں كو سامنے لاسكیں"۔

جس وقت سے زمین آباد ھوئی ھے اس وقت سے آج تك كبھی ایسا نہیں ھوا كہ پوری زمین پر اللہ كی حكمرانی ھو، اور بس اسی كا قانون چل رھا ھو۔ ھاں جناب سلیمان علیہ السلام كے زمانے میں ضرور كچھ دن دنیا پر اللہ كے قوانین كی حكومت تھی۔ كچھ دن اس مدّت كے مقابلہ میں لكھا گیا جب الٰہی احكام كا نفاذ نہیں تھا۔

ایك طرف ھم یہ دیكھ رھے ھیں كہ شیطان كی مسلسل كوشش یہ ھے كہ الٰہی احكام نافذ نہ ھونے پائیں۔ ھدایت كی شاھراہ كے بجائے انسان ضلالت كی وادیوں میں ھاتھ پیر مارتا رھے اور اسی حالت میں جان دے دے۔

ھم یہ دیكھتے ھیں كہ گمراہ كرنے كا جو منصوبہ شیطان نے بنایا تھا وہ اس میں كافی حد تك كامیاب رھا اور آج تك الٰہی احكام ساری دنیا پر نافذ نہ ھوسكے۔

ایك مدت كے بعد خدا كے مخلص بندوں نے ایران سے شیطانی حكومت كو اكھاڑ پھینكا اور الٰہی احكام نافذ كئے۔ مگر شیطان نے اس حكومت كے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈہ كیا كہ نزدیك كے ممالك بھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ھوسكے اور اندیشہائے دور و دراز میں مبتلا نظر آتے ھیں۔

ہاں ایك سوال یہ ھوسكتا ھے كہ كیا تك یہی صورت حال رھے گی۔ ساری دنیا پر اللہ كے احكام نافذ نہ ھوپائیں گے، اور شیطان كی عمل داری قائم رھے گی؟۔

اگر اس سوال كا جواب مثبت ھے تو اس كا مطلب یہ نكلے گا كہ الٰہی احكام میں اس كی لیاقت ھی نہیں كہ ساری دنیا پر ان كا نفاذ ھوسكے۔

وہ لوگ جو عقیدۂ مہدویت كے قائل نہیں ھیں ان كے پاس گذشتہ سوال كا جواب ھی نہیں۔

البتہ وہ افراد جو عقیدۂ مہدویت كو دل سے لگائے ھوئے ھیں، یقین كامل سے یہ بات كہتے ھیں كہ شیطان كی ساری ریشہ دوانیاں پس چند روزہ ھیں، باطل كی چمك دمك وقتی ھے۔

ایك دن یقیناً ایسا آئے گا جب اللہ كی آخری حجت كا ظھور ھوگا۔ روئے زمین پر صرف اللہ كے احكام نافذ ھوں گے۔ فطرت سے منحرف انسان اپنی فطرت كی طرف واپس آجائے گا، انسان كا ضمیر اتنا زیادہ بیدار ھوجائے گا كہ وہ انسان كو انحراف سے باز ركھے گا۔

حضرت ولی عصر (عج) كے سلسلے میں اس مختصر كتاب میں جامع معلومات فراھم كی گئی ھیں۔

اس كے پہلے ایڈیشن میں صرف "انتظار" كا فلسفہ بیان كیا گیا تھا۔ لیكن اس جدید ایڈیشن میں كئی نئے مباحث كا اضافہ كیا گیا ھے۔

انتظار" بھی استاد بزرگوار آیۃ اللہ مكارم شیرازی مدظلہ كے قلم كی تخلیق تھا اور جن نئے مباحث كا اضافہ كیا گیا ھے وہ بھی استاد بزرگوار كی گراں مایہ تصنیف "مھدی انقلابی بزرگ" سے اقتباس كیے گئے ھیں۔

نام: محمد

كنیت: ابو القاسم

القاب: مھدی، صاحب الزمان، قائم، منتظر، ولی عصر، بقیۃ اللہ…

والد بزرگوار: حضرت امام حسن عسكری علیہ السلام

والدۂ ماجدہ: جناب نرجس خاتون

تاریخ ولادت: 15/ شعبان، 255 ھجری

جائے ولادت: سامراء (عراق)

غیبت صغریٰ: 260 ھجری

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام كے نائبین:

(1) ابو عمر عثمان بن سعید العمری (ربیع الاول 260 - شعبان 265)

(2) ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید العمری _شعبان 265 - جمادی الاولیٰ 305)

(3) ابو القاسم حسین بن روح النوبختی (جمادی الاولیٰ 305 - شعبان 326)

(4) ابوالحسن علی بن محمد السمری (شعبان 326 - شعبان 329)

329 ھجری كے بعد غیبت صغریٰ تمام ھوگئی۔

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام عام نگاھوں سے پوشیدہ تھے۔ مگر ان نائبین كے ذریعہ امام تك رسائی ممكن تھی۔ یہ نائبین لوگوں كے مسائل امام كی خدمت میں پیش كرتے تھے اور امام جواب مرحمت فرمادیتے تھے۔ ایك نائب كے انتقال كے بعد دوسرے نائب كا تعین فرمادیتے تھے۔ لیكن ابوالحسن السمری كے انتقال سے چند دن پہلے آپ نے توقیع میں تحریر فرمایا كہ:

اسی ھفتہ تمھارا انتقال ھوجائے گا، تم كسی كو نائب معین نہ كرنا۔۔۔۔۔

غیبتِ كبریٰ شروع ھونے والی ھے، خدا كے حكم سے ظھور ھوگا۔ اس دوران جو میری ملاقات كا دعویٰ كرے وہ جھوٹا ھے۔"

