next index  

دعا کی تعریف

دعا یعنی بندے کا خدا سے اپنی حا جتیں طلب کرنا ۔

 دعا کی اس تعریف کی اگر تحلیل کی جا ئے تو اس کے مندرجہ ذیل چار رکن ہیں :

۱۔مدعو:خدا وند تبارک و تعالیٰ۔

۲۔داعی :بندہ۔

۳۔دعا :بندے کا خدا سے ما نگنا۔

۴۔مدعو لہ:وہ حا جت اور ضرورت جو بندہ خدا وند قدوس سے طلب کر تا ہے ۔

 ہم ذیل میں ان چاروں ارکان کی وضاحت کر رہے ہیں :

۱۔مدعو : یعنی دعا میں جس کو پکارا جاتا ہے وہ خدا وند قدوس کی ذات ہے :

۱۔خداوند قدوس غنی مطلق ہے جو آسمان اورزمین کا مالک ہے جیسا کہ ارشاد ہو تا ہے :

<اٴَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللَّہَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ>[1]

”کیا تم نہیں جا نتے کہ آسمان و زمین کی حکو مت صرف الله کےلئے ہے “

<وَ لِلَّہِ مُلْکُ السَّمَاواتِ وَالْاَرْضِ وَمَابیْنَھُمَایَخْلُقُ مَایَشَا ءُ>[2]

”اور الله ہی کےلئے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی کل حکو مت ہے “

۲۔خداوند عالم کا خزانہ جود و عطا سے ختم نہیں ہو تا :

<اِنَّ ھَٰذَالرزْقنَامَالَہُ مِنْ نِفَاد>[3]

”یہ ہمارا رزق ہے جو ختم ہو نے والا نہیں ہے “سورئہ ص آیت /۵۴۔

<کُلّاًنُمِدُّ ھٰوٴُلَاءِ وَھٰوٴُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّکَ وَمَاکَانَ عَطَاءُ رَبِّکَ مَحْظُوراً>[4]

 ”ہم آپ کے پر ور دگار کی عطا و بخشش سے اِن کی اور اُن سب کی مدد کر تے ہیں اور آپ کے پر ور دگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے “

اور دعا ئے افتتاح میں وارد ہو ا ہے :”لَاتَزِیْدُہُ کَثْرَة العَطَاءِ اِلَّاجُوْداًوَکَرَماً “

”اور عطا کی کثرت سوائے جود و کرم کے اور کچھ زیا دہ نہیں کر تی “

۳۔وہ اپنی ساحت و کبریا ئی میں کو ئی بخل نہیں کر تا ،کسی چیز کے عطا کر نے سے اس کی ملکیت کا دائرہ تنگ نہیں ہو تا ،وہ اپنے بندو ں پر اپنی مر ضی سے جو جو د و کرم کرے اس سے اس کی ملکیت میں کو ئی کمی نہیں آتی اور وہ بندوں کی حا جتوں کو قبول کر نے میں کوئی دریغ نہیں کرتا ۔

اگر کو ئی بندہ اس کو پکا رے تو وہ دعا کو مستجاب کر نے میں کسی چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں کرتاہے چونکہ خود اسی کا فر مان ہے :<اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >”مجھ سے دعا کرومیں قبول کرونگا“مگر یہ کہ خود بندہ دعا مستجا ب کرانے کی صلا حیت نہ رکھتا ہو ۔چو نکہ بندہ اس با ت سے آگاہ نہیں ہو تا کہ کو نسی دعا قبول ہو نی چا ہئے اور کو نسی دعا قبول نہیں ہو نی چا ہئے فقط خدا وند عالم اس چیز سے واقف ہے کہ بندے کےلئے کونسی دعاقبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے اور کو نسی قبولیت کی صلا حیت نہیں رکھتی جیساکہ    دعا ئے افتتاح میں آیا ہے :

<وَلَعَلَّ الَّذِیْ اَبْطَاٴْعَنّیْ ھُوَخَیْرٌلِیْ لِعِلْمِکَ بِعَاقِبَةِ الْاُمُوْرِ،فَلَمْ اَرَمَوْلیً کَرِیْماًاَصْبِرْعَلَیٰ عَبْدٍلَئِیْمٍ مِنْکَ عَلَيَّ>

”حالانکہ توجانتا ہے کہ میرے لئے خیر اس تاخیر میں ہے اس لئے کہ تو امور کے انجا م سے باخبرہے میں نے تیرے جیساکریم مولا نہیں دیکھا ہے جو مجھ جیسے ذلیل بندے کوبرداشت کرسکے “

۲۔داعی :(دعا کر نے والا )

 بندہ ہر چیز کا محتاج ہے یہا ں تک کہ اپنی حفا ظت کر نے میں بھی وہ الله کا محتا ج ہے ارشاد ہو تا ہے :

<یَٰاٴَیُّھَاالنَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ اِلَی اللَّہِ وَاللَّہُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ>[5]

”انسانوں تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله صاحب دو لت اور قابل حمد و ثنا ہے “

<وَاللَّہُ الغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ>[6]

”خدا سب سے بے نیاز ہے اور تم سب اس کے فقیر اور محتاج ہو “

انسان کے پاس اپنے فقر سے بہتر اور کو ئی چیز نہیں ہے جو اس کی بار گاہ میں پیش کر سکے۔ اور الله کی بارگاہ میں اپنے کو فقیر بنا کر پیش کر نے سے اس کی رحمتوں کا نزول ہو تا ہے۔

اور جتنا بھی انسان الله کی بارگاہ کا فقیر رہے گا اتنا ہی الله کی رحمت سے قریب رہے گا اور اگر وہ تکبر کر ے گا اور اپنی حا جت و ضرورت کو اس کے سا منے یش نہیں کر ے گا اتنا ہی وہ رحمت خدا سے دور ہو تا جا ئے گا ۔

۳۔ دعا :(طلب ،چا ہت، مانگنا)

انسان جتنا بھی گڑ گڑا کر دعا ما نگے گا اتنا ہی وہ رحمت خدا سے قریب ہو تا جا ئے گا ۔انسا ن کے مضطر ہو نے کی سب سے ادنیٰ منزل یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اختیارات کا مالک خدا کو سمجھے یعنی خدا کے علا وہ کو ئی اس کی دعا قبول نہیں کر سکتا ہے اور مضطر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس دو سرا کو ئی اختیار نہ رہے یعنی اگر کو ئی اختیار ہے تو وہ صرف اور صرف خدا کا اختیار ہے اور اس کے علا وہ کو ئی اختیار نہیں ہے جب ایسا ہوگا تو انسان اپنے کو الله کی بارگاہ میں نہایت مضطر محسوس کرے گا ۔۔۔اور اسی وقت انسان الله کی رحمت سے بہت زیادہ قریب ہو گا:

<اٴَ مّنَّ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّاِذَادَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْءَ>[7]

”بھلا وہ کو ن ہے جو مضطر کی فریاد کو سنتا ہے جب وہ اس کوآوازدیتا ہے اور اس کی مصیبت کو دور کر دیتا ہے “