غیبت صغریٰ كے بعد نیابت خاصہ كا دور ختم ھوگیا۔ غیبت كبریٰ میں نیابت عامہ كا آغاز ھوا۔ غیبت كبریٰ میں امام نے دین كے تحفظ كی ذمہ داری كسی خاص فرد پر نہیں بلكہ عادل فقہاء پر عائد فرمائی ھے۔

ایك توقیع میں امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

جدید مسائل كے بارے میں ھماری احادیث كے راوی (فقہاء) كی طرف رجوع كرو، كیونكہ یہ میری طرف سے تم لوگوں پر حجت ھیں اور میں خدا كی طرف سے ان پر حجت ھوں، ان كی بات كو رد كرنا میری بات كا رد كرنا ھے۔"

گذشتہ انبیاء علیہم السلام كی شریعتیں اس لئے تحریف كا شكار ھوگئیں كہ اس وقت ایسے امین فقہاء نہ تھے ۔۔۔ لائق صد آفریں ھیں وہ فقہاء جنھوں نے دین كو تحریف سے محفوظ ركھا اور ھم تك دین پہونچایا ۔۔ اور اس اسلام دشمن دور میں اسلام كا پرچم بلند كیے ھوئے ھیں۔ سلام ھو ان فقہاء پر۔

جس دن ان كی ولادت ھوئی، جس دن ان كی وفات ھوئی اور جس دن وہ محشور كیے جائیں گے۔

آئیے حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ كے اقوال پر ایك نظر ڈالیں، اور ان پر عمل كرنے كی كوشش كریں۔

میرا وجود غیبت میں بھی لوگوں كے لیے ایسا ھی مفید ھے جیسے آفتاب بادلوں كی اوٹ سے۔

میں زمین كو عدل و انصاف سے اس طرح بھردوں گا جس طرح وہ ظلم و جود سے بھر گئی ھے۔

ظھور میں تعجیل كے لئے دعا مانگو كیونكہ اسی میں تمھاری بھلائی ھے۔

جو لوگ ھمارے اموال كو مشتبہ اور مخلوط كیے ھوئے ھیں، جو كوئی بھی اس میں سے ذرہ برابر بلا استحقاق كھائے گا گویا اس نے اپنا شكم آگ سے پر كیا۔

میں اھل زمین كے لئے اس طرح باعثِ امان ھوں جس طرح ستارے اھل آسمان كے لئے۔

ھمارا علم تمھارے سارے حالات پر محیط ھے اور تمھاری كوئی چیز ھم سے پوشیدہ نہیں ھے۔

ھم تمھاری خبر گیری سے غافل نہیں ھیں اور نہ تمھاری یاد اپنےدل سے نكال سكتے ھیں۔

ھر وہ كام كرو جو تمھیں ھم سے نزدیك كردے اور ھر اس عمل سے پرھیز كرو جو ھمارے لئے بار خاطر اور ناراضگی كا سبب ھو۔

تم میں كوئی تقویٰ اختیار كرے گا اور مستحق تك اس كا حق پہونچائے گا وہ آنے والی آفتوں سے محفوظ رھے گا۔

اگر ھمارے چاھنے والے اپنے عہد و پیمان كی وفا كرتے تو ھماری ملاقات میں تاخیر نہ ھوتی۔ اور ھماری زیارت انھیں جلد نصیب ھوتی۔

ھمیں تم سے كوئی چیز دور نہیں كرتی مگر وہ جو ھمیں ناگوار اور ناپسند ھیں۔

نماز شیطان كو رسوا كردیتی ھے، نماز پڑھو اور شیطان كو رُسوا كرو۔

تعجب ھے ان لوگوں كی نماز كیسے قبول ھوتی ھے جو سورہ انّا انرلناہ كی تلاوت نہیں كرتے۔

ملعون ھے ملعون وہ شخص جو نماز مغرب میں اتنی تاخیر كرے كہ تارے خوب كھل جائیں۔

اور ملعون ھے، ملعون ھے وہ شخص جو نماز صبح میں اتنی تاخیر كرے جب كہ تمام ستارے غائب ھوجائیں۔

بطورِ ابتداء

آج دانش ور حضرات یہ كہتے ھوئے نظر آرھے ھیں كہ اگر دنیا كی یہی حالت رھی اور اسی رفتار سے مہلك ہتھیاروں میں اضافہ ھوتا رھا تو دنیا بہت جلد نیست و نابود ھوجائے گی۔ دنیا میں كبھی امن قائم نہیں ھوسكتا۔

اگر دنیا میں امن قائم ھوسكتا ھے تو اس كی بس ایك صورت ھے اور وہ یہ كہ دنیا سے ممالك كی تقسیم اور جغرافیائی حد بندیاں ختم ھوجائیں، پوری دنیا پر صرف ایك حكومت ھو اور بس یہی ایك صورت ھے جس كی بنا پر امن قائم ھوسكتا ھے۔ آج نہیں تو كچھ دنوں بعد ضرور یہ حقیقت بالكل واضح ھوجائے گی۔

ایك سوال ذھن میں كروٹیں لیتا ھے كہ اس عظیم حكومت كی رھبری كس كے سپرد ھو، زمام حكومت كس كے ھاتھوں میں ھو۔؟

زمامِ حكومت بس اسی كے ھاتھوں میں ھونا چاھیئے جس نے اپنے اوپر پورا اختیار ھو، جو جذبات پر باقاعدہ مسلط ھو۔ جذبات میں بہہ جانے والا، خواھشات كے سمندر میں غرق ھوجانے والا كبھی صحیح رھبری نہیں كرسكے گا۔ خواھشات كا پابند ھونے كا مطلب یہی ھے كہ عدل و انصاف كا دامن اس كے ھاتھوں سے چھوٹ جائے، تو اس میں امن كہاں قائم ھوسكتا ھے۔

اگر دنیا كے عام انسان اس عظیم رھبری كی صلاحیت ركھتے ھوتے تو دنیا كب كی گہوارۂ امن بن چكی ھوتی۔

ضرورت ھے ایك ایسے رھبر كی جسے ھم اصطلاحاً معصوم كہتے ھیں۔

اس بات پر دنیا كے تمام مسلمان متفق ھیں كہ قبل ایك ایسے انسان كا ظھور ھوگا جو معصوم ھوگا، ساری دنیا پر اس كی حكومت ھوگی، جس كے نتیجہ یہ میدانِ جنگ گہوارۂ امن میں تبدیل ھوجائے گا۔

اختلاف صرف اس بات كا ھے كہ وہ عظیم انسان پیدا ھوچكا ھے، یا پیدا ھوگا۔۔؟ شیعوں كا عقیدہ یہ ھے كہ وہ عظیم انسان 256 ھجری میں اس دنیا میں آچكا ھے، اور اس وقت وہ پردۂ غیبت میں ھے، جس كا ھم لوگ انتظار كر رھے ھیں۔

كیا ایك انسان اتنے دنوں تك زندہ رہ سكتا ھے۔؟

اگر وہ زندہ ھے تو ھمیں دكھائی كیوں نہیں دیتا۔؟

ارادہ تو یہی تھا كہ اس مقدمہ میں اس قسم كے سوالات كا معقول اور اطمینان بخش جواب قرآن و حدیث كی روشنی میں دیا جائے مگر اس صورت میں كتاب كافی طویل ھوجاتی۔ جس كی بنا پر صرف نظر كرنا پڑا۔ اگر توفیق خداوندی شاملِ حال رھی تو انشاء اللہ عنقریب ان موضوعات كو پیش كیا جائے گا۔

ایك سوال اور ھوتا ھے، اور وہ یہ كہ:

اگر ایك امامِ غائب كا عقیدہ ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے اور امام كا انتظار كرنا ایك عظیم عبادت ھے تو اس انتظار كا فائدہ كیا ھے۔ اور اس عقیدے كے اثرات انسانی زندگی پر كیا ھیں۔؟

اس سوال كا مفصل جواب قرآن و حدیث كی روشنی میں اس كتابچے میں ملے گا۔

اس كتابچے كو استاد محترم دانشمند عالی قدر حضرت علامہ الحاج آقایٔ ناصر مكارم شیرازی دام ظلہ العالی نے تحریر فرمایا ھے۔ آپ كا شمار "حوزہ علمیہ قم" (ایران) كے صفِ اوّل كے اساتذہ كرام میں ھوتا ھے،آپ كے جلسہ درس میں سیكڑوں با فضل طلاب علوم شركت كرتے ھیں، اور آپ كے سر چشمۂ علم و كمال سے اپنے لئے بقدر طرف ذخیرہ كرتے ھیں۔ جہاں آپ "حوزہ علمیہ قم" كے طلاب علم كو معارف اسلامی سے آشنا كرتے ھیں، وھاں آپ ایران كے گوشہ و كنار میں لوگوں كو اسلامی تعلیمات سے آشنا كرانے كے لئے كثیر تعداد میں مبلغین ارسال فرمایا كرتے ھیں اور ان كے تمام مصارف خود برداشت كرتے ھیں۔

حضرت استاد محترم نے سب سے پہلے ایك ایسے درسِ عقائد كی بنیاد ركھی جس كی روشنی میں آج كی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا كو اسلامی عقائد سے روشناس كرایا جاسكے۔ آپ نے بہت ھی نایاب انداز سے ان اعتراضات كا جواب دیا ھے جو آج كی دنیا اسلامی عقائد پر وارد كرتی ھے۔ یہ آپ كا شاھكار ھے كہ آپ نے اسلامی عقائد اور دیگر مذاھب كے عقائد كا تقابلی مطالعہ پیش كیا ھے، جس میں اسلام كی برتری روزِ روشن كی طرح نظر آتی ھے اس درس كے نتیجہ میں متعدد علمی اور فلسفی كتابیں منظر عام پر آئیں، اس كے علاوہ مختلف موضوعات پر متعدد كتابیں تحریر فرمائی ھیں جن میں سے ھر ایك اپنی جگہ مستقل حیثیت كی مالك ھے۔

لاكھوں كی تعداد میں شائع ھونے والا علمی، فلسفی، دینی اور اخلاقی ماھنامہ "مكتب اسلام" آپ ھی كی علمی كاوشوں كا نتیجہ ھے۔

آپ بھی شاہ ایران كی ظالم و جابر حكومت كے ھاتھوں محفوظ نہ رھے، صرف اس لئے كہ آپ لوگوں تك اسلامی تعلیمات نہ پہونچاسكیں اور آپ كا مشن ناكام ھوجائے آپ كو مختلف شھروں میں شھر بدر كیا جاتا رھا، لیكن آپ اپنے عزم و ارادے سے ذرا بھی پیچھے نہ ھٹے بلكہ پہلے سے زیادہ عزم و استقلال كے ساتھ آگے بڑھتے رھے۔ آپ كی زندگی كے حالات كے لئے خود ایك مستقل كتاب كی ضرورت ھے۔

ھم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ھیں كہ محمد وآل محمد علیہم السلام كے تصدق میں موصوف كو ھمیشہ مصائب و مشكلات سے محفوظ ركھے، طویل عمر عنایت فرمائے، آپ كے مقاصد كو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب ھو۔

اور ھم لوگ بھی آپ كی زندگی سے كچھ سبق حاصل كرسكیں۔ آمین یا رب العالمین۔

صاحبان نظر سے استدعا ھے كہ اگر كوئی اشتباہ ھو یا كوئی چیز باقی رہ گئی ھو، تو براہِ كرم حقیر كو مطلع فرمائیں تاكہ اس كا ازالہ ھوسكے۔ انسان كی كمزوریاں صحیح و سالم انتقاد سے دور ھوا كرتی ھیں۔