مضطر کی دعا اور الله کی طرف سے اس کی قبولیت کے درمیان کو ئی فاصلہ نہیں ہے اور دعا میں اس اضطرار اورچاہت کا مطلب خدا کے علاوہ دنیا اور ما فیہا سے قطع تعلق کر لینا اور صرف اور صرف اسی سے لو لگاناہے اس کے علا وہ غیرخدا سے طلب ا ور دعا نہیںہو سکتی ہے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دعا انسان کو کو شش اور عمل کر نے سے بے نیاز کر دیتی ہے ،جس طرح کوشش اور عمل، دعا کر نے والے کو الله سے دعا کرنے سے بے نیاز نہیں کر تے ہیں۔

۴۔مد عوّلہ ( جس کے لئے یاجو طلب کیا جا ئے؟ )

انسا ن کو خدا وند قدوس سے اپنی چھو ٹی سے چھو ٹی اور بڑی سے بڑی تمام جا جتیں طلب کر نا چاہئیں خدا اس کی حا جتوں کو پورا کر نے سے عا جز نہیں ہو تا اور نہ اس  کے ملک و سلطنت میں کو ئی کمی آتی ہے ،اور نہ ہی بخل اس کی ساحتِ کبریا ئی سے ساز گار ہے ۔

انسا ن کےلئے خدا وند عالم سے اپنی چھو ٹی سے چھوٹی حاجت طلب کر نے میں بھی کو ئی حرج نہیں ہے (یہاں تک کہ وہ اپنے لئے جوتی ،جانوروں کےلئے چارا اور اپنے آٹے کےلئے نمک بھی ما نگ سکتا ہے ) جیسا کہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ خدا وند عالم چھوٹی بڑی حا جتوں کو پورا کر کے اپنے بندے کو ہمیشہ  اپنے سے لو لگانے کو دوست رکھتا ہے ۔نہ چھوٹی دعا ئیں، اور نہ ہی بڑی حاجتیں ہو نے کی وجہ سے خداوند عالم اپنے اور بندوں کے درمیان پردہ ڈالتا ہے ۔خدا وند عالم تو ہمیشہ اپنے بندوں کی چھو ٹی اور بڑی تمام حاجتوں کو پورا کر تا ہے اور اپنے بندے کے دل کو ہر حال میں اپنی طرف متوجہ کرنا چا ہتا ہے ۔

انسان اور خدا کے درمیان دعا اور حاجت کے مثل کوئی چیز واسطہ نہیں بن سکتی ہے ۔دعا کے یہی چار ارکان ہیں ۔

دعاکی قدر و قیمت

<وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِ نَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ >[8]

”اور تمہا رے پر ور دگار کا ارشاد ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا اور یقیناً جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے “

دعا یعنی بندے کا اپنے کو الله کے سامنے پیش کرنا اور یہی پیش کرنا ہی روح عبادت ہے اور عبادت انسان کی غرض خلقت ہے۔

یہی تینوں باتیں ہما ری دعاوٴں کی قدر وقیمت کو مجسم کر تی ہیں ،دعا کی حقیقت کو واضح کر ہیں ،ہم اپنی بحث کا آغاز تیسری بات سے کر تے ہیں اس کے بعد دوسرے مطلب کو بیان کر نے کے بعد پھر پہلی بات بیان کریں گے ۔

قرآن کریم نے صاف طور پر یہ بیان کیا ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت ہے خداوند عالم کا ارشاد ہے :

<وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ>[9]

”اور میں نے جن و انس کو نہیں پیدا کیا مگراپنی عبادت کے لئے “

اسی آخری نقطہ کی دین اسلام میں بڑی اہمیت ہے ۔

اور عبادت کی قدروقیمت یہ ہے کہ یہ انسان کو اسکے رب سے مربوط کر دیتی ہے ۔

عبادت میں الله سے قصد قربت اس کے محقق ہو نے کےلئے اصلی اور جوہری امر ہے اور بغیر جو ہر کے عبا دت ،عبادت نہیں ہے ،عبادت اصل میں الله کی طرف حرکت ہے،اپنے کو الله کی بارگاہ میں پیش کر نا ہے۔

اور یہ دوسری حقیقت پہلی حقیقت کی وضا حت کر تی ہے ۔

اور پہلی حقیقت انسان کا الله کی طرف متوجہ ہونا الله سے براہ راست مستحکم رابطہ ہے ۔۔اور عبادات میں دعا کے علاوہ کو ئی عبادت ایسی نہیں ہے جو اس سے زیادہ انسان کو الله سے قریب کرسکتی ہو

سیف تمار سے مر وی ہے :میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فر ما تے سنا ہے:

<علیکم بالدعاء فانکم لاتتقربون بمثلہ>[10]

”تم دعا کیا کرو خدا سے قریب کر نے میں اس سے بہتر کو ئی چیز نہیں ہے“

جب بھی انسان کی حا جت الله کی طرف عظیم ہوگی اور وہ الله کا زیادہ محتاج ہوگا اور اس کی  طرف وہ زیادہ مضطرہوگاتووہ اتناہی دعاکے ذریعہ الله کی طرف زیادہ متوجہ ہوگا۔

انسان کے اندر الله کی نسبت زیادہ محتاجی کا احساس اور اس کی طرف زیادہ مضطر ہو نے اور دعا کے ذریعہ اس کی بارگاہ میں ہو نے کے درمیان رابطہ طبیعی ہے ۔بیشک ضرورت اور اضطرار کے وقت انسان الله کی پناہ ما نگتا ہے جتنی زیادہ ضرورت ہو گی اتنا ہی انسان الله کی طرف متوجہ ہوگا اور اس

کے بر عکس بھی ایسا ہی ہے یعنی جتنا انسان اپنے کو بے نیاز محسوس کرے گا خدا سے دور ہو تا جا ئیگا۔

الله تعالیٰ فر ماتا ہے :

<کَلَّااِنَّ الِانْسَانَ لَیَطْغیٰ#اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنیٰ>[11]

”بیشک انسان سر کشی کرتا ہے جب وہ اپنے کو بے نیاز خیال کرتا ہے “

بیشک انسان جتنا اپنے کو غنی سمجھتا ہے اتنا ہی وہ الله سے روگردانی کرتا ہے اور سرکشی کرتا ہے اور جتنا اپنے کو فقیر محسوس کرتا ہے اتنا ہی الله سے لو لگاتا ہے ۔قرآن کی تعبیر بہت دقیق ہے :

<اٴَنْ رَاٰہُ اسْتَغْنیٰ>انسان الله سے بے نیاز نہیں ہو سکتا بلکہ انسان الله کا محتاج ہے :

<یَااَیُّھاالنَّاسُ اَنْتُمْ الْفُقَرَاءُ اِلَی اللهِ وَاللهُ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ>[12]

”انسانوں تم سب الله کی بارگاہ کے فقیر ہو اور الله صاحب دو لت اور قابل حمد و ثنا ہے “       

لیکن انسان اپنے کو مستغنی سمجھتا ہے ،انسان کا غرور صرف خیالی ہے ۔

جب انسان اپنے کو الله سے بے نیاز دیکھتا ہے تو اس سے روگردانی کر تا ہے اور سرکش   ہوجاتا ہے ۔

جب اس کو نقصان پہنچتا ہے اور الله کی طرف اپنے مضطر ہو نے کا احساس کر تا ہے تو پلٹ جاتا ہے اور خدا کے سا منے سر جھکا دیتا ہے ۔

معلوم ہوا کہ الله کے سامنے سر جھکا دینے کا نام حقیقت دعا ہے ۔جو الله سے دعا کر تا ہے اور اس کے سا منے گڑگڑاتا ہے تو الله بھی اس کی دعا قبول کر تا ہے ۔

الله کی طرف متوجہ ہونا اور اس سے لو لگانا ہی دعا کی حقیقت، اسکا جوہر اور اس کی قیمت ہے۔

قرآن کریم میں خدا کی بارگاہ میں حاضری کے چار مرحلے

خدا وند عالم نے اپنی بارگاہ میں حاضری کےلئے اپنے بندوں کے سامنے چار راستے رکھے ہیں جن میں دعا سب سے اہم راستہ ہے ان چاروں راستوں کا قر آن و سنت میں تذکرہ ہے ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :انسان کے لئے چار چیزیں انجام دینا اس کے حق میں مفید ہے اور اس میں اس کا کو ئی نقصان نہیں ہے :ایک ایمان اور دوسرے شکر ،خدا وند عالم ارشاد فر ماتا ہے :

<مَایَفْعَلٌ اللهُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ >[13]

”خدا تم پر عذاب کر کے کیا کرے گا اگر تم اس کے شکر گزار اور صاحب ایمان بن جا وٴ“

تیسرے استغفار خداوند عالم ارشاد فر ماتا ہے :

<وَمَاکَانَ اللهُ لِیُعَذِّ بَھُمْ وَاَنْتَ فِیْھِمْ وَمَاکَانَ اللهُ مُعَذِّبَھُمْ وَھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ>[14]

”حا لانکہ الله ان پر اس وقت تک عذاب نہیں کرے گا جب تک ”پیغمبر “آپ ان کے درمیان ہیں اور خدا ان پر عذاب کر نے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کر نے والے ہو جا ئیں “

چوتھے دعا، خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

<قُلْ مَایَعْبَوٴُابِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَادُعَاوٴُکُمْ >[15]

”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعا ئیں نہ ہو تیں تو پرور دگار تمہاری پروا ہ بھی نہ کرتا “

معاویہ بن وہب نے حضرت امام جعفر صادق   سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایاہے:

”یامعاویة !من اُعطیَ ثلاثة لم یُحرم ثلاثة:من اُعطی الدعاء اُعطی الاجابة،ومن اُعطی الشکراُعطی الزیادة،ومن اُعطی التوکل اُعطی الکفایة :فانّ اللّٰہ تعالیٰ یقول فی کتابہ:<وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلی اللهِ فَھُوَحَسْبُہ >[16]

ویقول:<لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَٴزِیْدَ نَّکُمْ >[17]

ویقول:<اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >[18]

”اے معا ویہ !جس کو تین چیزیں عطا کی گئیں وہ تین چیزوں سے محروم نہیں ہوگا :جس کو دعا عطا کی گئی وہ قبول بھی کی جا ئیگی ،جس کو شکر عطا کیا گیا اس کے رزق میں برکت بھی ہو گی اور جس کو توکل عطا کیا گیا وہ اس کے لئے کا فی ہو گا اس لئے کہ خدا وند عالم قر آن کریم میں ارشاد فر ماتا ہے :

<وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلی اللهِ فَھُوَحَسْبُہ >

”اور جو خدا پر بھروسہ کر ے گا خدا اس کے لئے کا فی ہے “

<لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَ نَّکُمْ >

”اگر تم ہمارا شکریہ ادا کروگے تو ہم نعمتوں میں اضافہ کر دیں گے“

<اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >

”اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا “

عبد الله بن ولید وصافی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ کا فرمان ہے :

”ثلاث لایضرمعھن شیٴ:الدعاء عند الکربات،والاستغفارعندالذنب،و  الشکرعندالنعمة“[19]

”تین چیزوں کے ساتھ کوئی چیزضرر نہیں پہنچا سکتی ہے :بے چینی میں دعا کرنا ،گناہ کے وقت استغفار کرنا اور نعمت کے وقت خدا کا شکر ادا کرنا “

الله سے لو لگانے کے یہی ذرائع ہیں اور الله سے لو لگانے کے بہت زیادہ ذرائع ہیں جیسے توبہ، خوف و خشیت ،الله سے محبت اور شوق ،امید ،شکر اور استغفار وغیرہ۔

انسان پر الله سے لو لگانے کے لئے اس طرح کے مختلف راستوں کااختیار کرنا ضروری ہے اور اسلام خدا سے رابطہ رکھنے کے لئے صرف ایک راستہ ہی کو کافی نہیں جانتاہے ۔

خدا سے رابطہ کرنے اور اس کی بارگاہ میں اپنے کو پیش کر نے کا سب سے اہم وسیلہ دعا ہے

کیونکہ فقر اور نیاز مندوں سے زیادہ اور کو ئی چیز انسان کو خدا کی طرف نہیں پہونچا سکتی ہے

پس دعا خدا وند عالم سے رابطے اور لو لگا نے کا سب سے وسیع باب ہے ۔

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

<الحمدللهالذی اُنادیہ کلماشئت لحاجتي واخلوبہ حیث شئت لسّري بغیرشفیع فیقضي لي حاجتي>

”تمام تعریفیں اس خدا کےلئے ہیں جس کو میں آواز دیتا ہوں جب اپنی حا جتیں چا ہتا ہوں اور جس کے ساتھ خلوت کرتا ہوں جب جب اپنے لئے کو ئی رازدار چا ہتا ہوں یعنی سفارش کرنے والے کی حاجت کو پوری کرتا ہے “

دعا ،روح عبادت ہے

دعا عبادت کی روح ہے ؛انسان کی خلقت کی غرض عبادت ہے ؛اور عبادت کر نے کی غرض ۔خدا وند عالم سے شدید رابطہ کرنا ہے ؛اوریہ رابطہ دعا کے ذریعہ ہی محقق ہوتا ہے اور اس کے وسائل وسیع اور قوی ہوتے ہیں :

حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

<الدعاء مخ العبادة ؛ولایھلک مع الدعاء احد >[20]

دعا عبادت کی روح ہے اور دعا کر نے سے کو ئی بھی ہلاک نہیں ہوتا ہے “

اور یہ بھی رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہی کا فر مان ہے :

<افزعواالی اللّٰہ فی حوائجکم،والجاٴواالیہ فی ملمّاتکم،وتضرّعوا الیہ،وادعوہ؛فإنّ الدعاء مخ العبادة ومامن موٴمن یدعوااللّٰہ الّااستجاب،فإمّاان یُعجّلہ لہ فی الدنیااٴویُوٴجّل لہ فی الآخرة ،واِمّااٴَن یُکفّرعنہ من ذنوبہ بقدرمادعا؛ما لم یدع بماٴثم[21]