خدایا! توفیق عطا فرما كہ تیری راہ میں قدم اٹھا سكیں۔

لوگوں تك تیرا پیغام پہونچاسكیں، تو ھی بہترین توفیق دینے والا ھے۔

ناچیز مترجم

انتظار

سارے كے سارے مسلمان ایك ایسے "مصلح" كے انتظار میں زندگی كے رات دن گذارے رھے ھیں جس كی خصوصیات یہ ھیں:۔

(1) عدل و انصاف كی بنیاد پر عالم بشریت كی قیادت كرنا، ظلم و جور، استبداد و فساد كی بساط ھمیشہ كے لئے تہ كرنا۔

(2) مساوات و برادری كا پرچار كرنا۔

(3) ایمان و اخلاق، اخلاص و محبّت كی تعلیم دینا۔

(4) ایك علمی انقلاب لانا۔

(5) انسانیت كو ایك حیاتِ جدید سے آگاہ كرانا۔

(6) ھر قسم كی غلامی كا خاتمہ كرنا۔

اس عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (عج) ھے، پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كی اولاد میں ھے۔

اس كتابچے كی تالیف كا مقصد یہ نہیں ھے كہ گزشتہ خصوصیات پر تفصیلی اور سیر حاصل بحث كی جائے، كیونكہ ھر ایك خصوصیت ایسی ھے جس كے لئے ایك مكمل كتاب كی ضرورت ھے۔

مقصد یہ ھے كہ "انتظار" كے اثرات كو دیكھا جائے اور یہ پہچانا جاسكے كہ صحیح معنوں میں منتظر كون ھے اور صرف زبانی دعویٰ كرنے والے كون ھیں، اسلامی روایات و احادیث جو انتظار كے سلسلے میں وارد ھوئی ھیں، یہ انتظار كو ایك عظیم عبادت كیوں شمار كیا جاتا ھے۔؟

غلط فیصلے

سب سے پہلے یہ سوال سامنے آتا ھے كہ انتطار كا عقیدہ، كیا ایك خالص اسلامی عقیدہ ھے یا یہ عقیدہ شكست خوردہ انسانوں كی فكر كا نتیجہ ھے۔؟ یا یوں كہا جائے كہ اس عقیدہ كا تعلق انسانی فطرت سے ھے، یا یہ عقیدہ انسانوں كے اوپر لادا گیا ھے۔؟

بعض مستشرقین كا اس بات پر اصرار ھے كہ اس عقیدے كا تعلق انسانی فطرت سے نہیں ھے بلكہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كی پیداوار ھے۔

بعض مغرب زدہ ذھنیتوں كا نظریہ ھے كہ یہ عقیدہ خالص اسلامی عقیدہ نہیں ھے بلكہ یہودی اور عیسائی طرز فكر سے حاصل كیا گیا ھے۔

مادّہ پرست اشخاص كا كہنا ھے ك اس عقیدے كی اصل و اساس اقتصادیات سے ھے۔ صرف فقیروں، مجبوروں، ناداروں اور كمزوروں كو بہلانے كے لئے یہ عقیدہ وجود میں لایا گیا ھے۔

حقیقت یہ ھے ك اس عقیدے كا تعلق انسانی فطرت سے ھے اور یہ ایك خالصِ اسلامی نظریہ ھے، دوسرے نظریات كی وجہ یہ ھے كہ جن لوگوں نے اس عقیدہ كے بارے میں اظھار رائے كیا ھے، اگر ان كو متعصب اور منافع پرست نہ كہا جاسكے تو یہ بات بہر حال مانی ھوئی ھے كہ ان لوگوں كی معلومات اسلامی مسائل كے بارے میں بہت زیادہ محدود ھیں۔ ان محدود معلومات كی بنا پر یہ عقیدہ قائم كرلیا ھے كہ ھم نے سب كچھ سمجھ لیا ھے اور اپنے كو اس بات كا مستحق قرار دے لیتے ھیں كہ اسلامی مسائل كے بارے میں اظھار نظر كریں، اس كا نتیجہ وھی ھوتا ھے جسے آپ ملاحظہ فرما رھے ھیں۔ بدیہی بات ھے كہ محدود معلومات كی بنیادوں پر ایك آخری نظریہ قائم كرلینا كہاں كی عقلمندی ھے، آخری فیصلہ كرنے كا حق صرف اس كو ھے جو مسئلے كے اطراف و جوانب سے باقاعدہ واقف ھو۔

بعض لوگوں كا كہنا ھے كہ ھمیں اس بات سے كوئی سروكار نہیں كہ اس عقیدے كی بنیاد كیا ھے، ھمارا سوال تو صرف یہ ھے كہ اس عقیدے كا فائدہ كیا ھے؟ اور اس كے اثرات كیا ھیں؟

ھم نے جو دیكھا وہ یہ ھے كہ جو لوگ اس عقیدے كو دل سے لگائے ھوئے ھیں وہ ھمیشہ رنج و محن كا شكار ھیں اور ان كی زندگیاں مصائب برداشت كرتے گذرتی ھیں ذمہ داریوں كو قبول كرنے سے بھاگتے ھیں، فساد كے مقابل ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رھتے ھیں اور اس كی سعی و كوشش بھی نہیں كرتے كہ فساد ختم بھی ھوسكتا ھے ظلم كا ڈٹ كر مقابلہ بھی كیا جاسكتا ھے، ایسے عقیدے ركھنے والوں كو ایسی كوئی فكر ھی نہیں۔

اس عقیدے كی بنیاد جو بھی ھو مگر اس كے فوائد و اثرات خوش آیند نہیں ھیں یہ عقیدہ انسان كو اور زیادہ كاھل بنا دیتا ھے۔