تم خدا کی بارگاہ میں اپنی حا جتوں کو نالہ و فریاد کے ذریعہ پیش کرو، مشکلوں میں اسی کی پناہ مانگو،اس کے سامنے گڑگڑاوٴ،اسی سے دعا کرو، بیشک دعا عبادت کی روح ہے اور کسی مومن نے دعا نہیں کی مگر یہ کہ اس کی دعا ضرور قبول ہو ئی ،یا تو اسکی دنیا ہی میں جلدی دعا قبول کر لیتا ہے یا اس کو آخرت میں قبول کرے گا،یا بندہ جتنی دعاکرتاہے اتنی مقدارمیںہی اسکے گناہوں کوختم کردیتا ہے۔

گویا روایت ہم کو خدا وند عالم سے دعا کرنے اور ہم کو اس کی بارگاہ میں پیش ہو نے کا طریقہ سکھاتی ہیں ۔

ان فقرات :<افزعواالی اللهفی حوائجکم >”اپنی حا جتیں خدا کی بارگاہ میں پیش کرو “<والجاوٴاالیہ فی ملمّاتکم>”مشکلوں میں اسی کی پناہ مانگو“<وتضرّعواالیہ>”اسی کی بارگاہ میں گڑگڑاوٴ“کے سلسلہ میں غور وفکر کریں ۔

اور دوسری روایت میں حضرت رسول خدا فر ماتے ہیں :

<الدعاء سلاح الموٴمن وعمادالدین >[22]

”دعا مو من کا ہتھیار اور دین کا ستون ہے “

بیشک دعا دین کا ستون ہے اور اس کا مطلب الله کی طرف حرکت کرنا ہے اور الله کی بارگاہ میں اپنے کو پیش کرنے کا نام دعا ہے ۔

اور جب اپنے کو خدا وند عالم کی بارگاہ میں پیش کر نے کا نام دعا ہے تو دعا خدا وندعالم کے نزدیک سب سے محبوب اور سب سے اکرم چیز ہے ۔

حضرت رسول خدا  (ص) فرما تے ہیں :

<مامن شی ء اکرم علیٰ اللّٰہ تعالیٰ من الدعاء >[23]

”خدا وند عالم کے نزدیک سب سے اکرم چیز دعا ہے “

حنان بن سدیر اپنے پدر بزرگوار سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام محمد باقر  کی خدمت اقدس میں عرض کیا :

”ای العبادةافضل؟فقال:”مامن شیٴ اٴحبّ الیٰ اللّٰہ من اٴن یُساٴل ویُطلب مماعندہ،ومااحدابغض الیٰ اللّٰہ عزّوجلّ ممن یستکبرعن عبادتہ ولایساٴل مما عندہ“[24]

”کونسی عبادت سب سے افضل ہے ؟تو آپ (امام )نے فرمایا: خدا وند عالم کے نزدیک سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور خدا وند عالم کے نزدیک سب سے مبغوض شخص وہ ہے جو عبادت کرنے پر غرور کرتا ہے اور خداوند عالم سے کچھ طلب نہیں کرتا “

 بدھ کے دن پڑھی جانے والی دعا میں حضرت امیر المو منین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

<الحمدللهالذی مرضاتہ فی الطلب الیہ،والتماس مالدیہ وسخطہ فی ترک الالحاح فی المساٴلة علیہ>[25]

دعا ء کمیل میں فر ما تے ہیں :

”فَاِنَّکَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبَادِکَ بِعِبَادَتِکَ وَاَمَرْتَھُمْ بِدُعَائِکَ وَضَمِنْتَ لَھُمُ الِاجَابَة،فَاِلَیْکَ یَارَبِّ نَصَبْتُ وَجْھِیْ وَاِلَیْکَ یَارَبِّ مَدَدْتُ یَدِیْ۔۔۔“

”اس لئے کہ تو نے اپنے بندوں کے با رے میں طے کیا ہے کہ وہ تیری عبادت کریں اور تو نے اپنے سے دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور تو اس کے قبول کرنے کا ضامن ہے پس اے خدا !میں نے تیری ہی طرف لو لگا ئی ہے اور اے پروردگار تیری ہی جانب اپنے ہاتھ پھیلائے ہیں “

دعا سے رو گردانی ، خدا وندعالم سے روگردانی ہے

خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے :

<وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ>[26]

”اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا اور یقیناً جو میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے “

اس آیہٴ کریمہ میں عبادت سے استکبار کرنا دعا سے روگردانی کرنا ہے ،پس سیاق آیت کر نے کی دعوت دے رہا ہے ۔خداوند عالم فر ماتا ہے :

<اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >

”مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا“

اور اس کے بعد فوراً فرماتا ہے :

<اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ>[27]

”اور یقیناجو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے “۔

اس آیہٴ کریمہ میں دعا سے اعراض کرنا عبادت نہ کرنے کے مترادف ہے اس لئے کہ یہ الله سے روگردانی کرنا ہے ۔

اور اس آیت کی تفسیر میں یہی معنی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کئے گئے ہیں :

<ھی والله العبادة،ھی والله العبادة>

”خدا کی قسم یہی عبا دت ہے ،خدا کی قسم یہی عبا دت ہے “۔

حماد بن عیسیٰ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے :

”انّ الدعاء ھوالعبادة؛انّ اللّٰہ عزّوجلّ یقول:< اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ>[28]

”بیشک دعا سے مراد عبادت ہے اور خداوند عالم فرماتا ہے :< اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دَاخِرِیْنَ>        

”اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا اور یقیناً جولوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے “

اور الله کے نزدیک دعا اور دعا کی مقدار کے علاوہ انسان کی کو ئی قیمت و ارزش نہیں ہے اور خدا وند عالم اپنے بندے کی اتنی ہی پروا ہ کرتا ہے جتنی وہ دعا کرتا ہے اور اس کو قبول کرتا ہے :

<قُلْ مَایَعْبَوٴُابِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَادُعَاوٴُکُمْ >[29]

”پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہو تیں تو پرور دگار تمہاری پر وا بھی نہ کرتا “

بیشک دعا خداوند عالم کی بارگاہ میں اپنے کو پیش کر نے کے مساوی ہے جیسا کہ دعا سے اعراض(منھ موڑنا) کرنا الله سے اعراض کرنا ہے ۔

اور جو الله سے منھ مو ڑتا ہے تو خدا وند عالم بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا ،اور نہ ہی الله کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت ہے ۔

حضرت امام باقر علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :

<ومااحد ابغض الی اللهعزّوجلّ ممن یستکبرعن عبادتہ،ولایساٴل ما عندہ>[30]

حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :

<لتساٴلنَّ الله اٴولیغضبنّ علیکم،انّللهعبادایعملون فیعطیھم ،وآخرین یساٴلُونہ صادقین فیعطیھم ثم یجمعھُم فی الجنة،فیقول الذین عملوا:ربناعملنا فاعطیتنا،فبمااعطیت ھوٴلاء؟فیقول:ھوٴلاء عبادي اعطیتکم اجورکم ولم التکم من اعمالکم شیئا،وساٴلني ھوٴلاء فاعطیتھم واغنیتھم،وھوفضلي اوتیہ مَنْ اٴشاء> [31]

بیشک الله اپنے بندے کی دعا کا مشتاق ہے

جب بندہ خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا کےلئے حاضرہوتا ہے تو الله اس سے محبت کرتا ہے ۔

اور جب بندہ الله سے روگردانی کرتا ہے تو خدا بھی اسے پسندنہیں کرتا ہے ۔

کبھی کبھی خدا وند عالم اپنے مومن بندے کی دعا مستجاب کرنے میں اس لئے دیر لگا دیتا ہے تاکہ وہ دیر تک اس کی بارگاہ میں کھڑا رہے اوراس سے دعا کرکے گڑگڑاتا رہے۔کیونکہ اسے اپنے بندے کا گڑگڑانابھی پسند ہے اسی لئے وہ دعا اور مناجات کا مشتاق رہتا ہے ۔

عالم آل محمد یعنی امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے :

<انّ اللّٰہ عزّوجلّ لیوٴخّراجابة الموٴمن شوقاًالیٰ دعائہ ویقول:صوتاً احبّ اٴن اسمعہ۔ویعجّل إجابة دعاء المنافق،ویقول:صوتاً اکرہ سماعہ>[32]

”خداوند عالم مومن کی دعا کے شوق میں اس کی دعاکودیر سے مستجاب کرتاہے اور کہتا ہے : مجھے یہ آواز پسندہے اورمنافق کی دعاجلدقبول کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ مجھے اس کی آواز پسند نہیں “

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

<اٴکثروا من اٴن تدعوااللّٰہ،فإنّ اللّٰہ یحبّ من عبادہ الموٴمنین اٴن یدعوہ، وقد وعد عبادہ الموٴمنین الاستجابة>[33]

”تم خدا وند عالم سے بہت زیادہ دعائیں کرو بیشک الله کویہ پسند ہے کہ اس کے مومن بندے اس سے دعائیں کریں اور اس نے اپنے مومن بندوں کی دعا قبول کر نے کا وعدہ کیا ہے“

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے :

<احبّ الاٴعمال إلیٰ اللّٰہ عزّوجلّ فی الاٴرض:الدعاء >[34]

”زمین پر الله کا سب سے پسندیدہ عمل:دعا ہے “

حضرت امام محمدباقر علیہ السلام سے مروی ہے :

<إنّ الموٴمن یساٴل اللّٰہ عزّوجلّ حاجة فیوٴخرعنہ تعجیل اجابتہ حّباً لصوتہ واستماع نحیبہ >[35]

”بیشک جب کوئی مو من الله عز و جل سے کو ئی سوال کرتا ہے تو خدا وندعالم اس مومن کی دعا کی قبولیت میں اس کی آوازکو دوست رکھنے اور سننے کی خاطرتاخیر کرتا ہے “

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

<انّ العبد لید عوفیقول الله عزّوجلّ للملکین:قداستجبت لہ،ولکن احبسوہ بحاجتہ،فانّی اُحبّ ان اسمع صوتہ،وانّ العبدلیدعوفیقول الله تبارک وتعالیٰ:عجلوا لہ حاجتہ فانی ابغض صوتہ>[36]

”جب ایک بندہ خدا وند عز وجل سے دعا مانگتا ہے تو خداوند عالم دو فرشتوں سے کہتا ہے: میں نے اس کی دعا قبول کر لی ہے لیکن تم اس کواس کی حاجت کے ساتھ قید کرلو ،چونکہ مجھے اس کی آواز پسند ہے ،اور جب ایک بندہ دعا کرتا ہے تو خداوندعالم کہتا ہے :اس کی حاجت روا ئی میں جلدی کرو چونکہ مجھے اس کی آواز پسندنہیں ہے “

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

<انّ العبد الولی لله لیدعوالله عزّوجلّ فی الامرینوبہ،فیُقال للملک الموکل بہ:اقض لعبدي حاجتہ،ولاتُعجّلھافانّي اشتھی ان اسمع صوتہ ونداء ہ وانّ العبدالعدولله عزّوجلّ یدعوالله عزّوجلّ فی الامرینوبہ،فیُقال للملک الموکل بہ:اقض حاجتہ، و عجّلھا فانّي اکرہ ان اسمع صوتہ وندائہ >[37]

”الله کو دوست رکھنے والا بندہ دعا کرتے وقت الله کو اپنے امر میں اپنا نائب بنا دیتا ہے تو  خدا وندعالم اس بندے پر موکل فرشتو ں سے کہتا ہے :میرے اس بندے کی حاجت قبول کرلو مگر اسے  پوری کرنے میں ابھی جلدی نہ کرنا چونکہ میں اس کی آواز سننے کو دوست رکھتا ہوں اورجب الله کا دشمن بندہ الله سے دعا کرتے وقت اس کو اپنے کسی کام میں اپنا نائب بنانا چاہتا ہے تو خدا وند عالم اس بندے پر مو کل فرشتوں سے کہتا ہے اس کی حاجت کو پورا کرنے میں جلدی کرو اس لئے کہ میں اس کی آواز سننا پسندنہیں کرتا ہوں “

خداوند عالم کو ہر گز یہ پسند نہیں ہے کہ اس کے بندے ایک دوسرے سے سوال کریں بلکہ اگروہ اپنی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں تواس کو یہی پسند ہے لیکن الله تبارک و تعالیٰ اپنی بارگاہ میں مومنین کے سوال کوپسندکرتا ہے اور اپنے سامنے ان کے گریہ و زاری اور دعا کرنے کو پسند کرتا ہے ۔

حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

<انّ الله احبّ شیئاًلنفسہ وابغضہ لخلقہ،ابغض لخلقہ المساٴلة،واحبّ لنفسہ ان یُساٴل،ولیس شیء احبّ الیٰ الله عزّوجلّ من ان یُساٴل،فلایستحي احدکم من ان یساٴل الله من فضلہ،ولوشسع نعل >[38]

”خدا وند عالم ایک چیز اپنے لئے پسندکرتا ہے لیکن اس کو مخلوق کےلئے پسند نہیں کرتا ،وہ اپنے لئے اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور الله کے نزدیک اس سے سوال کر نے کے علا وہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے پس تم میں سے کو ئی الله سے اس کے فضل کاسوال کرنے میں شرم نہ کرے اگر چہ وہ جو تے کے تسمے کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو “

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے :

<انّ اللّٰہ یحبّ العبد اٴن یطلب الیہ في الجرم العظیم،ویبغض العبد اٴن یستخفّ بالجرم الیسیر >(۱)

”الله بندے کی اس بات کو پسندکرتا ہے کہ وہ اس کو بڑے جرم میں پکارے اور اس بات سے ناراض ہو تا ہے کہ وہ اس کو چھوٹے جرم میں نہ پکارے“    