اگر ایك دانش ور كسی مسئلے میں فیصلہ كرنا چاھتا ھے اور صحیح نظریہ قائم كرنا چاھتا ھے تو اس كے لئے ضروری ھے كہ وہ اس مسئلے كے اطراف و جوانب كا باقاعدہ مطالعہ كرے، اس كے بعد ھی كوئی صحیح نظریہ قائم ھوسكتا ھے۔

آئیے پہلے ھم خود اس مسئلے كے مختلف پہلوؤں پر غور كریں كہ اس عقیدے كی بنیاد كیا ھے؟ كیا واقعاً یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كے افكار كا نتیجہ ھے؟ یا اس كی بنیاد اقتصادیات پر ھے؟ یا پھر اس كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے؟ اس عقیدے كے اثرات مفید ھیں یا نقصان رساں؟۔

انتظار اور فطرت

بعض لوگوں كا قول ھے كہ اس عقیدے كی بنیاد فطرت پر نہیں ھے بلكہ انسان كے افكار پریشاں كا نتیجہ ھے اس كے باوجود اس عقیدے كی اصل و اساس انسانی فطرت ھے، اس نظریے كی تعمیر فطرت كی بنیادوں پر ھوئی ھے۔

انسان دو راستوں سے اس عقیدے تك پہونچتا ھے۔ ایك اس كی اپنی فطرت ھے اور دوسرے اس كی عقل۔ فطرت و عقل دونوں ھی انسان كو اس نظریے كی دعوت دیتے ھیں۔

انسان فطری طور پر كمال كا خواھاں ھے، جس طرح سے فطری طور پر اس میں یہ صلاحیت پائی جاتی ھے كہ وہ جن چیزوں كو نہیں جانتا ان كے بارے میں معلومات حاصل كرے، اسی طرح وہ فطری طور پر اچھائیوں كو پسند كرتا ھے اور نیكی كو پسند كرتا ھے۔

بالكل اسی طرح سے انسان میں كمال حاصل كرنے كا جذبہ بھی پایا جاتا ھے۔ یہ وہ جذبہ ھے جو زندگی كے تمام شعبوں پر حاوی ھے، اسی جذبے كے تحت انسان اس بات كی كوشش كرتا ھے كہ وہ زیادہ سے زیادہ علم حاصل كرسكے كیونكہ وہ جتنا زیادہ علم حاصل كرے گا اتنا ھی زیادہ اس میں كمال نمایاں ھوگا۔ اسی جذبے كے تحت اس كی یہ خواھش ھوتی ھے كہ لوگوں كے ساتھ زیادہ سے زیادہ نیكی كرے، انسان فطری طور پر نیك طینت اور نیك اشخاص كو پسند كرتا ھے۔

كوئی بھی یہ نہیں كہہ سكتا كہ یہ تقاضے ایك شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ ھیں، یا ان كی بنیاد اقتصادیات پر ھے، یا ان كا تعلق وراثت اور ترتیب وغیرہ سے ھے ھاں یہ ضرور ھے كہ وراثت اور ترتیب ان تقاضوں میں قوت یا ضعف ضرور پیدا كرسكتی ھیں لیكن ان جذبات كو ختم كردینا ان كے بس میں نہیں ھے كیونكہ ان كا وجود ان كا مرھونِ منّت نہیں ھے۔ ان تقاضوں كے فطری ھونے كی ایك دلیل یہ بھی ھے كہ تاریخ كے ھر دور اور ھر قوم میں یہ تقاضے پائے جاتے ھیں كیونكہ اگر یہ تقاضے فطری نہ ھوتے تو كہیں پائے جاتے اور كہیں نہ پائے جاتے۔ انسانی عادتوں كا معاملہ اس كے برعكس ھے كہ ایك قوم كی عادت دوسری قوم میں نہیں پائی جاتی، یا ایك چیز جو ایك قوم میں عزّت كی دلیل ھے وھی دوسری قوم میں ذلّت كا باعث قرار پاتی ھے۔

كمال، علم و دانش، اچھائی اور نیكی سے انسان كا لگاؤ ایك فطری لگاؤ ھے جو ھمیشہ سے انسانی وجود میں پایا جاتا ھے، دنیا كی تمام اقوام اور تمام ادوار تاریخ میں ان كا وجود ملتا ھے۔ عظیم مصلح كا انتظار انھیں جذبات كی معراجِ ارتقاء ھے۔

یہ كیوں كر ممكن ھے كہ انسان میں یہ جذبات تو پائے جائیں مگر اس كے دل میں انتظار كے لئے كوئی كشش نہ ھو، انسانیت و بشریت كا قافلہ اس وقت تك كمالات كے ساحل سے ھم كنار نہیں ھوسكتا جب تك كسی ایسے مصلح بزرگ كا وجود نہ ھو۔

اب یہ بات بھی واضح ھوجاتی ھے كہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ نہیں ھے بلكہ انسانی ضمیر كی آواز ھے اس كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے۔

ھم یہ دیكھتے ھیں كہ انسانی بدن كا ھر حصہ انسان كے جسمی كمالات پر اثر انداز ھوتا ھے ھمیں كوئی ایسا عضو نہیں ملے گا جو اس كی غرض كے پورا كرنے میں شریك نہ ھو، ھر عضو اپنی جگہ انسانی كمالات كے حاصل كرنے میں كوشاں ھے۔ اسی طرح روحی اور معنوی كمالات كے سلسلے میں روحانی خصوصیات اس مقصد كے پورا كرنے میں برابر كے شریك ھیں۔

انسان خطرناك چیزوں سے خوف كھاتا ھے یہ روحانی خصوصیت انسان كے وجود كو ھلاكت سے بچاتی ھے اور انسان كے لئے ایك سپر ھے حوادث كا مقابلہ كرنے كے لئے