محمد بن عجلان سے مروی ہے کہ :<اصابتني فاقة شدیدة واضاقة،ولاصدیق لمضیق ولزمني دینٌ ثقیل وعظیم ،یلحّ في المطالبة،فتوجّھت نحودارالحسن بن زید۔وھویومئذاٴمیرالمدینة۔لمعرفة کانت بینی وبینہ،وشعربذلک من حالي محمد بن عبد اللّٰہ بن علي بن الحسین علیہ السلام،وکان بینی وبینہ قدیم معرفة،فلقینی فی الطریق فاٴخذ بیدي وقال:قد بلغني مااٴنت بسبیلہ،فمن توٴمّل لکشف مانزل بک؟

قلت:الحسن بن زید۔فقال اذن لایقضي حاجتک،ولاتسعف بطلبتک، فعلیک بمن یقدرعلی ذلک،وھواجودالاجودین،فالتمس ماتوٴمّلہ من قبلہ،فإنّي سمعت ابن عمي جعفربن محمد یُحدّث عن ابیہ،عن جدہ،عن ابیہ الحسین بن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   (۱)المحا سن للبرقی صفحہ ۲۹۳،بحارالانوارجلد ۹۳ صفحہ ۲۹۲۔

 علي،عن ابیہ علي بن ابیطالب علیہ السلام عن النبي (ص)قال:اوحیٰ اللّٰہ الیٰ بعض انبیائہ فی بعض وحیہ:وعزّتي وجلالي لاٴقطعن اٴمل کل آمل امّل غیري بالإیاس،ولاٴکسونّہ ثوب المذلّة فی الناس،ولاٴبعدنّہ من فَرَجِي وفضلی،اٴیاٴمل عبدي فی الشدائدغیري والشدائدبیدي؟ویرجو سواي واناالغني الجواد؟بیدي مفاتیح الابواب وھی مغلقة،وبابي مفتوح لمن دعاني۔

الم تعلمواانّ من دھاہ نائبة لم یملک کشفھاعنہ غیری،فمالی اٴراہ یاٴملہ معرضا عني وقد اعطیتہ بجودي وکرمي مالم یساٴلني؟

فاٴعْرَضَ عني،ولم یساٴلني،وساٴل فی نائبتہ غیري،واٴنااللّٰہ ابتدیٴ بالعطیة قبل المساٴلة ۔

اٴفاُساٴل فلا اٴجُوَد؟کلّا۔اٴلیس الجود والکرم لي ؟اٴلیس الدنیاوالآخرة بیدي؟فلوانّ اھل سبع سماوات وارضین ساٴلوني جمیعاواعطیت کل واحد منھم مساٴلتہ مانقص ذلک من ملکي مثل جناح البعوضة،وکیف ینقص مُلْک اٴناقیّمہ فیابوٴسا لمن عصاني،ولم یراقبني۔

فقلت لہ:یابن رسول اللّٰہ،اٴعدعليّھذاالحدیث،فاٴعادہ ثلاثاً،فقلت:لا واللّٰہ ماساٴلت احدا بعدھاحاجة ۔فمالبث اٴن جاءَ ني اللّٰہ برزق من عندہ >(۱)

”میں شدید فقر و فاقہ کی زندگی گزار رہا تھا، میری تنگدستی کو دور کرنے والا بھی کو ئی میرا ساتھی نہیں تھا اور مجھ پر دین کی اطاعت بڑی مشکل ہو گئی تھی اور میں اپنی ضروریات زندگی کےلئے چیخ اور چلارہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   (۱)بحار الانوار جلد ۹۳ صفحہ /۳۰۳۔۳۰۴۔

 تھاتو میں نے اس وقت اپنا وظیفہ معلوم کر نے کے لئے حسن بن زید (جو اس وقت مدینہ کے امیر وحاکم تھے) کے گھر کا رخ کیا اور ان تک میرے حالات کی خبر میرے قدیمی ہمنشین محمد بن عبد الله بن علی بن الحسین علیہ السلام نے پہنچا ئی ،میری ان سے راستہ میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑکر کہا :مجھ کو تمہا رے حالات کے بارے میں خبر ملی ہے میں تمہا رے بارے میں نا زل ہو نے والی مشکلات کے بارے میں سوچ رہا ہوں ؟

میں نے کہا :حسن بن زید ،اس نے کہا تمہاری حاجت پوری نہیں ہوگی اور تم اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکتے تم ایسے شخص کے پاس جا ؤ جو تمہاری حاجت روائی کی قدرت رکھتا ہے اور تمام سخا وت کرنے والوں سے زیادہ سخی ہے اپنی مشکلات کےلئے ان کے پاس جاؤ اس لئے کہ میں نے سنا ہے کہ میرے چچازاد بھا ئی جعفر بن محمد علیہما السلام نے اپنے والد کے ذریعہ اپنے جد سے پھر ان کے والد سے حسین بن علی علیہما السلام سے انھوں نے اپنے والد علی بن ابی طالب علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا ہے :خداوند عالم نے اپنے بعض انبیاء علیہم السلام کی طرف وحی   نا زل کی کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے میں ہر اس شخص کی امید ما یو سی میں بدل دو نگا جو میرے  علا وہ کسی اور سے امید لگا ئے گا ،اسے ذلت کا لباس پہنا ؤں گا اور اسے اپنے فضل و کرم سے دور    کر دونگا ۔کیا میرا بندہ مشکلات میںمیرے علاوہ کسی اور سے امید کرتا ہے حالانکہ میں غنی جواد ہوں؟ تمام ابواب کی کنجی میرے ہاتھ میں ہے حالانکہ تمام دروازے بند ہیں اور مجھ سے دعا کرنے والے کےلئے میرا دروازہ کھلا ہوا ہے ۔

کیا تم نہیں جانتے کہ جس کو کو ئی مشکل پیش آئے اس کی مشکل کو میرے علا وہ کو ئی اور دور نہیں کر سکتاتو میں اس کو غیر سے امید رکھتے ہوئے اور خود سے رو گردانی کرتے ہو ئے دیکھتا ہوں جبکہ میں نے اپنی سخا وت اور کرم کے ذریعہ وہ چیزیں عطا کی ہیں جن کا اس نے مجھ سے مطالبہ نہیں کیا ہے ؟

لیکن اس نے مجھ سے رو گردانی کی اور طلب نہیں کیا بلکہ اپنی مشکل میں دو سروں سے ما نگا جبکہ میں ایسا خدا ہوں جو ما نگنے سے پہلے ہی دیدیتا ہوں۔

توکیاایسا ہو سکتا ہے کہ مجھ سے سوال کیا جائے اور میں جود و کرم نہ کروں ؟ایساہر گز نہیں    ہو سکتا۔کیا جود و کرم میرے نہیں ہیں ؟کیا دنیا اور آخرت میرے ہاتھ میں نہیں ہیں ؟اگرسات زمین اور آسمان کے لوگ سب مل کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر ایک کی ضرورت کے مطابق اس کو عطا کردوں تو بھی میری ملکیت میں ایک مچھرکے پَر کے برابر بھی کمی نہیں آئیگی اور کیسے کمی آبھی سکتی ہے جس کا ذمہ دار میں ہوں ،لہٰذا میری مخالفت کرنے والے اور مجھ سے نہ ڈرنے والے پر افسوس ہے ۔

را وی کہتا ہے کہ میں نے امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : اے فرزند رسول اس حدیث کی میرے لئے تکرارفر ما دیجئے تو آپ نے اس حدیث کی تین مرتبہ تکرار فر ما ئی ۔

میں نے عرض کیا :خدا کی قسم آج کے بعد کسی سے کو ئی سوال نہیں کروں گا تو کچھ ہی دیر گذری تھی کہ خدا وند عالم نے مجھ کو اپنی جا نب سے رزق عطا فر مایا “

استجابت دعا

دعا توفیق اور استجا بت کے حصار میں

دعا دو طرف سے الله کی رحمت سے گھری ہوئی ہو تی ہے :الله کی طرف سے توفیق اور دعا کی قبولیت ۔بندے کی دعا الله کی دی ہو ئی توفیق کے علا وہ قبول نہیں ہو تی ہے الله اپنے بندہ کو دعا کر نے کی تو فیق کارزق عطاکرتاہے چونکہ بندہ اس توفیق کے بغیر الله کی بارگاہ میں دعاپیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا لہٰذادعا سے پہلے اس توفیق کا ہو نا ضروری ہے اور جب بندہ خدا سے دعا کر تا ہے تو الله اس کی دعا قبول کرتا ہے :

<اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ >

”مجھ سے دعا کرو میں قبول کرونگا “

تو پہلے الله سے دعا کرنے کی توفیق لازم ہوتی ہے اورپھر دعا بارگاہ معبودمیں قبول ہو تی ہے۔یہ دونوں چیزیں دعاکا احا طہ کئے ہو ئے ہیں ،یہ دونوں الله کی رحمت کے دروازے ہیں جو بندے کےلئے اس کے دعا کرنے سے پہلے اور دعا کرنے کے بعد کھلے رہتے ہیں ۔حضرت رسول خدا  سے مروی ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)سورئہ مو من آیت/ ۶۰۔

<مَنْ فُتح لہ منکم باب الدعاء فتحت لہ اٴبواب الرحمة>(۱)

”تم میں سے جس شخص کےلئے دعا کا دروازہ کھل جا ئے اس کےلئے ابواب رحمت کھل جا تے ہیں “

حضرت امام زین العا بدین علیہ السلام سے مروی ہے :

<فذکروک بمنّک وشکروک >

جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کرتا ہے تو یہ الله کی عصمت اور اس کے فضل کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے وہ (خدا )بندہ کے شکر کا مستحق ہے اور امام زین العا بدین علیہ السلام ہی منا جات خمس عشرہ میں فر ما تے ہیں :

<فَاِنَّابِکَ وَلَکَ وَلَاوَسِیْلَةَ لَنَااِلَیْکَ اِلَّااَنْتَ >

”ہم تیری وجہ سے ہیں اور تیرے لئے ہیں اور ہما رے پاس تیرے علاوہ تیرے پاس آنے کا کو ئی ذریعہ نہیں ہے “

بندہ اپنے پروردگار کو اس کے احسان و فضل کی بناپر ہی یاد کرتا ہے (پہلے خدا وند عالم کا فضل و کرم ہو تا ہے پھر بندہ خدا کو یا د کرتا ہے)،بندے کےلئے الله تک پہنچنے کےلئے اس کے فضل اور رحمت کا ہی وسیلہ ہے ،جب بندہ اپنے پروردگار کو یاد کر تا ہے تو اس کے فضل سے ہی یاد کرتا ہے ،جب دعا کرتا ہے تو یہ اس کی دی ہو ئی توفیق ہی سے دعا کرتا ہے اور جب اس کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اسی کی دی ہو ئی رحمت کی وجہ سے ہی اس کا شکر ادا کرتا ہے ۔حضرت امام حسین علیہ السلام دعا ئے عر فہ میں فر ما تے ہیں:

<لَمْ یَمْنَعُکَ جَھْلِيْ وَجُرْاٴَتِيْ عَلَیْکَ اَنْ دَلَلْتَنِيْ اِلیٰ مَایُقَرِّبُنِيْ اِلَیْکَ وَوَفَّقْتَنِيْ لِمَایُزْلِفُنِيْ لَدَیْکَ>

”تو میری جہا لت اور میری جراٴت نے تجھ کو میری رہنما ئی کرنے سے نہیں روکا ،اس چیز کی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   (۱)در منثور کے نقل کے مطابق المیزان جلد ۲ صفحہ /۴۲۔

طرف جو مجھ کو تجھ سے قریب کر دے اور تو نے مجھ کو تو فیق دی اس امر کی جا نب کہ جو مجھ کو تجھ سے قرب عطا کرے “

دعا کےلئے سب سے نازک چیز دعا کی توفیق ہو نا ہے ،بندہ کو خدا وند عالم سے یہ دعا کرنا     چا ہئے کہ خداوند عالم اس کو دعا کرنے کی توفیق عطا کرے ۔صحیفہ ٴ سجا دیہ کی دعا وٴ ں میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

<وَاْعْمُرْلَیْلِيْ بِاَیْقَاضِيْ فِیْہِ لِعِبَادَتِکَ ،وَاِنْزَالِ حَوَائِجِيْ بِکَ >(۱)         ”اور میر ی راتوں کو عبا دت کےلئے شب بیداری اور تنہا ئی میں تہجد اور سب سے الگ ہو کر تجھ سے لو لگا نے اور اپنی حا جتوں کو تیرے سا منے پیش کر نے کےلئے آباد رکھنا “     حضرت امام جعفر صا دق ، الله سے دعا کی توفیق طلب کرتے ہوئے عرض کر تے ہیں :

<فَاعِنِّيْ عَلیٰ طَاعَتِکَ وَوَفَقّْنِيْ لِمَااَوْجَبْتَ عَلَيَّ مِنْ کُلِّ مَایُرْضِیْکَ فَاِنِّيْ لَمْ اَرَاَحَداًبَلَغَ شَیْئاًمِنْ طَا عَتِکَ اِلَّابِنِعْمَتِکَ عَلَیْہِ قَبْلَ طَاعَتِہِ،فَاَنْعَمْ عَلَيَّ بِنِعْمَةٍاَنَالَ بِھَارِضْوَانُکَ >(۲)

”پس اپنی اطاعت پر میری مدد کر اور مجھے اپنی ادائیگی کی توفیق دے اس طرح کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو تیری اطاعت تک پہونچاہو مگر اطاعت سے پہلے تیری ہی نعمت توفیق کے ذریعہ لہٰذا مجھ پر نعمت نازل کرجن کے ذریعہ میں تیری خو شنودی حاصل کرسکوں“

حضرت امام علی بن الحسین علیہ السلام فر ما تے ہیں :

<اَللَّھُمّ اجْعَلْنِي اَصُوْلَ بِکَ عِنْدَالضَّرُورَةِ وَاَسْاٴَلُکَ عِنْدَ الْحَاجَةِ وَاَتَضَرَّعُ اِلَیْکَ عِنْدَ الْمَسْکَنَةِ وَلَاتَفْتِنِّيْ بِالْاِسْتِعَانَةِ بِغَیْرِکَ اِذَااضْطُرِرْتُ>(۳)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱)صحیفہٴ سجا دیہ دعا /۴۷۔         (۲)بحا ر الانوار جلد ۹۳ صفحہ ۳۲۰۔