غصہ انسان میں دفاعی قوت كو بڑھا دیتا ھے، تمام طاقتیں سمٹ كو ایك مركز پر جمع ھوجاتی ھیں جس كی بناء پر انسان چیزوں كو تباہ ھونے سے بچا تا ھے اور فائدہ كو تباہ ھونے سے محفوظ ركھتا ھے، دشمنوں پر غلبہ حاصل كرتا ھے۔

اسی طرح سے انسان میں روحی اور معنوی طور پر كمال حاصل كرنے كا جذبہ پایا جاتا ھے، انسان فطری طور پر عدل و انصاف، مساوات اور برادری كا خواھاں ھے، یہ وہ جذبات ھیں جو كمالات كی طرف انسان كی رھبری كرتے ھیں۔ انسان میں ایك ایسا ولولہ پیدا كردیتے ھیں، جس كی بناء پر وہ ھمیشہ روحانی و معنوی مدارج ارتقاء كو طے كرنے كی فكر میں رھتا ھے، اس كے دل میں یہ آرزو پیدا ھوجاتی ھے كہ وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا عدل و انصاف مساوات و برادری، صدق و صفا، صلح و مروت سے بھر جائے ظلم و جور كی بساط اس دنیا سے اٹھ جائے اور ستم و استبداد رختِ سفر باندھ لے۔

یہ بات بھی سب كو معلوم ھے كہ انسان كا وجود اس كائنات سے الگ نہیں ھے بلكہ اسی نظام كائنات كا ایك حصہ ھے، یہ ساری كائنات انسان سمیت ایك مكمل مجموعہ ھے جس میں زمین ایك جزو آفتاب و ماھتاب ایك جزء اور انسان ایك جزء ھے۔

چونكہ ساری كائنات میں ایك نظام كار فرما ھے لھٰذا اگر انسانی وجود میں كوئی جذبہ پایا جاتا ھے تو یہ اس بات كی دلیل ھے كہ اس جذبے كا جواب خارجی دنیا میں ضرور پایا جاتا ھے۔

اسی بناء پر جب ھمیں پیاس لگتی ھے تو ھم خود بخود پانی كی تلاش میں نكل پڑتے ھیں اسی جذبے كے تحت ھمیں اس بات كا یقین ھے كہ جہاں جہاں پیاس كا وجود ھے وھاں خارجی دنیا میں پیاس كا وجود ضرور ھوگا۔ اگر پانی كا وجود نہ ھوتا تو ھرگز پیاس نہ لگتی۔ اگر ھم اپنی كوتاھیوں كی بناء پر پانی تلاش نہ كرپائیں تو یہ اس بات كی ھرگز دلیل نہ ھوگی كہ پانی كا وجود نہیں ھے، پانی كا وجود ھے البتہ ھماری سعی و كوشش ناقص ھے۔

اگر انسان میں فطری طور پر علم حاصل كرنے كا جذبہ پایا جاتا ھے تو ضرور خارج میں اس شے كا وجود ھوگا جس كا علم انسان بعد میں حاصل كرے گا۔

اسی بنیاد پر اگر انسان ایك ایسے عظیم مصلح كے انتظار میں زندگی بسر كر رھا ھے جو دنیا كے گوشے گوشے كو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ چپہ چپہ نیكیوں كا مرقع بن جائے گا، تو یہ بات واضح ھے كہ انسانی وجود میں یہ صلاحیت پائی جاتی ھے، یہ انسانی سماج ترقی اور تمدن كی اس منزلِ كمال تك پہونچ سكتا ھے تبھی تو ایسے عالمی مصلح كا انتظار انسان كی جان و روح میں شامل ھے۔

عالمی مصلح كے انتظار كا عقیدہ صرف مسلمانوں كے ایك گروہ سے مخصوص نہیں ھے بلكہ سارے مسلمانوں كا یہی عقیدہ ھے۔ اور صرف مسلمانوں ھی تك یہ عقیدہ منحصر نہیں ھے بلكہ دنیا كے دیگر مذاھب میں بھی یہ عقیدہ پایا جاتا ھے۔

اس عقیدے كی عمومیت خود اس بات كی دلیل ھے كہ یہ عقیدہ شكست خوردہ ذھنیت كا نتیجہ نہیں ھے اور نہ ھی اقتصادیات كی پیداوار ھے كیونكہ جو چیزیں چند خاص شرائط كے تحت وجود میں آتی ھیں ان میں اتنی عمومیت نہیں پائی جاتی۔ ھاں صرف فطری مسائل ایسی عمومیت كے حامل ھوتے ھیں كہ ھر قوم و ملّت اور ھر جگہ پائے جائیں۔ اسی طرح سے عیقدے كی عمومیت اس بات كی زندہ دلیل ھے كہ اس عقیدے كا تعلق انسان كی فطرت سے ھے۔ انسان فطری طور پر ایك عالمی مصلح كے وجود كا احساس كرتا ھے جب اس كا ظھور ھوگا تو دنیا عدل و انصاف كا مرقع ھوجائے گی۔

عالمی مصلح اور اسلامی روایات

ایك ایسی عالمی حكومت كا انتظار جو ساری دنیا میں امن و امان برقرار كرے، انسان كو عدل و انصاف كا دلدادہ بنائے، یہ كسی شكست خوردہ ذھنیت كی ایجاد نہیں ھے، بلكہ انسان فطری طور پر ایسی عالمی حكومت كا احساس كرتا ھے۔ یہ انتظار ضمیر انسانی كی آواز ھے ایك پاكیزہ فطرت كی آرزو ھے۔

بعض لوگوں كا نظریہ ھے كہ یہ عقیدہ ایك خالص اسلامی عقیدہ نہیں ھے بلكہ دوسرے مذاھب سے اس كو اخذ كیا گیا ھے، یا یوں كہا جائے كہ دوسروں نے اس عقیدے كو اسلامی عقائد میں شامل كردیا ھے۔ ان لوگوں كا قول ھے كہ اس عقیدے كی كوئی اصل و اساس نہیں ھے۔ دیكھنا یہ ھے كہ یہ فكر واقعاً ایك غیر اسلامی فكر ھے جو رفتہ رفتہ اسلامی فكر بن گئی ھے؟ یا در اصل یہ ایك خالص اسلامی فكر ھے۔

اس سوال كا جواب كس سے طلب كیا جائے۔ آیا ان مستشرقین سے اس كا جواب طلب كیا جائے جن كی معلومات اسلامیات كے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ھیں۔ یہیں سے مصیبت كا آغاز ھوتا ھے كہ ھم دوسروں سے اسلام كے بارے میں معلومات حاصل كریں۔ یہ بالكل ایسا ھی ھے جیسے كوئی شخص اس آدمی سے پانی طلب نہ كرے جو دریا كے كنارے ھے بلكہ ایك ایسے شخص سے پانی طلب كرے جو دریا سے كوسوں دُور ھے۔

یہ بات بھی درست نہیں ھے كہ مستشرقین كی باتوں كو بالكل كفر و الحاد تصور كیا جائے اور ان كی كوئی بات مانی ھی نہ جائے، بلكہ مقصد صرف یہ ھے كہ "اسلام شناسی" كے بارے میں ان كے افكار كو معیار اور حرفِ آخر تصور نہ كیا جائے۔ اگر ھم تكنیكی مسائل میں علمائے غرب كا سہارا لیتے ھیں تو اس كا مطلب یہ تو نہیں كہ ھم اسلامی مسائل كے بارے میں بھی ان كے سامنے دستِ سوال دراز كریں۔

ھم علمائے غرب كے افكار كو اسلامیات كے بارے میں معیار اس لیے قرار نہیں دے سكتے كہ ایك تو ان كی معلومات اسلامی مسائل كے بارے میں نہایت مختصر اور محدود ھے، جس كی بنا پر ایك صحیح نظریہ قائم كرنے سے قاصر ھیں۔ دوسری وجہ یہ ھے كہ یہ لوگ تمام اسلامی اصول كو مادی اصولوں كی بنیاد پر پركھنا چاھتے ھیں، ھر چیز میں مادی فائدہ تلاش كرتے ھیں۔ بدیہی بات ھے كہ اگر تمام اسلامی مسائل كو مادیت كی عینك لگا كر دیكھا جائے تو ایسی صورت میں اسلامی مسائل كی حقیقت كیا سمجھ میں آئے گی۔

اسلامی روایات كا مطالعہ كرنے كے بعد یہ بات واضح ھوجاتی ھے كہ "انتظار" كا شمار ان مسائل میں ھے جن كی تعلیم خود پیغمبر اسلام (ص) نے فرمائی ھے۔

حضرت امام مہدی علیہ السلام كی انقلابی مہم كے سلسلے میں روایات اتنی كثرت سے وارد ھوئی ھیں كہ كوئی بھی انصاف پسند صاحبِ تحقیق ان كے "تواتر" سے انكار نہیں كرسكتا ھے۔ شیعہ اور سُنّی دونوں فرقوں كے علماء نے اس سلسلے میں متعدد كتابیں لكھی ھیں اور سب ھی نے ان روایات كے "متواتر" ھونے كا اقرار كیا ھے۔ ھاں صرف "ابن خلدون" اور "احمد امین مصری" نے ان روایات كے سلسلے میں شك و شبہ كا اظھار كیا ھے۔ ان كی تشویش كا سبب روایات نہیں ھیں بلكہ ان كا خیال ھے كہ یہ ایسا مسئلہ ھے جسے اتنی آسانی سے قبول نہیں كیا جاسكتا ھے۔

اس سلسلہ میں اس سوال و جواب كا ذكر مناسب ھوگا جو آج سے چند سال قبل ایك افریقی مسلمان نے مكہ معظمہ میں جو عالمی ادارہ ھے، اس سے كیا تھا۔ یہ بات یاد رھے كہ یہ ارادہ وھابیوں كا ھے اور انھیں كے افكار و نظریات كی ترجمانی كرتا ھے۔ سب كو یہ بات معلوم ھے كہ وھابی اسلام كے بارے میں كس قدر سخت ھیں، اگر یہ لوگ كسی بات كو تسلیم كرلیں تو اس سے اندازہ ھوگا كہ یہ مسئلہ كس قدر اھمیت كا حامل ھے اس میں شبہ كی كوئی گنجائش نہیں ھے۔ اس جواب سے یہ بات بالكل واضح ھوجاتی ھے كہ حضرت امام مہدی (ع) كا انتظار ایك ایسا مسئلہ ھے جس پر دنیا كے تمام لوگ متفق ھیں، اور كسی كو بھی اس سے انكار نہیں ھے۔ وھابیوں كا اس مسئلہ كو قبول كرلینا اس بات كی زندہ دلیل ھے كہ اس سلسلہ میں جو روایات وارد ھوئی ھیں ان میں كسی قسم كے شك و شبہ كی گنجائش نہیں ھے۔ ذیل میں سوال اور جواب پیش كیا جاتا ھے۔

حضرت امام مہدی (ع) كے ظھور پر زندہ دلیلیں

چند سال قبل كینیا (افریقہ) كے ایك باشندے بنام "ابو محمد" نے "ادارہ رابطہ عالم اسلامی" سے حضرت مہدی (ع) كے ظھور كے بارے میں سوال كیا تھا۔