   (۳)صحیفہٴ سجادیہ دعا /۲۰۔

”پروردگار !مجھے ایسا بنا دے کہ ضرورت کے وقت تیرے ذریعہ حملہ کروں اور حا جتکے  مو قع پر تجھ سے سوال کروں ،مسکینی میں تیری بارگاہ میں گڑگڑاؤں اور مجھے ایسی آزما ئش میں نہ ڈال دینا کہ مجبوری میں تیرے غیر سے مدد ما نگنے لگوں “

قبولیت دعاکی دو جزائیں

بندہ کی دعا قبول ہونے کی اہمیت خداوند عالم کے یہاں دو جہتوںسے ہے ایک جہت سے نہیں ہے اوران میں سے ایک جہت دوسری جہت سےزیادہ عظیم ہے

 کم اہمیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان سوال کے ذریعہ اس مطلب کا اظہار کرے جس کے ذریعہ انسان الله سے صرف دنیا یاصرف آخرت یاان دونوں کو ایک ساتھ طلب کرتا ہے۔

بیش قیمت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدا وند عالم بنفس نفیس بندہ کی دعا کا جواب دے تو اس کا مطلب خدا وند عالم کا اپنے بندہ کی دعا قبول کرنا ہی ہے کیونکہ جتنی مرتبہ بھی خداوند عالم قبول کرے گا اتنی ہی مرتبہ گویا بندہ کی طرف توجہ کرے گا ۔

دنیا کی ہر چیزکی قیمت اور حد ہوتی ہے لیکن خداوند قدوس کا اپنے بندہ کی طرف متوجہ ہونے کے لئے نہ کوئی حساب ہے اور نہ کو ئی حدہے۔

لیکن جب بندہ پر خدا کی خاص عنایت ہوتی ہے تو اس وقت بندہ کی سعادت کی کوئی حد نہیں ہوتی اور اس سعادت سے بلندکوئی اور سعادت نہیں ہوتی جس کو اللهاپنے بندوں میں سے بعض بندوں سے مخصوص کردیتاہے اور اسکی دعا قبول کرکے یہ نشاندہی کراتا ہے کہ جس چیز کا بندہ نے خدا سے سوال کیا ہے وہ کتنی قیمتی اور اہم ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے :

”لقد دعوت اللّٰہ مرة فاٴستجاب،ونسیت الحاجة،لاٴنّ استجابتہ بإقبالہ علیٰ عبدہ عند دعوتہ اعظم واجل مما یرید منہ العبد،ولوکانت الجنة ونعیمھاالاٴبد ولکن لایعقل ذلک الّاالعالمون،المحبون،العابدون،العارفون، صفوة اللّٰہ وخاصتہ“ (۱)

”میں نے ایک مرتبہ خدا وند عالم سے دعا کی اور اس نے قبول کرلی تو میں اپنی حا جت ہی کو بھول گیا اس لئے کہ اس کا دعا کی قبولیت کے ذریعہ بندہ کی طرف توجہ کرنا بندہ کی حاجت کے مقابلہ میں بہت عظیم ہے چا ہے وہ صاحب حا جت اور اس کی ابدی نعمتوں سے متعلق ہی کیو ں نہ ہو لیکن اس بات کو صرف خداوند عالم کے علماء ،محبین ،عابدین ،عرفاء اور اس کے مخصوص بندے ہی سمجھ سکتے ہیں “

پس دعا اور استجابت دونوں الله اور بندہ کے مابین ایک تعلق ولگاؤ ہے یعنی سب سے افضل و اشرف تعلق ہے۔ اللهاور اسکے بندوں کے درمیان اس سے افضل کونسا تعلق ولگاؤ ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کے حضور میں اپنی حاجت پیش کرے اللهاس کو قبول کرے اور اس سے مخصوص قراردے۔

اس تعلق کی لذت اور نشوونما اور بندہ پر خداوند عالم کی توفیق وعنایات میں اسی وقت مزہ ہے جب انسان اپنی مناجات،ذکر اور دعاکو خداسے مخصوص کردے

 ہم(مولف)کہتے ہیں الله سے اس تعلق ولگاؤ کی لذت یہ بندہ پر الله کی عنایت ہے کہ بندہ اس طرح خداوند عالم کی یاد میںغرق ہوجاتاہے کہ انسان خداکی بارگاہ میں اپنی حا جتیں پیش کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے ۔

اور کون لذت اس لذت کے مقابل ہوسکتی ہے ؟اور کونسی دولت خداوند عالم کے حضور میں پیش ہونے،اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکا تذکرہ کرنے اور اسکے جلال وجمال میں منہمک ہونے کے مانند ہوسکتی ہے اور دعاکرنے کےلئے الله کے سامنے کھڑے ہونا یہ خدا کے سامنے حاضر

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   (۱)مصباح الشریعة صفحہ /۱۴۔۱۵؛بحارالانوارجلد ۹۳ صفحہ۳۲۳۔

ہونے اس سے ملاقات ،مناجات اور اسکو یاد کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

ایک عارف کا کہناہے:الله کے حضور میں الله کے علاوہ کسی اورسے کوئی سوال کرناالله کے نزد یک بہت برا ہے اور خدا کے علاوہ اس کے جلال اور جمال میں منہمک ہوجاناہے۔

رسول خدا  (ص) سے مروی ہے کہ حدیث قدسی میں آیاہے:

”من شغلہ ذکري عن مساٴلتي اعطیتہ افضل مااعطی السائلین “(۱)  

جو شخص مجھ سے کوئی سوال کرے گاتومیں اس کوسوال سے زیادہ عطاکرونگا “

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

”وانّ العبد لتکون لہ الحاجة الی اللّٰہ فیبداٴبالثناء علی اللّٰہ والصلاة علی محمد وآلہ حتّی ینسیٰ حاجتہ فیقضیھامن غیران یساٴلہ ایاھا“(۲)

”اگر بندہ ،خداسے کوئی حاجت رکھتا  ہواور وہ خداوند عالم سے اپنی حاجت کی ابتداء اس کی حمدوثنا اور محمد وآل محمد پر صلوات بھیج کر کرے اور اسی دوران وہ اپنی حاجت بھول جائے تو اس سے پہلے کہ وہ خداوند عالم سے حاجت کا سوال کرے وہ اس کی حاجت پوری کردے گا “

مناجات محبین میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے مروی ہے :

<۔۔۔اِجْعَلْنَامِمَّنْ ھَیَّمْتَ قَلْبَہُ لِاِرَادَتِکَ وَاجْتَبَیْتَہُ لِمُشَاھَدَتِکَ ،وَاَخْلَیْتَ وَجْھَہُ لَکَ وَفَرَّغْتَ فُوٴَادَہُ لِحُبِّکَ وَرَغَّبْتَہُ فِیْمَاعِنْدَکَ ۔۔۔وَقَطَعْتَ عَنْہُ کُلَّ شَيْءٍ یَقْطَعُہُ عَنْکَ >(۳)

next index