اس ادارے كے جنرل سكریٹری "جناب محمد صالح اتغزاز" نے جو جواب ارسال كیا، اس میں اس بات كی با قاعدہ تصریح كی ھے كہ وھابی فرقے كے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی ان روایات كو قبول كیا ھے جو حضرت امام مھدی علیہ السلام كے بارے میں وارد ھوئی ھیں۔ اس جواب كے ذیل میں سكریٹری موصوف نے وہ كتابچہ بھی ارسال كیا ھے جسے پانچ جید علمائے كرام نے مل كر تحریر كیا ھے۔ اس كتابچے كے اقتباسات قارئین محترم كی خدمت میں پیش كئے جاتے ھیں: ۔۔۔۔

عظیم مصلح كا اسم مبارك مھدی (ع) ھے۔ آپ كے والد كا نام "عبد اللہ" ھے اور آپ مكّہ سے ظھور فرمائیں گے۔ ظھور كے وقت ساری دنیا ظلم و جور و فساد سے بھری ھوگی۔ ھر طرف ضلالت و گمراھی كی آندھیاں چل رھی ھوں گی۔ حضرت مہدی (ع) كے ذریعہ خداوندعالم دنیا كو عدل و انصاف سے بھر دے گا، ظلم و جور و ستم كانشان تك بھی نہ ھوگا۔"

رسول گرامی اسلام (ص) كے بارہ جانشینوں میں سے وہ آخری جانشین ھوں گے، اس كی خبر خود پیغمبر اسلام (ص) دے گئے ھیں، حدیث كی معتبر كتابوں میں اس قسم كی روایات كا ذكر باقاعدہ موجود ھے۔"

حضرت مہدی (ع) كے بارے میں جو روایات وارد ھوئی ھیں خود صحابۂ كرام نے ان كو نقل فرمایا ھے ان میں سے بعض كے نام یہ ھیں:۔

(1) علی ابن ابی طالب (ع)، (2) عثمان بن عفان، (3) طلحہ بن عبیدہ، (4) عبد الرحمٰن بن عوف، (5) عبد اللہ بن عباس، (6) عمار یاسر، (7) عبد اللہ بن مسعود، (8) ابوسعید خدری، (9) ثوبان، (10) قرہ ابن اساس مزنی، (11) عبد اللہ ابن حارث، (12) ابوھریرہ، (13) حذیفہ بن یمان، (14) جابر ابن عبد اللہ (15) ابو امامہ، (16) جابر ابن ماجد، (17) عبد اللہ بن عمر (18) انس بن مالك، (19) عمران بن حصین، (20) ام سلمہ۔

پیغمبر اسلام (ص) كی روایات كے علاوہ خود صحابہ كرام كے فرمودات میں ایسی باتیں ملتی ھیں جن میں حضرت مہدی (ع) كے ظھور كو باقاعدہ ذكر كیا گیا ھے۔ یہ ایسا مسئلہ ھے جس میں اجتہاد وغیرہ كا گذر نہیں ھے جس كی بناء پر بڑے اعتماد سے یہ بات كہی جاسكتی ھے كہ یہ تمام باتیں خود پیغمبر اسلام (ص) كی روایات سے اخذ كی گئی ھیں۔ ان تمام باتوں كو علمائے حدیث نے اپنی معتبر كتابوں میں ذكر كیا ھے جیسے:۔

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، ابن ماجہ، سنن ابن عمر والدانی، مسند احمد، مسند ابن یعلی، مسند بزاز، صحیح حاكم، معاجم طبرانی (كبیر و متوسط)، معجم رویانی، معجم دار قطنی، ابو نعیم كی "اخبار المھدی"۔ تاریخ بغداد، تاریخ ابن عساكر، اور دوسری معتبر كتابیں۔

علمائے اسلام نے حضرت مھدی (ع) كے موضوع پر مستقل كتابیں تحریر كی ھیں جن میں سے بعض كے نام یہ ھیں:

اخبار المھدی؛ تالیف: ابو نعیم

القول المختصر فی علامات المھدی المنتظر؛ تالیف: ابن ھجر ھیثمی

التوضیح فی تواتر ماجاء فی المنتظر والد جال والمسیح؛ تالیف: شوكانی

المھدی؛ تالیف: ادریس عراقی مغربی

الوھم المكنون فی الرد علی ابن خلدون؛ تالیف: ابو العباس بن عبد المومن المغربی

مدینہ یونی یورسٹی كے وائس چانسلر نے یونی ورسٹی كے ماھنامہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بحث كی ھے، ھر دور كے علماء نے اس بات كی باقاعدہ تصریح كی ھے كہ وہ حدیثیں جو حضرت مھدی (ع) كے بارے میں وارد ھوئی ھیں وہ متواتر ھیں جنھیں كسی بھی صورت سے جھٹلایا نہیں جاسكتا۔ جن علماء نے حدیثوں كے متواتر ھونے كا دعویٰ كیا ھے ان كے نام اور كتابوں كے نام حسب ذیل ھیں، جن میں تواتر كا ذكر كیا گیا ھے:۔

1۔ السخاوی اپنی كتاب فتح المغیث میں

2۔ محمد بن السنادینی اپنی كتاب شرح العقیدہ میں

3۔ ابو الحسن الابری اپنی كتاب مناقب الشافعی میں

4۔ ابن تیمیہ اپنے فتوؤں میں

5۔ سیوطی اپنی كتاب الحاوی میں

6۔ ادریس عراقی مغربی اپنی كتاب المھدی میں

7۔ شوكانی اپنی كتاب التوضیح فی تواتر ماجاء میں

8۔ شوكانی اپنی كتاب فی المنتظر والدجال والمسیح میں

9۔ محمد جعفر كنانی اپنی كتاب نظم المتناثر میں

10۔ ابو العباس عبد المومن المغربی اپنی كتاب الوھم المكنون میں

  index next